صارفین سے ٹیکس وصول کرکے جیب میں ڈالنے والے کاروبار رعایت کے مستحق نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آراصلاحات کا جائزہ اجلاس ہوا،دوران اجلاس انہوں نے پیداواری شعبوں میں سیلز ٹیکس کیلئے پیداوار کی نگرانی مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پیداوار کی خود کار نگرانی کا نظام نصب کرنے میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔
اجلاس کے شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3سال میں حکومتی اقدامات سے 1.3 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا,وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پیداواری شعبے میں رضاکارانہ نگرانی کا نظام نصب کرنے والے کاروبار قابل تحسین ہیں،فیس لیس نظام کے تحت کیمروں سے پیداوار کی نگرانی مؤثر بنائی جا رہی ہے،ٹیکس کی مکمل استعداد کے حصول کیلئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے سیمنٹ کے شعبے میں پیداوار کی نگرانی کے نظام کی آڈٹ رپورٹ کی تعریف کرتے ہوئے وزارت آئی ٹی کو ہدایت کی کہ دیگر شعبوں میں بھی پیداوار کی نگرانی کے نظام کی مؤثریت کا آڈٹ کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹیکس مانیٹرنگ سسٹم مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل، پیک شدہ پانی، جوس اور دودھ کے شعبوں میں اس کی تنصیب جاری ہے اور متعلقہ آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بعض صنعتوں کی جانب سے مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب پر مزاحمت سامنے آئی، تاہم نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، جے کے اسپننگ ملز، سورتی انٹرپرائزز، انٹرلوپ لمیٹڈ، فیصل اسپننگ ملز، ابراہیم فائبرز لمیٹڈ، سیفائر ٹیکسٹائلز لمیٹڈ اور نشاط چونیاں نے حکومتی اقدامات کے تحت رضاکارانہ طور پر یہ نظام نصب کیا ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اسٹیل، پولٹری اور ٹائروں کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک مکمل کرلی جائے گی، جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، پیپر اینڈ بورڈ اور آئل و گھی کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 30 اکتوبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے,حکام کے مطابق ان تمام پیداواری شعبوں میں مانیٹرنگ سسٹم رواں سال 31 دسمبر تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔
شہبازشریف نے مزید کہا کہ ٹیکس کی مکمل استعداد کے مطابق وصولی عوام کی حقیقی خدمت ہے،ٹیم نے شب و روز محنت کے بعد ملکی ٹیکس استعداد کا بہترین جائزہ پیش کیا, انہوں نے ٹیکس استعداد رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کی پذیرائی کی اور ارکان میں شیلڈز تقسیم کیں, وز یراعظم نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی جامع ٹیکس رپورٹ کی بھی پذیرائی کی اور شیلڈز پیش کی گئیں۔





