بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

باپ کی خودداری اور اولاد کی ذمہ داری،تحریر: نور فاطمہ

نقطہ نظر
noor fatimah1

باپ کا مال اولاد جس آسانی سے کھاتی ہے، اولاد کا مال باپ کے لیے اسی آسانی سے استعمال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا کڑوا سچ ہے جسے سمجھنے کے لیے صرف عقل نہیں بلکہ احساس، محبت اور رشتوں کی نزاکت کو سمجھنے والا دل بھی چاہیے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنی پوری زندگی کی کمائی، محنت، جوانی اور خواہشات اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیتا ہے۔ وہ اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر بچوں کی خوشیوں کو ترجیح دیتا ہے، ان کے خواب پورے کرنے کے لیے اپنی نیندیں قربان کرتا ہے اور ان کی کامیابی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سمجھتا ہے۔ وہ یہ سب کسی احسان کے طور پر نہیں کرتا بلکہ باپ ہونے کے ناتے اپنی ذمہ داری اور محبت سمجھ کر نبھاتا ہے۔


ایک باپ جب اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرتے، کامیاب ہوتے اور زندگی میں آگے بڑھتے دیکھتا ہے تو اس کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ اسے اپنی محنت کا صلہ بچوں کی کامیابی، ان کے روشن مستقبل اور ان کی خوشیوں میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد کو وہ مشکلات نہ دیکھنی پڑیں جن سے گزر کر اس نے زندگی کا سفر طے کیا۔ اسی لیے وہ اپنی خواہشات کو محدود کرتا ہے، اپنی ضروریات میں کمی کرتا ہے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر بچوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ حالات بدل جاتے ہیں۔ بچے بڑے ہو جاتے ہیں، تعلیم مکمل کرتے ہیں، روزگار حاصل کرتے ہیں اور اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر اکثر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی کامیابی کے پیچھے ایک باپ کی عمر بھر کی محنت اور بے شمار قربانیاں شامل ہیں۔


باپ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی خودداری ہے۔ وہ ساری زندگی اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کرتا ہے، لیکن جب بڑھاپے میں اسے کسی مالی مدد کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ اکثر اپنی زبان سے کچھ کہنے سے گریز کرتا ہے۔ اس کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہی بچوں کے سامنے اپنی ضرورت بیان کرے یا ان سے پیسے مانگے۔ جس شخص نے ہمیشہ اپنے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی ہو، اس کے لیے اپنی ضرورت کو الفاظ میں بیان کرنا بعض اوقات بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی خاموشی کو بے نیازی نہ سمجھا جائے، کیونکہ کئی مرتبہ اس خاموشی کے پیچھے خودداری، جھجک اور اپنے بچوں پر بوجھ نہ بننے کی خواہش چھپی ہوتی ہے۔


افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے مادہ پرست دور میں رشتوں کے درمیان احساس کی جگہ مصروفیات اور ذاتی ترجیحات نے لے لی ہے۔ اولاد اپنے کیریئر، کاروبار، ملازمت، گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں میں اس قدر الجھ جاتی ہے کہ والدین کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ باپ کو شاید بڑی مالی مدد کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کے لیے یہ احساس بہت قیمتی ہوتا ہے کہ اس کی اولاد اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ کبھی اس کی خیریت دریافت کرنا، کبھی اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنا، اس کی پسند کا خیال رکھنا اور کبھی بغیر کسی وجہ کے اس کے ہاتھ میں کچھ رقم رکھ دینا، ایسے چھوٹے عمل ہیں جو اس کے دل کو خوشی سے بھر سکتے ہیں۔


اولاد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ والد کی مدد کرنا صرف پیسے دینے کا نام نہیں۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہونے دی جائے۔ اگر والد کو مالی تعاون کی ضرورت ہو تو اسے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ اسے اپنی محتاجی کا احساس نہ ہو۔ اسے یہ نہ لگے کہ وہ اپنے ہی گھر میں کسی کی توجہ یا مدد کا محتاج ہے۔ محبت سے دی گئی مدد اور احسان جتا کر دی گئی رقم میں بہت فرق ہوتا ہے۔ پہلی چیز رشتوں کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ دوسری دلوں میں فاصلے پیدا کر سکتی ہے۔ باپ کو سہارا دیتے ہوئے اس کی خودداری کا احترام کرنا ہی اولاد کی سمجھ داری اور تربیت کی علامت ہے۔


اسلام بھی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور خدمت کی تعلیم دیتا ہے۔ والدین نے بچپن میں ہماری کمزوریوں کو برداشت کیا، ہماری غلطیوں کو معاف کیا اور ہماری ضروریات کو اپنی ضرورتوں پر ترجیح دی۔ اب جب وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ جائیں جہاں انہیں ہماری توجہ اور تعاون کی ضرورت ہو تو ان کا خیال رکھنا ہمارا اخلاقی اور دینی فرض بن جاتا ہے۔ یہ سوچنا درست نہیں کہ والد نے ماضی میں جو کچھ کیا، وہ ان کی ذمہ داری تھی، اس لیے اب ہمیں ان کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ والدین کی خدمت کوئی قرض کی واپسی یا احسان کا بدلہ نہیں، بلکہ محبت، شکرگزاری اور انسانی اقدار کا تقاضا ہے۔


ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دولت، عہدہ اور کامیابی ہمیشہ ساتھ نہیں رہتے، لیکن والدین کی دعائیں اور ان کی محبت زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آج ہمارے والد ہمارے ساتھ ہیں تو ان کی قدر کریں، ان کی بات سنیں، ان کی ضروریات کو سمجھیں اور ان کے لیے وقت نکالیں۔ ان کے خاموش چہرے کے پیچھے چھپی پریشانی کو محسوس کریں، کیونکہ ہر باپ اپنی تکلیف بیان کرنے کا عادی نہیں ہوتا۔ کبھی اس کی خاموشی کو پڑھنے کی کوشش کریں، کبھی اس کے دل کا حال پوچھیں اور کبھی اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ آج بھی ہمارے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا ہم اس کے لیے بچپن میں اہم تھے۔


باپ کی خودداری کو سمجھنا اور اس کا سہارا بننا اولاد کی حقیقی ذمہ داری ہے۔ والد کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت سمجھیں، اس کی خدمت کو احسان نہیں بلکہ اپنا فرض جانیں اور اس کی ضروریات پوری کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کا خاص خیال رکھیں۔ یاد رکھیے، باپ ہمیشہ دولت کا طلبگار نہیں ہوتا، بعض اوقات اسے صرف چند محبت بھرے الفاظ، تھوڑی سی توجہ، عزت اور اپنائیت درکار ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے والدین کو ان کی زندگی میں محبت، احترام اور سکون دے سکیں تو یہی ہماری تربیت، کامیابی اور انسانیت کی اصل پہچان ہے۔