جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میں کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کروں،تحریر:فائزہ شہزاد

نقطہ نظر

آج صبح سے ہی دل نہایت بوجھل ہےـ آنکھ کھلتے ہی جیسے موبائل اٹھایا تو روح لرز گئی اور آنکھوں میں بے اختیار آنسو گئےـ اُن والدین کی تڑپ کا سوچ کر دل دہل گیا کہ صبح سویرے ماؤں نے کس چاہت سے، محبت سے بچوں کو اٹھایا ہوگا؟ کسی بچے نے کہا ہو گا: " مورے! آج دل نہیں کررہاـ" ماں نے پیار سے بال سنوارتے ہوئے کہا ہوگا: " نہ میرے بچے! چھٹی کروگے تو کام رہ جائے گا، آخر میرے چاند نے بڑا افسر بننا ہےـ" پیار سے نوالے بنا بنا کر کھلا کر اُنہیں تیار کرکے ماتھے پر بوسہ دیا ہوگا، مگر انہیں کیا معلوم کہ یہ آخری بوسہ ہوگا اور موت کی دیوی بازو وا کیئے اُن فرشتوں کے انتظار میں کھڑی ہےـ ذہن میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ آ گیا جو اتنے سالوں کے بعد بھی ہم سب کو رلاتا ہےـ آج پھر ویسا ہی حادثہ ہوگیا مگر فرق اتنا کہ وہ ظالم دہشت گرد تھے اور آج کے حادثہ میں لالچ اور پیسے کے پجاری تھے ۔۔۔ جی بالکل میری نظر میں یہ حادثہ لالچ صرف پیسے کی لالچ کی وجہ سے ہوا ہےـ ایک ٹیچر ماہوش زمان نے ہسپتال کے بستر پر لیٹے کہا: " مُجھے ایک دم ایسا لگا گویا آسمان گرگیا ہوـ" وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں آسمان تو گرا ہے اُن بچوں پر، اُن کے گھر والوں پر ۔۔ وہ معصوم پھولوں جیسے بچے جن کی عمریں سات سے سترہ سال کے درمیان تھیں، جنہوں نے ابھی تو قلم پکڑ کر چلنا سیکھا تھا، جن کی آنکھوں میں سنہرے خواب تھے مگر ظالموں نے وہ سب چھین لیےـ

بارہ سو کے قریب بچے، نرسری سے پانچویں جماعت تک ۔۔۔ تین منزلہ عمارت میں کیسے؟ پولیس کے بیان کے مطابق " چھت پر تعمیراتی وزن زیادہ تھا اور ڈھانچہ کمزور تھاـ" اب یہ لالچ کی انتہا نہیں تو کیا ہے؟ کہ اسکول کے مالکان نے یہ سوچا ہی نہیں کہ جب بنیاد کمزور ہوگی تو اتنا بوجھ کیسے اٹھا سکے گی؟ یعنی پیسوں کی لالچ نے ایک اور منزل کا سوچا جو 28 سے زیادہ معصوموں کی جان لے گیاـ وہ تو شہادت کا رتبہ حاصل کر گئے مگر اپنے لواحقین کو عمر بھر کا روگ دے گئے ـ

سوال یہ نہیں کہ چھت کیوں گری؟ سوال یہ ہے کہ

پشاور کے اندرونی محلے میں بارہ سو بچوں کا اسکول کیسے منظور ہوا ؟ عمارت کا نقشہ اور یہ تیسری منزل ڈالنے کا سرٹیفکیٹ کس نے دیا اور کیا اِس عمارت کا معائنہ کیا گیا تھا؟

وہ بچے جو کتابیں لئے انکھوں میں خوابوں کے دیپ جلائے آئے تھے، کفن اوڑھے خاک میں سو گئے اور اپنے پیچھے سوالات چھوڑ گئے جن کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ـ

ہم سب کا یہ مطالبہ ہے کہ تمام ذمہ دار افراد کو کٹہرے میں لایا جائے اور پوری سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا سانحہ رونما نہ ہوـ

آخر یہ کب تک ہوتا رہا گا اور ہم کہتے رہیں گے " میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں" ۔۔۔ یہ پتلی تماشا کب تک جاری رہے گا اور اِن پتلیوں کی ڈور کن ہاتھوں میں ہے؟