بھارت: خوف و دہشت کی علامت نیلا ڈرم قتل کیس، مسکان اور بوائے فرینڈ کو سزائے موت کا حکم

بھارت کی ایک مقامی عدالت نے گزشتہ سال مرچنٹ نیوی کے افسر کے قتل کیس میں ان کی اہلیہ مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔
مسکان اور ساحل کو دو ہفتے قبل مجرم قرار دیا گیا تھا، جبکہ اس سزا کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا۔ کنکریٹ سے بھرا ہوا ایک نیلا پلاسٹک کا ڈرم اس قتل کیس کی علامت اور انتہائی اہم ثبوت بن گیا۔
بھارتی جج نے 126 سماعتوں اور 22 گواہوں کے بیانات کے بعد فیصلہ سنایا کہ رستوگی اور شکلا نے سوربھ راجپوت کو قتل کرنے کی سازش رچائی اور لاش کے ٹکڑے کرکے نیلے رنگ کے صنعتی ڈرم میں چھپا دیے۔
جج نے تبصرہ کیا تھا کہ اس طرح کے جرائم معاشرے میں بڑے پیمانے پر خوف پیدا کرتے ہیں۔ پولیس کیس کے مطابق 3 مارچ 2025 کو مسکان رستوگی نے اندرا نگر میں واقع اپنے گھر پر اپنے شوہر سوربھ راجپوت کو کھانے میں نشہ آور چیز ملا کر بے ہوش کر دیا تھا۔
جس کے تھوڑی دیر بعد ساحل شکلا وہاں پہنچ گیا، اور دونوں نے مل کر راجپوت کو چاقو سے قتل کرنے کے بعد باتھ روم میں اس کے جسم کے ٹکڑے کر دیے۔
تفتیش سے انکشاف ہوا کہ لاش کے گلنے سڑنے کی بدبو کو چھپانے کے لیے انہوں نے جسم کے کٹے ہوئے حصوں کو ایک بڑے نیلے پلاسٹک کے ڈرم میں بھرا، اس میں ریت، پانی اور سیمنٹ کا تازہ تیار کردہ گیلا مرکب ڈالا اور اسے بند کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں




