برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تورودت

تورو دت 04 مارچ 1856 کو بنگال کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئیں۔
0
83

تورودت

تورو دت برطانوی راج میں انگریزی اور فرانسیسی زبان کی ہندستانی شاعرہ، ناول نگار اور مترجم تھیں۔ انہوں نے ہندوستانی ادب کو انگریزی زبان میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق بنگال سے تھا۔04 مارچ 1856ء کو پید ہوئیں، ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے بعد خاندان سمیت عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ فرانس اور انگلستان کے سفر اختیار کیے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ اپنی تخلیقیات سے انگریزی ادب پر گہرے نقش چھوڑے۔ وہ ہندوستان کی پہلی ناول نگار ہیں جنہوں فرانسیسی زبان میں ناول تحریر کیا۔

حالات زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔
تورو دت 04 مارچ 1856 کو بنگال کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ والد گووند چند دت کو سنسکرت اور قدیم ہندو تہذیب میں تعلیم و تربیت سے دلچسپی تھی۔تورو دت جب 6 سال کی تھیں کہ ان کا سارا خاندان عیسائی ہوگیا۔ تورو دت اور ان کا خاندان 1868ء میں یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ 1870ء میں فرانس کے بعد اس خاندان کے لوگ انگلستان چلے گئے۔ فرانس میں تورو اور اس کی بہن آرو نے اسکول میں داخلہ لیا تھا، لیکن اسکول چھوڑ کر گھر پر ہی فراانسیسی زبان سیکھی۔ 1871ء میں نیونہم کالج، جامعہ کیمبرج میں داخل ہوئیں، وہاں انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ وہ ستمبر 1873ء میں ہندوستان واپس آگئیں۔ جو کارنامے انہوں نے اپنے پیچھے چھوڑے وہ علمی نقطہ نظر سے ایک فن کارانہ اور قیمتی ذخریرہ ہیں۔ اگر انہیں زیادہ عمر ملی ہوتی تو دنیا کو ہندوستانی پرانوں اور کہانیوں سے کافی واقفیت ہو جاتی۔ انہوں نے جو تراجم کیے ان سے ہندوستان کی عزت بڑھی۔ ادب کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دے کر سنسکرت زبان سے سیتا، لکشمی دھرو تیرملا کی کہانیوں کو انگرزی زبان میں متعارف کرایا۔ انہوں نے فرانسیسی زبان میں ایک ناول بھی لکھا تھا جو ان کے وفات کے بعد فرانس سے شائع ہوا۔
جیون برکش (The Tree of Life)، کنول اور The Casrive فرانسیسی زبان میں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ انہوں نے مسیح کی تعلیمات کے عنوان پر نظمیں لکھیں۔ وہ ایک عیسائی خاتون تھیں جنہوں نے سماج کی خدمت مختلف طریقوں سے انجام دی اور مادرِ وطن کا نام نام بھی روشن کیا۔
وفات
۔۔۔۔۔۔
تورو دت 30 اگست، 1877ء کو بنگال کے شہر کلکتہ میں انتقال کر گئیں۔ ان کی تدفین کلکتہ کے مانکتلا کرسچن قبرستان میں ہوئی۔

Leave a reply