پاکستان کو عظیم ملک بنانا مشکل ہے ناممکن نہیں،وزیراعظم

0
23

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ پاکستان کو عظیم تر ملک بنانا ہے تو یہ کام مشکل ضرور ہے تاہم ناممکن نہیں، بار اور بنچ اگر اکھٹے نہیں ہوں گے تو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی بات کون کرے گا، سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے ہم سب نے اپنا کردار اداکرنا ہوگا، اگر ہم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی.

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی،75 سال بعد آج بھی کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں اور ہمارے ہمسائے ہم سے معاشی اور سماجی اعتبار سے بازی کے گئے، وکلا کو الاٹمنٹ لیٹرز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، اگر ہم کمر باندھ لیں تو پاکستان ایک عظیم ملک بن جائے گا تاہم یہ تقاریر سے نہیں عمل اور عزم سے ہو گا، یہاں وسائل، اذہان، انسانی قوت موجود ہے، سردیوں میں گیس کے انتظام میں لگے ہیں، جب گیس سستی ترین تھی ہم نے پرواہ نہیں کی، دنیا نے طویل المدتی معاہدے کئے، آج 40 سنٹ میں گیس مہنگی مل رہی ہے، آپ ایسے پیشہ سے وابستہ ہیں جو باوقار ہے۔

وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وکلاء کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے اور ایک مکمل ضابطہ کے تحت قرعہ اندازی کے بعد الاٹیز میں الاٹمنٹ لیٹر تقسیم کئے گئے، اس ہائوسنگ کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، وزیر قانون اور وزیر ہائوسنگ نے اس ضمن میں بھرپور کام کیا، اب یہ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اس ہائوسنگ سکیم میں ترقیاتی کاموں کے حوالہ سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پورے ملک میں سیلاب نے ایک تباہی مچائی ہوئی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے اپنے علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی شدید تباہی کا مشاہدہ کیا ہو گا، یہ قدرتی آفت ایک ایسے وقت میں آئی جب پہلے ہی ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور معاشی عدم استحکام کو کسی حد تک کنٹرول کیا لیکن مہنگائی اپنے عروج پر ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں، 11 اپریل کو جب حکومت تبدیل ہوئی تو ڈیڑھ ماہ ہم فیصلے کرنے میں شش و پنج کا شکار تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں یہاں سیاست نہیں قومی امور پر بات کرنے کیلئے آیا ہوں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی گذشتہ حکومت نے پاسداری نہیں کی اور بری طرح اس کی دھجیاں بکھیریں جس پر آئی ایم ایف نے گذشتہ حکومت کی طے کردہ شرائط پر عملدرآمد سے پروگرام کو مشروط کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وکلاء برادری کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ کیا آج 75 سال بعد پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے کیا پاکستان اس لئے معرض وجود میں آیا تھا اور قائداعظم جو ایک ماہر قانون دان تھے انہوں نے جس بصیرت اور وژن کے ساتھ علامہ اقبال کے ساتھ مل کر پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کیلئے عظیم تحریک چلائی تھی اور لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی ان قربانیوں کے طفیل پاکستان معرض وجود میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا دورہ کیا، اس وقت بھی اس علاقہ میں پانی کھڑا ہے، پٹ فیڈر کینال کی بھل صفائی کیلئے اقدامات جاری ہیں، وہاں لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا، لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں سے بچھڑ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، آپ سے استدعا ہے کہ آپ ملک میں قانون کی حکمرانی اور پاسداری چاہتے ہیں اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں نظریہ ضرورت بھی دریافت ہوا، پاکستان ہی نہیں دنیا کی تاریخ میں وکلاء نے اپنی عظیم تحریک سے ججز بحالی کی تحریک چلائی، وکلاء کو یہ مقام جدوجہد سے ملا ہے، انہوں نے اس کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں، ان تمام تر ترجیحات اور کامیابیوں کے بعد آج 75 سال بعد ہم ایک دائرے میں ہی چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری طاقت ہونے کے بعد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا ہے لیکن معاشی اعتبار سے بہت سے چھوٹے ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں، آج 75 سال بعد بھی ہم کشکول لے کر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس سے چولہے بھی جلتے ہیں، گاڑیاں بھی چلتی ہیں اس کی قلت کا سامنا ہے، قوم ہم سے یہ سوال پوچھتی ہے کہ قائداعظم کا خواب آج بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور آج بھی ہم اس ملک کے اندر غربت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، بے روزگاری کے خلاف لڑ رہے ہیں، جن ممالک کے ساتھ ہمارا مقابلہ تھا، ہندوستان میں روپے کی قدر ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے بہت آگے ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام طبقات جو تاریخ کا رخ موڑنے کی استعداد کے حامل تھے ان سے قوم یہ سوال پوچھتی ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے، سیلاب متاثرین کی زندگی مشکلات کا شکار ہے، 6 لاکھ متاثرہ علاقوں کی خواتین حاملہ ہیں، ان کیلئے کتنی مشکلات ہیں، یہاں بیٹھ کر اس کا اندازہ نہیں کر سکتے، سیلاب سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس وقت موسم گرم ہے تاہم موسم سرما میں انہیں شدید مشکلات درپیش ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت اب نہیں یا کبھی نہیں والی صورتحال ہے، اگر قوم کو ہم نے فائدہ نہ پہنچایا اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بار اور بنچ اگر اکٹھے نہیں ہوں گے تو انصاف اور قانون و آئین کی حکمرانی کی بات کون کرے گا، آئین پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف کون کھڑا ہو گا، وکلاء کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے، آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے قومیں ہم سے آگے کیسے بڑھ گئیں بطور وزیراعظم اس کا جواب سب سے پہلے مجھے دینا ہے، وکلاء سیلاب میں گھرے ان لاکھوں لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے گھر زمین بوس ہو چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، اس دکھی انسانیت کے بارے میں بھی ضرور سوچیں، اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وکلاء کیلئے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر سینئر وکلاء میں الاٹمنٹ لیٹر بھی تقسیم کئے۔

Leave a reply