بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد

مصنف:

بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی


وفاقی عدالت نے بشری بی بی کی درخواست مسترد کرنے کا آرڈر جاری کر دیا،چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی مین دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔

وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل مسترد کرنے کا وجوہات پر مبنی تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے تین صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔وفاقی آئینی عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل 61 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی۔ متفرق درخواست کے ذریعے عدالت سے استدعا کی گئی کہ اپیل دائر کرنے میں ہونے والی تاخیر کو نظرانداز کیا جائے۔ تاخیر کی وجہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں قید کو قرار دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل دائر کرنے میں 61 دن کی تاخیر کو نظرانداز کیا جاتا ہے، تاہم بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل مسترد کی جاتی ہے۔وفاقی آئینی عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 30 اپریل کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ دورانِ سماعت بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے میاں نواز شریف کیس کا حوالہ دیا۔تحریری فیصلے کے مطابق بشریٰ بی بی کی مرکزی اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر کی جا چکی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ متوازی جائزے کے بجائے مرکزی اپیل پر فیصلے کو جلد یقینی بنایا جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت اس مرحلے پر مداخلت نہ کرنا مناسب سمجھتی ہے۔ توقع ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی اپیل پر جلد فیصلہ کرے گی اور غیر ضروری التوا کی حوصلہ شکنی کرے گی۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی،سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آئے، جبکہ سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں نے ہمیشہ خواتین کے معاملات میں نرم گوشہ رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کا کنڈکٹ گزشتہ 13 ماہ کے دوران قابل اعتراض رہا اور نیب نے متعدد سماعتوں پر التوا لیا۔ وکیل کے مطابق نیب نے سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض کیا۔

سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت کا قانونی جواز پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کی بنیاد پر بھی سزا معطل کرنے کی استدعا کی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ کیس میں تمام تر توجہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر مرکوز رہی۔چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اس وقت عدالت کے سامنے سزا معطلی کا کیس ہے، اس لیے میرٹ پر نہ جایا جائے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ عام طور پر مرکزی اپیل سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے پر سزا معطلی کی درخواست دائر کی جاتی ہے، تاہم اس کیس میں مرکزی اپیل کتنی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی؟سماعت مکمل ہونے پر چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آرڈر کا انتظار کریں۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر کو تحریری دلائل کے نکات جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔