3 سال میں ہونے والے کام کو 3 ماہ میں کرکے دکھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،فیصل کریم کنڈی

پشاور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘آپ نے گھبرانا نہیں ہے مشکل وقت بھی آئے گا’ لیکن اس صوبے کو ‘انشا اللہ باقی صوبوں سے آگے لے جائیں گے،فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 3 سال میں ہونے والے کام کو 3 ماہ میں کرکے دکھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر غیر مؤثر اہلکاروں کو تبدیل بھی کیا جائے گا۔
گور خیبر پختونخوا کےپریس سیکرٹری کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے علاوہ کل ہی تشکیل دی گئی ایڈوائزری کونسل کے اراکین، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنو راج نافذ کرنے کے بعد صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچےمیں متعدد تبدیلیاں کیں جن میں صوبے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، سکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظا می امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ کاقیام، صوبے میں فوج کی تعیناتی ، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ پولیس افسران کا تبادلہ اور ایڈو وکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ آج پہلا دن ہے جب میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں ایک پیج پر ہیں اور اب دہشت گردی کےخلاف جنگ مل کر لڑی جائے گی گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے اہلکاروں کو صوبائی حکو مت کی جانب سے وہ تعاون حاصل نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا سب سے زیادہ مشکل کام ان لوگوں کا تھا جو یہ جنگ لڑ رہے تھے اور جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے تھے تو یہاں پہ کوئی (شہدا کے) جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتا تھا۔
محسن نقوی نے صوبائی حکومت کے بارے میں مزید کہا کہ یہ دہشتگردی کے خلاف ہونے کا دعویٰ تو کرتی تھی لیکن عملی اقدام اٹھانے سے گریز کرتی تھی۔ ہم نے یہ ڈھائی سال میں دیکھا اورایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں درجنوں دفعہ ہم نےان لوگوں سےدرخواست کی پلیز آپ (د ہشت گردی کے خلاف جنگ میں) ہمارے ساتھ آئیں، صوبائی حکومت کی قیادت اور تعاون کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ ایک بات ضرور نوٹ کریں کہ جب حکومت ان کا ساتھ دے گی، اور ان کی قیادت کرے گی تو یہی فو رس اور یہی لوگ آپ کو رزلٹ دیں گےنشیب و فراز آئیں گے اور ایک دن میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی لیکن آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں ہے خاص طور پہ جو ایڈوائزرز ہیں اور باقی سارے لوگ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل سے مشکل وقت بھی آئے گا جس کا ہم سب نے، آپ نے، گورنر صاحب نے، کور نے، پولیس نے، ایڈمنسٹریشن نے، فیڈرل گورنمنٹ نے، ہم نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہےدہشتگردوں میں ‘کوئی اتنی سکت نہیں ہے’ اور ان کے خلاف جنگ میں جو صوبائی حکومت کی حمایت کی کمی تھی وہ ‘ہم پورا کرنے کی کوشش کریں گے’ اور ‘آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے-
انہوں نے تجویز دی کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے 5 اضلاع پر مشتمل منصوبے پر عمل کیا جائے، جس کے تحت 6 ماہ کے پہلے مرحلے میں پولیس اور باقی اداروں کی استعداد بڑھائی جائے پولیس کو تحفظ، سہو لتیں اور جدید اسلحہ فراہم کیے بغیر اس سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نےپولیس کی بہتری کے لیے گورنر اور کور کمانڈر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مجوزہ اقدامات پولیس کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گےایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی صورت حال پر خیبرپختونخوا کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف کر تے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عوام نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا یہ لوگ چاہتے تھے کہ سڑکیں بند ہوں اور پو رے صوبے میں بدامنی پھیلے، لیکن صوبہ پُرامن رہا،عوام کا پیغام واضح ہے کہ وہ دہشت گردی سے نجات اور امن چاہتے ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر ہوں گے اور ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں سمیت کئی اہم معاملات ہیں، لیکن دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ سب سے پہلی ترجیح ہے۔ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سمیت متعلقہ اداروں کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ ان کے بقول، ترقیاتی کاموں میں کمی کی جا سکتی ہے، لیکن سکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت کی ٹیم کو مختصر وقت میں اپنی کارکردگی ثابت کرنا ہوگی۔ اگر ریاست، وفاقی حکومت اور عوام نے اعتماد کیا ہے تو اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات کام کرنا ہوگا 13 سال میں ہونے والے کام کو 3 ماہ میں کرکے دکھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر غیر مؤثر اہلکاروں کو تبدیل بھی کیا جائے گا۔
گورنر نے کہا کہ حکومت کو نمائشی سرگرمیوں اور فوٹو سیشن کے بجائے ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتائج امن کی صورت میں نظر آئیں۔ انتظامیہ کو غیر ضروری معاملات میں الجھنے کے بجائے اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دینی ہوگی، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور وز یر ستان سمیت صوبے کے کئی علاقے برسوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں، جہاں لوگ آزادانہ سفر اور معمول کی زندگی گزارنے سے محر وم ہیں، حکومت کی کوشش ہونی چاہیے کہ ان علاقوں کےشہریوں کو بھی محفوظ ماحول اور وہ سہولتیں میسر ہوں جو ملک کےدوسرے حصو ں میں لوگوں کو حاصل ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں پانی، سستی بجلی، تیل، گیس، معدنیات، تمباکو اور سیاحت کے وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ یہ خطہ قدیم تہذیبوں کا بھی مرکز رہا ہے۔ تاہم امن کے بغیر ان وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانا، سرمایہ کاری لانا اور سیاحت کو فروغ دینا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ ماضی میں مختلف اداروں کے درمیان رابطوں اور ترجیحات میں جو خلا رہا، اسے اب ختم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، اپیکس کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوں گے اور تمام ادارے قریبی رابطے اور مسلسل نگرانی کے ذریعے عملی نتائج حاصل کرنے پر توجہ دیں گے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق میٹنگ کے آغاز میں امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے دیرینہ مسائل، خواہ ان کا تعلق تعلیم صحت یا شہروں میں معیار زندگی سے ہو، ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کیونکہ ان تمام امور کا براہ راست تعلق عوامی کی سیکورٹی اور پائیدار امن کے ساتھ ہے۔ اگر چہ، یہ پہلو ماضی میں نظر انداز ہوتا رہا ہے۔
اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا فورم نے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط، موثر اور فیصلہ کن اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
فورم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، فورم نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی عملی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ان اداروں کو جدید آلات ، ضروری گاڑیوں، بکتر بندگاڑیوں، موٹر اسلحے اور مطلوبہ فری سمیت تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔
فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور صوبے میں امن وامان کا قیام تمام ریاستی اداروں کا مشتر کہ مقصد اور اولین تر جیح ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھو تہ نہیں کیا جائے گا اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے، سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور پسماندہ و متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی توجہ دی جائے گی۔
فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل کے حل ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات کی عوام کی دہلیز تک فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں عوامی تجاویز ، ضروریات اور مقامی ترجیحات کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات کا حصہ بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں





