اب تک ہے بسی سانسوں میں اقرارکی خوشبو،شاعر:زبیر احمد
نقطہ نظر
مصنف:
اب تک ہے بسی سانسوں میں اقرارکی خوشبو
یعنی وہ ترے اور مرے پیار کی خوشبو
جذبات نے الفاظ کا جب اوڑھا لبادہ
سانسوں میں اترنے لگی اظہار کی خوشبو
بے وجہ اندیشوں سے دھڑکنے لگے جب دل
تسکین مجھے دیتی ہے اشعار کی خوشبو
ہر روز ہی آجاتی ہے ملنے کو تیری یاد
جیسا کہ میری سانس سے اخبار کی خوشبو
شاخوں کی جبینیں بھی ہوئیں پھولوں سے خالی
اپنے لیے باقی ھے بس اب خار کی خوشبو
ہاں اٹھ کے چلے جانا ہی بہتر ہے ہمارا
آتی ہے تیری بزم سے اغیار کی خوشبو
زبیر احمد
مزید پڑھیں





