خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتال میں شوکت خانم سے منسلک سافٹ وئیر سے بڑا فراڈ، لاکھوں ٹیسٹوں کا حساب غائب

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتال میں شوکت خانم سے منسلک سافٹ وئیر کے ذریعے بڑا فراڈ، 1 لاکھ 35 ہزار ٹیسٹوں کا حساب کہاں گیا؟
انکوائری کے بعد لیبارٹری آمدن 130فیصد بڑھ گئیں، انکوائری رپورٹ کے مطابق 9لاکھ 30ہزار ٹیسٹوں کے مقابلے میں صرف 7لاکھ 94ہزار انوائسز کا ریکارڈ، روزانہ 100 مریضوں کی کیٹیگری تبدیل کرنے کی نشاندہی ہوئی ۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں لیبارٹری ٹیسٹوں اور انوائسز کے ریکارڈ میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد کا فرق سامنے آگیا۔خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 9 لاکھ 30 ہزار لیبارٹری ٹیسٹوں کے مقابلے میں صرف 7 لاکھ 94 ہزار انوائسز ریکارڈ پر موجود تھیں۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی لیبارٹری میں ٹیسٹوں اور انوائسز کے ریکارڈ میں فرق سے ماہانہ 70 لاکھ روپے نقصان ہونے کا انکشاف ہوا۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں انکوائری کے بعد لیبارٹری کی آمدن میں 130 فیصد سے زائد اضافہ رپورٹ ہوا۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں شوکت خانم کینسر ہسپتال سے منسلک سافٹ ویئر کے ذریعے لیبارٹری ریکارڈ میں بڑے فرق کی نشاندہی کی گئی ۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انکوائری رپورٹ میں روزانہ تقریباً 100 مریضوں کی کیٹیگری تبدیل کرنے کی نشاندہی کی گئی ۔
مبینہ طور پر مریضوں کی کیٹیگری تبدیل کرکے ان کے ٹیسٹ کم قیمت میں شمار کرنے کیلئے ڈیٹا صبح کی اوپی ڈی میں منتقل کیا جاتا تھا،ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران شوکت خانم ہسپتال سے ریکارڈ طلب کیا گیا تو مبینہ طور پر ایک لاکھ 35 ہزار ٹیسٹوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا،خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انکوائری کمیٹی نے معاملے پر مزید کارروائی کی سفارش کی، ہسپتال ڈائریکٹر نے خط کے ذریعے متعلقہ آئی ٹی سیکشن کو ریکارڈ فراہم کرنے سے روک دیا،خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں لیبارٹری آمدن میں کمی کی شکایت پر ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران ٹیسٹوں اور انوائسز کی تعداد میں فرق سامنے آیا،خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انکوائری میں بار کوڈنگ سسٹم نافذ نہ ہونے اور نگرانی کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
ٹیسٹوں، انوائسز اور مالی اندراجات میں فرق کی مکمل وضاحت اور ذمہ داران کا تعین نہ ہونے پر سوالات اٹھ گئے۔انکوائری رپورٹ میں ٹیسٹوں اور انوائسز کے فرق کو مالی خوردبرد کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا گیا، تاہم ہر ٹیسٹ اور مالی اندراج کی باقاعدہ جانچ کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق سافٹ ویئر مفت فراہم کیا گیا تھا، اس کے استعمال پر شوکت خانم ہسپتال کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔
پشاور کے تین تدریسی ہسپتالوں ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ اور ایچ ایم سی سمیت ایم ٹی آئی ایکٹ 2015 کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں متعلقہ سافٹ ویئر نصب کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق سافٹ ویئر کے ڈیٹا تک رسائی محدود ہونے اور اندراجات میں تبدیلی اور ڈیلیٹ کرنے کی سہولت کے باعث شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔انکوائری افسر نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا معاملہ ادھورا قرار دے دیا، صرف شام کی اوپی ڈی میں مسائل سامنے آنے پر صبح کی اوپی ڈی کے ریکارڈ کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔
انکوائری افسر کے مطابق مریضوں کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد کو فراہم کرنا طبی اخلاقیات کے خلاف ہے۔خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں لیبارٹری ٹیسٹوں، انوائسز، مریضوں کی کیٹیگریز اور مالی وصولیوں کے ریکارڈ کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا گیا ۔ متعلقہ انکوائری افسران نے معاملے پر مزید کارروائی کی امید ظاہر کردی، ذرائع کے مطابق مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی مزید تحقیقات ضروری ہیں۔
مزید پڑھیں





