وزیر اعظم شہباز شریف نے طارق باجوہ کو معاون خصوصی تعینات کردیا ہے.
کابینہ ڈویژن نے طارق باجوہ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے طارق باجوہ معاون خصوصی برائےخزانہ ہوں گے. نوٹیفکیشن کے مطابق؛ طارق باجوہ کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہوگا اس کے ساتھ ہی طارق باجوہ کی تعیناتی کے بعد کابینہ کا حجم 75 تک پہنچ گیا ہے.
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ دنوں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی کو معاون خصوصی برائے وزیراعظم پاکستان نامزد کیا گیا تھا. وزیر اعظم آفس کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فیصل کنڈی سمیت مزید آٹھ معاونین خصوصی تعینات کردیئے تھے جس کے بعد کابینہ کے اراکین کی مجموعی تعداد مزید بڑھ گئی تھی۔
کابینہ میں شامل ہونے والے آٹھوں معاونین خصوصی کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ نئے معاونین میں فیصل کریم کنڈی کے علاوہ نوابزادہ افتخار خان، مہر ارشاد سیال، رضا ربانی کھر، مہیش کمار ملانی، سردار سلیم، تسنیم احمد قریشی اور محمد علی شاہ باچا شامل تھے. خیال رہے کہ کئی حلقوں میں 8 معاونین خصوصی تعینات کرنے کے فیصلے کو ہدف تنقید بنایا گیا اور اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا. ناقدین نے دعوی کیا کہ ان آٹھ معاونین خصوصی کے تقرر کے بعد وفاقی کابینہ کا حجم تقریبا 70 کے قریب ہو گیا جو اب 75 کو چھو رہا ہے. ناقدین کے مطابق؛ ان میں چونتیس وزرا، سات وزیر مملکت، چار مشیر اور پچیس معاونین خصوصی شامل ہیں لہذا خواہ مخواہ اتنے معاونین رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے.
مزید یہ بھی پڑھیں؛ امریکا کا یوکرین کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا نیا پیکج مہیا کرنے کا اعلان
آرمی چیف کی امریکی سیکریٹری دفاع،مشیر برائے قومی سلامتی اور ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ سے ملاقات
ڈوبنے والے مزدور کو بچانے کی کوشش ،باپ، دو بیٹوں سمیت چار افراد جاں بحق
ناقدین کا کہنا تھا کہ ملکی خزانے کو لوٹنے کے لیے مزید لوگوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایک طرف شہباز شریف سرکاری خرچے پر دورے کر رہے ہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے معاونین خصوصی رکھ لیے ہیں، جس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا۔‘‘