fbpx

پاکستان نے دنیا بھر میں ایک بار پھر خود کو منوا لیا ، فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب

الحمداللہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل گیا،پاکستان کمپلائنٹ گروپ میں شامل

باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق فیٹف نے پاکستان کو فالو اپ فہرست میں شامل کرلیا پاکستان نے دو سال کے کم عرصے میں 40 میں سے 31 سفارشات پہ عملدرآمد کرلیا۔

ایف اے ٹی ایف کی تاریخ میں پاکستان میں دو سال میں اتنا موثر کام کرکے مثال قائم کردی-


واضح رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے جون 2021 تک کی مہلت دی تھی۔

رواں ماہ فروری میں ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے پیرس میں تین روزہ اجلاس کے بعد ورچوئل نیوز کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے اعلان کیا تھا –

ڈاکٹر مارکس نے کہا تھا کہ ’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو اعلیٰ سطح پر ایکشن پلان پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، اس وقت پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا۔‘

ایف اے ٹی ایف کا تین روزہ اجلاس پیرس میں ہوا جہاں پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدمات کا جائزہ لینے کے بعد اسے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ایف اے ٹی ایف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے 27 میں سے 24 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’پاکستان جیسے ہی بقیہ نکات پر عمل کرے گا، تو پھر دیکھیں گے کہ پاکستان کا عمل درآمد کتنا پائیدار ہے۔‘

گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے 27 میں سے 21 نکات پر عمل درآمد پر مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے بقیہ چھ نکات پر بھی عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے چھ نکات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑی سطح پر چھان بین اور اس کی تفتیش یقینی بنانا، اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیے گئے افراد کی تفتیش اور ان کے خلاف مقدمے چلانا اور ایسے افراد کے خلاف بھی مقدمے چلانا شامل تھا جو اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد افراد کے ماتحت اِسی طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہوں۔

اس کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ’دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسے بینکوں وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔

تاہم باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 5 جون کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے حوالے سے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور عمل درآمد کو تسلیم کرلیا۔

پاکستان کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے نے پاکستانی اقدامات اور عمل درآمد کی کوششوں کوسراہا ہے، جس میں ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستانی عمل درآمدرپورٹ میں پیشرفت کو تسلیم کرلیا ہے۔

ایشیا پیسفک گروپ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’پاکستان نے سفارشات پر عمل کیلئے14 وفاقی اور 3صوبائی قوانین میں ترامیم کیں، جن سے نظام مضبوط اور مستحکم ہوا۔

اعلامیے کے مطابق ایف اے ٹی ایف ایشیاپیسفک گروپ میوچل ایوالویشن رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اے پی جی کی 40 میں سے 31 سفارشات پر عمل کیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق ’سفارشات پر پاکستان کی جانب سے عمل درآد فیٹف معاملات پر سنجیدگی کوظاہرکرتا ہے‘۔

اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ’پاکستان انسدادمنی لانڈرنگ و دہشت گرد فنانسنگ کی شرط پر پورا اتر چکا ہے جبکہ 21 سفارشات پر غیر معمولی انداز میں عمل درآمد کیا گیا‘۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق 2019میں پاکستان نے10نکات پرعمل درآمد کیا تھا جبکہ تیس باقی تھیں، اب پاکستان 31 نکات پرعمل کرچکا جبکہ 9 باقی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے عمل درآمدر کی تکنیکی رپورٹ اکتوبر2020میں جمع کرائی تھی، جس پر اے پی جی نے غور کیا اور اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

وزارتِ خزانہ نے بتایا تھا کہ ’ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے، پاکستان نے اے پی جی میں دوبارہ درجہ بندی کیلئے رپورٹ بھی جمع کرادی ہے‘

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

نانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 30 سال قبل جی سیون (G-7) ملکوں نے 1989ء میں فرانس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا تھا۔ بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوگئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے اراکین کی تعداد 39 ہے جس میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف سے 8 علاقائی تنظیمیں بھی منسلک ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسفک گروپ کا حصہ ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک موجود ہے۔

ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات تھا۔ امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ دہشت گردی کے لیے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

ٹاسک فورس اپنے کھلے ایجنڈے پر خالصتاً ٹیکنکل بنیادوں پر کام کرتی ہے، اسی لیے اس ٹاسک فورس میں مختلف ملکوں کے ماہرین برائے انسدادِ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ شریک ہوتے ہیں۔

ٹاسک فورس کے موجودہ صدر شیالگمن لو کا تعلق چین سے ہے۔ وہ ایف اے ٹی ایف کے صدر بننے سے قبل چین کے مرکزی بینک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی فنانسنگ کی روک تھام سے متعلق شعبے کے سربراہ تھے۔ شیالگمن چین میں سرمائے کی غیر قانونی نقل و حرکت کے حوالے سے متعدد اقدامات کرچکے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونے والی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کے لیے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔

پاکستان اورپاکستانیوں کےخوشخبری آگئی:ایف اےٹی ایف پاکستان کی کاوشوں کی معترف:کامیابیوں‌ کی تفصیل جاری

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.