fbpx

پاکستان کا وہ صوبہ جس میں کم عمر ملزمان کی تعداد بڑھنے لگی

جیونائل جسٹس سسٹم کےباوجود سندھ میں کم عمر ملزمان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس سلسلے میں سندھ کے جیلوں کی رپورٹ شائع کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت سندھ کی جیلوں میں دو سو سے زائد نو عمر ملزمان ہیں، جن میں سے 126 کراچی، 22 حیدر آباد، سکھر 18 اور لاڑکانہ جیل میں 5 نو عمر ملزمان موجود ہیں۔

جیل رپورٹ کے مطابق انڈر ٹرائل ماؤں کے ہمراہ جیل کاٹنےوالے بچوں کی تعداد چھبیس ہے، ان میں سے کراچی میں 17،حیدرآباد 2، سکھرجیل میں 5بچے ماؤں کے ساتھ موجود ہیں، اس کے علاوہ سکھر جیل میں اٹھارہ اور لاڑکانہ جیل میں پانچ نوعمر قانونی امداد کےمنتظرہیں۔

طاہر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس کم عمر ملزمان کی گرفتاری کےبعد فوری ایف آئی آر سےگریز کرے۔

ایس ایس پی شاہ جہان خان نے بتایا کہ سندھ پولیس کے چائلڈ پروٹیکشن سینٹر معاون ثابت ہورہے ہیں، جس میں بچوں کےخلاف مقدمےکےاندراج سےقبل جرم کی نوعیت کودیکھاجاتا ہے، معمولی نوعیت کےکیسز پر ایف آئی آردرج نہیں کرتے، بچوں کی لڑائی کےکیسزمیں کوشش ہوتی ہےفریقین صلح کرسکیں۔

جووینائل جسٹس ایکٹ کیا ہے؟

سال دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر مجرم بچوں سے متعلق جووینائل جسٹس ایکٹ دو ہزار اٹھارہ نافذ کیا گیا، جس کے تحت دس سال سے کم عمر کا بچہ کوئی بھی جرم کرے تو وہ جرم تصور نہیں ہو گا اور دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے جرائم کا فیصلہ اس نئے قانون کے تحت کیا جائے گا۔

اس قانون کے تحت بچوں کے جرائم کے تین درجے بنائے گئے، چھوٹے جرائم انہیں کہا گیا جن کی سزا تین سال سے کم ہے، بڑے جرائم وہ ہیں جن کی سزا سات سال ہے اور سنگین جرائم انہیں قرار دیا گیا جن کی سزا سات سال سے زیادہ ہے۔