Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

۹/۱۱ سے عالمی نظام تبدیل، بین الاقوامی قانونی ڈھانچہ کمزور ہوا: مشاہد حسین

مشاہد حسین
مصنف:

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کے حملوں نے عالمی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سلامتی کے ماحول میں نمایاں تبدیلی آئی اور ایک طویل ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ شروع ہوئی، جس کے اثرات حملوں کے فوری بعد تک محدود نہیں رہے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگوں نے انسانی جانوں اور معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچایا، بین الاقوامی قانونی نظام کو کمزور کیا، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور امریکہ کی بالادستی پر مبنی یک قطبی عالمی نظام کے خاتمے کو تیز کیا۔ عالمی نظام میں اس تبدیلی کے دور میں پاکستان ایک مضبوط اور ثابت قدم ملک کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد ،کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، بحریہ یونیورسٹی، اسلام آباد کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی نشست’۹/۱۱ کے ۲۵ سال: وہ دن جس نے دنیا بدل دی ‘ میں کیا گیا۔ نشست میں پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید، آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان اور بحریہ یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ڈاکٹر سائرہ نواز عباسی نے اظہار خیال کیا۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ۹/۱۱نے عالمی طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کیا اور امریکہ کی یک قطبی بالادستی کے زوال کے عمل کو تیز کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا امریکہ کا حملوں کے جواب میں ردعمل متناسب تھا، اور کہا کہ بعد ازاں اس واقعے کو وسیع تر جغرافیائی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا۔۹/۱۱سے قبل کے بعض پیش رفتوں، بالخصوص ’پروجیکٹ فار دی نیو امریکن سنچری‘ اور مشرق وسطیٰ کی تشکیل نو کی اس کی وکالت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی تبدیلی اور فوجی مداخلت امریکی تزویراتی سوچ کا مستقل حصہ بن چکے تھے۔

براؤن یونیورسٹی کے ’کاسٹس آف وار‘ مطالعے کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مشاہد حسین نے کہا کہ ۹/۱۱ کے بعد ہونے والی جنگوں نے انسانی جانوں اور مالی وسائل کی بھاری قیمت ادا کی۔ امریکہ نے ان جنگوں پر تقریباً ۸ کھرب ڈالر خرچ کیے، براہ راست ہلاکتوں کی تعداد تقریباً ۱۰ لاکھ رہی، جبکہ بالواسطہ ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ تھیں اور کروڑوں افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف افغانستان میں امریکی مداخلت پر دو دہائیوں کے دوران تقریباً ۲کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطلوبہ تزویراتی مقاصد کے حصول میں ناکامی نے فوجی مداخلت کی حدود کو نمایاں کیا اور امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔

افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے مشاہد حسین نے کہا کہ ۹/۱۱ کے بعد کا دور خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ ان کے مطابق افغانستان میں مسلط کیے گئے سیاسی انتظامات ملک کی تاریخی اور سماجی حقیقتوں کو پوری طرح ملحوظ خاطر رکھنے میں ناکام رہے، جبکہ پاکستان خصوصاً سابق فاٹا کے علاقے میں شدید عدم استحکام کا شکار ہوا۔ انہوں نے امریکی قبضے کے دوران افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ میں مسلسل اضافے کو بھی۹/۱۱ کے بعد کے ماحول کا ایک اہم نتیجہ قرار دیا۔

عالمی سطح پر اس کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے امریکی جنگی اخراجات کا موازنہ اسی عرصے کے دوران چین کی اقتصادی روابط اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ سے کیا اور کہا کہ اس فرق نے چین کے عروج میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن کی قیادت میں روس کی بعد ازاں بحالی اور پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک میں ابھرنے والی درمیانی درجے کی طاقتوں کا بھی ذکر کیا اور انہیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ایک اہم رجحان قرار دیا۔

مشاہد حسین نے ۹/۱۱کے بعد کے دور کے دیرپا اثرات میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کے فروغ کو بھی نمایاں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے بعض حصوں میں دائیں بازو کی سیاسی تحریکوں میں اضافہ ہوا، جبکہ موجودہ کشیدگی کا تعلق اسلام اور مغرب کے درمیان تاریخی بیانیوں سے بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان متضاد تاریخی اور جغرافیائی سیاسی تصورات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ حقائق اور پروپیگنڈے میں واضح فرق کرنا ضروری ہے۔

اپنے خطاب میں خالد رحمان نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا اعلان دہشت گردی کو بنیادی طور پر ایک فوجداری معاملہ سمجھنے کے طریقۂ کار سے نمایاں انحراف تھا، جس میں تحقیقات اور مقدمات کے ذریعے کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۹/۱۱ کے بعد کے ردعمل کے سنگین ترین نتائج میں بین الاقوامی قانونی نظام کا کمزور ہونا شامل ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل اہمیت پر بھی زور دیا۔

ڈاکٹر سائرہ نواز نے کہا کہ۹/۱۱ کا مطالعہ اس بات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ نظام میں تبدیلی کس طرح تشکیل پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں اپنے داخلی اور بین الاقوامی مفادات کے حصول کے لیے تقریر اور بیانیے کے ذریعے کسی مخصوص مسئلے کو سلامتی کا معاملہ بنا دیتی ہیں۔ صدر بش نے بھی اسی طریقۂ کار کو استعمال کرتے ہوئے۹/۱۱ کے واقعے کو امریکی سلامتی کے مسئلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق سلامتی کوئی معروضی مظہر نہیں بلکہ ہر ریاستی فاعل کے لیے ایک موضوعی معاملہ ہے۔

نشست نے۹/۱۱ اور اس کے بعد شروع ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے طویل مدتی جغرافیائی سیاسی، قانونی، معاشی اور معاشرتی اثرات کا تنقیدی جائزہ لینے اور گزشتہ ۲۵برس کے دوران عالمی نظام میں آنے والی تبدیلیوں پر غور کا موقع فراہم کیا۔