fbpx

وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب موضع ملوٹ میں کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ برقرار ہے

وزیر اعظم کی رہائش سے چند فرلانگ دوری پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ،انتظامیہ اور پولیس کی پراسرار خاموشی کئی سوالات کو جنم دینے لگی

پارک ویو سوسائٹی کے لیگل ایڈوائزر کی جانب سے تھانہ بنی گالہ میں رپٹ درج کرائی گئی ،جس میں پارک ویو انتظامیہ اور علیم خان نے قبضہ گروپ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا

تھانہ بنی گالہ میں درج رپورٹ میں کہا گیا کہ پارک ویو سوسائٹی موضع ملوٹ میں واقعہ ہے ،پارک ویو سوسائٹی 2016 میں شروع کی گئی، پارک ویو کی زمین خریدی گئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیئے گئے، موضع ملوٹ میں جہانگیر وغیرہ اور ملک طاہر وغیرہ کا آپس میں زمین کا تنازعہ چل رہا ہے،مذکورہ تنازعہ سے میرے موکل کا کوئی تعلق نا ہے، سوشل میڈیا پر میرے موکل کے خلاف زہر آلود مواد اور وڈیو گردش کر رہی ہے، جس سے میرے موکل کی ساکھ اور شخصیت کو نقصان پہنچا ہے،میرے موکل کو شدید ذہنی کوفت اورکاروبار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، استدعا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے،

رپٹ میں سائل کو ایف آئی اے درخواست بمع وڈیو رجوع کرنے کا کہا گیا ہے

موضع ملوٹ کے مالکان کا کیس بھی عدالت میں زیر سماعت ہے ،پارک ویو سوسائٹی کا عدالت کی جانب سے این او سی کینسل کیا گیا تھا ،علیم خان نے ہائیکورٹ میں اپیل کی جہاں سول کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا تھا

مالکان کا کہنا ہے کہ ملک طاہر علیم خان کا فرنٹ مین ہے ، ملک طاہر پارک ویو مرکزی آفس واقع بلیو ایریا کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہے، ملک طاہر نے پارک ویو سوسائیٹی کے لیئے علیم خان کو زمین اسی طرح قبضہ کر کے دیتا رہا، ملک طاہر کے پاس قبضہ مافیا اور اشتہاری افراد کی کثیر تعداد میں موجود ہیں، سوسائٹی کے خلاف دوسرے مالکان نے بھی کیس بھی دائر کر رکھا ہے، ماضی میں بھی ہوائی شاملات کے حقوق لے کر ملکیتی زمینوں پر قبضے کیئے گئے، ہوائی شاملات کے حقوق چند ہزار میں ملتے ہیں جبکہ ملکیتی زمین کی قیمت لاکھوں میں ہے،

مالکان کا کہنا ہے کہ ملک طاہر کو علیم خان کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، ریوینو اور مقامی پولیس ملک طاہر اور علیم خان کے کنٹرول میں ہے، محکمہ مال میں زمینوں کے کاغذات میں ردوبدل کی گئی جس کے ثبوت موجود ہیں،جس کا ثبوت پولیس مقامی افراد پر 3 ایف آئی آر دے چکی ہے،ہماری درجنوں درخواستیں پولیس نے داخل دفتر کر دی اور کوئی کاروائی نا کی، کچھ دن پہلے مسلح افراد بمعہ 3 بلڈوزر ہماری مالکیتی زمین میں داخل ہوئے، قبضے کی کوشش میں جان سے مارنے کی غرض سے سیدھی فائرنگ کی گئی،جس کی اطلاع ہم نے تھانہ میں دی،

مالکان کا کہنا ہے کہ پولیس نے قبضہ گروپ کے خلاف کاروائی کی بجائے انسدادی کاروائی کی، انسدادی کاروائی میں مقامی بزرگ مالکان کے نام ڈالے گئے، انسدادی کاروائی میں قبضے کی کوشش کرنے والے اصل شخص ملک طاہر کا نام علیم خان کے دباو پر نا ڈالا گیا، وزیر اعظم عمران خان نے غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرنے والے کو صوبائی وزیر بنا دیا،وزیر اعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ ریاست مدینہ کی باتیں صرف تقریروں میں کرنے کی بجائے اس پر عمل بھی کریں،

مالکان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے لیئے ہم نے انصاف اور تبدیلی کی خاطر ووٹ دیا،وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ وزراء کی غیر قانونی کاروائیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ہمیں انصاف دیں، آٹا چینی کی ایف آئی رپورٹ پر تو وزیر اعظم نے ایکشن لیالیکن قبضہ مافیہ میں ملوث وزراء کو کیوں کھلی چھوٹ دی گئی ہے، مقامی مالکان کو بااثر قبضہ مافیا سے تحفظ فراہم نا کیا گیا تو پریس کلب کے باہر احتجاج کیاجائےگا، چیف جسٹس پاکستان سے بھی اپیل ہے کہ اس معاملے میں ازخود نوٹس لیں،

گزشتہ برس 10 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے بورڈ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور موضع ملوٹ میں واقعʼʼ پارک ویو سٹیʼʼ اسلام آباد کے مالک علیم خان کو ملوٹ کے مقامی لوگوں کی اراضی زبردستی ایکوائر کرنے کا اختیار دینے سے متعلق اپنی نوعیت کے واحد مقدمہ کا تحریری عبوری حکمنامہ جاری کیا تھا،

چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کے دوران مذکورہ اراضی کے استعمال کو تاحکم ثانی روکتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی ،فاضل عدالت نے ہفتہ کے روز 4 صفحات پر مشتمل تحریر ی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ عوامی اہمیت کا ایک نہایت اہم معاملہ ہے،جس پر عدالت کو سخت تشویش ہے، درخواست گزار فرحان مصطفےٰ نے پارک ویو سٹی اسلام آباد کے مالک علیم اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے .