fbpx

پاکستان میں دی گئی اسلامی طلاق برطانیہ میں قابل قبول نہیں ہوگی برطانوی عدالت

برطانیہ کی ہائی کورٹ کی ایک جج نے فیصلہ دیا ہے کہ پاکستان میں دی گئی اسلامی طلاق برطانیہ میں قابل قبول نہیں ہونی چاہیے کیونکہ انگلینڈ اور ویلز کے قوانین کے تحت مختلف قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

باغی ٹی وی : لندن ہائی کورٹ کی جج مسز جسٹس اربتھناٹ نے ایک ایسے جوڑے کے درمیان خاندانی عدالت میں کیس کا فیصلہ سنایا جن کی شادی ٹوٹ گئی تھی اور دونوں اپنے مقدمات عدالت میں لے گئے تھے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ پاکستان میں دی گئی پہلی طلاق برطانیہ میں جائز ہے یا نہیں۔

عاصم حسین نے کہا کہ اس کی بیوی نازیہ پروین سے شادی ، جو تقریبا 14 سال قبل پاکستان میں ہوئی تھی ، کو منسوخ کر دینا چاہیے کیونکہ وہ ابھی اپنے پہلے شوہر سے شادی شدہ تھی جب وہ شادی کر رہی تھی۔

عاصم حسین نے عدالت کو بتایا کہ نازیہ پروین کی اپنے پہلے شوہر سے اسلامی طلاق کو انگریزی قانون کے تحت انگلینڈ میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب نازیہ پروین نے اختلاف کیا اور عدالت کو بتایا کہ ان کے پہلے شوہر سے ان کی طلاق کو انگلینڈ میں تسلیم کیا جانا چاہیے اور اسے حتمی اور جائز قرار دیا جانا چاہیے۔

لندن ہائی کورٹ کی جج مسز اربتھناٹ نے عاصم حسین کے حق میں فیصلہ سنادیا۔اور اس بات پر زور دیا کہ ان کا فیصلہ "پہلی” طلاق کی درستگی اور شناخت سے متعلق ہے جو کہ انگلینڈ اور ویلز کے قانونی دائرہ اختیار میں ہے۔

جج نے کہا کہ اس کے فیصلے نے طلاق اور پاکستان میں دوسری شادی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!