fbpx

پی آئی اے نے کام کرنا کیوں بند کردیا ، سی ای او پی آئی اے نے بڑا انکشاف کر دیا

اسلام آباد(محمداویس )پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں سی ای اوپی آئی اے ارشدملک نے انکشاف کیاہے کہاکہ نیب ایف آئی اےاورآڈٹ کے ڈر سے میری ٹیم نے کام کرنابندکردیاہے ،پی آئی اے کادس سال کاآڈٹ کرچکے اب دوبارہ آڈٹ کرنے کاکہاجارہاہے ،ساراوقت آڈٹ،میٹنگوں اور وضاحتوں میں گزررہاہے تو پی آئی اے کوکس طرح ٹھیک کریں گے ،کمیٹی نے سفارش کی کہ پی آئی اے کا دس سال کاآڈٹ ہوگیاہے تو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے،

پی آئی اے کی کاکردگی کوبہتربنایاجائے ۔جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی( جائزہ و عملدر آمد) کا اجلاس کنوینر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا، کمیٹی میں شاہد اخترعلی ،جبکہ ریاض فتیانہ ان لائن شریک ہوئے ۔اجلاس میں ایوی ایشن ڈویژن کے سال 2004-05سے 2009-10تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس شروع ہواتوایازصاد ق نے کہاکہ آج اخباروں میں پی آئی اے کے علاوہ کوئی خبر ہی نہیں ہے ۔

پی آئی اے نے مختلف وزارتوں اداروں کے پیسے دینے ہیں ان کابھی بتایاجائے جس پر پی آئی اے حکام نےکہاکہ پی آئی اے نے بھی مختلف اداروں سے پیسے لینے ہیں اور وہ دے نہیں رہے ہیں ۔جس پر کمیٹی نے ان وزارتوںاور سرکاری اداروں کی لسٹ مانگ لی جنہون نے پی آئی اے کوپیسے دینے ہیں ۔پی آئی اے پرفضائی پابندی کے حوالے سے حکام نے بتایاکہ پی آئی اےکاآڈٹ عالمی ادارے نے کرلیاہے سول ایوی ایشن کا آڈٹ ہوگا تو پابندی ختم ہوسکے گئی جون میں سی اے اے کاآڈٹ شیڈول ہے آڈٹ میں پی آئی اے کلئیر ہوگیا ہے فضائی پابندی کی وجہ سے پی آئی اے کوبہت زیادہ نقصان ہواہے ۔ریکوڈیک کی وجہ سے پی آئی اے کے بیرون ملک پراپرٹی کو سیز کیے جانے کے سوال پر حکام نے کمیٹی کوکہاکہ ان دی ریکارڈ اس حوالے سے نہیں بتاسکتے ہیں کمیٹی کو ان کیمر ہ بریفنگ دے دیں گے ۔نئے فلائٹس کے حوالے سے کمیٹی کوبتایاگیاکہ ژوب کے لیے رمضان کے بعد فلائٹ شروع کی جائے گی جبکہ دالبندین کے لیے بھی فلائٹس شروع کریں گے ۔ریاض فتیانہ سیکرٹری ایوی ایشن سے شکایت کی کہ ہوائی اڈوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے

مسافروں کے ساتھ بھی نارواسلوک کیاجاتاہے اس کوٹھیک کیاجائے سیکرٹری صاحب پروٹوکول کے بغیر جائیں اور حالات دیکھیں ۔جس پر کمیٹی نے سیکرٹری ایوی ایشن کوبغیرپروٹوکول ائیرپورٹس کے دورے کرنے اورحالات ٹھیک کرنے کی ہدایت کردی ۔پی آئی اے کے سابقہ ادوارکے 43 پیروں میں سے صرف ایک پیرے سیٹل ہوااور باقی تمام پیروں کے لیے 30 سے 60 دن کے اندر ڈی اے سی میں مسئلے حل کرنے کی ہدایت کی ۔سیٹل ہونے والاپیر جعلی چیک کے حوالے سے تھاجس کی مالیت 127عشاریہ 44ملین روپے کاتھی کو جزوی سیٹل کردیاکمیٹی نے کہاجو رقم ریکورہوچکی ہے اور مجرموں کاکیس عدالت میں ہے اس لیے جو رقم ریکورہوگئی ہے وہ سیٹل ہے اور اس سٹیل کوعدالت میں ثبوت کے طور پر نہیں پیش کیاجاسکے گا۔ایاز صادق نے سی ای او ارشد ملک سے پوچھ کہ کیااس سب کے بعد آ پ کابلڈ پریشر ہائی نہیں ہوتا جس پر سی ای اوارشدملک نے جواب دیا کہ بلڈ پریشر تو چھوٹی چیز ہے اور کے بعد کمیٹی کے سامنے پی آئی اے کے حوالے سے مسائل پر پھٹ پڑے اورکہاکہ نیب ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے ڈار کی وجہ سے میری ٹیم نے کام کرنابندکردیاہے میراسارا وقت کمیٹیوں آڈٹ حکام ودیگرکووضاحتیں دیتے ہوئے گزجاتاہے جبکہ پی آئی اے کے سارے کام روکے رہتے ہیں پی آئی اے کا سپریم کورٹ کے حکم پر دس سال کاآڈٹ کیا ہے ہر سال آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور بین الاقوامی داروں سے بھی آڈٹ کرتے ہیں اب دوبارہ کابینہ نے فیصلہ کیاہےکہ پی آئی اے کادس کادوبارہ آڈٹ کیاجائے گا

جب ایک مرتبہ سپریم کورٹ کے حکم پر پی آئی اے کاآڈٹ مکمل ہوگیاہے تو دوبارہ کرنے کی کیاضرورت ہے جب میں سی ای او لگاتو اس کے بعد گذشتہ تین سال کاآڈٹ مکمل کیااب فیصلہ ہوا ہے کہ پہلے پی آئی اے کاآڈٹ آڈیٹرجنرل آف پاکستان نے کیاہے اس لیے اب دس سال کاآڈٹ پرائیوٹ فرم سے کیاجائے گا۔ہمارا سارا وقت آڈٹ میٹنگوں ،کمیٹیوںاوردیگراداروں کے سامنے پیشیوں میں گزر جاتاہے تو ہم پی آئی اے کوکیا وقت دیں گے ۔نجی فضائی کمپنی ایک دن میں نئے طیارے خرید لیتاہے جبکہ میں چھ ماہ میں بھی طیارے نہیں خرید سکاہوں ۔گذشتہ 20 سال کے آڈٹ اعتراضات کی صفائیاں پیش کررہےہیں پہلے سال آیا تو پی آئی اے کومنافع میں لے گئے مگر اب میری ٹیم نے نیب، ایف آئی اے اور آڈٹ حکام کے ڈر کی وجہ سے کام کرناہی بندکردیاہے پی آئی اے ایک کمرشل ادارہ ہے اس کوکمرشل ادارے کی طرح چلائیں گے تو ٹھیک ہوگا میری ٹیم نے جو فیصلے کئے اس پر اگر ان پر مقدمات بنیں گے توکون کام کرئے گاعملی طور پرمیری ٹیم نے کام کرنابندکردیاہے ۔ جس پر کنوئینرسب کمیٹی پی اے سی ایاز صاد ق نے کہاکہ اگر دس سال کاایک مرتبہ آڈٹ ہوچکاہے تو دوبارہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم اس حوالے سے سفارش کریں گے اور وزیرہوابازی سے بھی بات کریں گے جبکہ انہوں نے ریاض فتیانہ کوبھی اس حوالے سے وزیراعظم سے بات کرنے کاکہاتاکہ ایک کام دوبارہ نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.