تم ایک بد نصیب ہو کہنا پڑا مجھے،شاعر:پروفیسر سہیل ساجد
نقطہ نظرتم ایک بد نصیب ہو کہنا پڑا مجھے
تم بھی مرے قریب ہو کہنا پڑا مجھے
اپنے عمل سے تو نے دیا قاتلوں کا ساتھ
تم منکرِ صلیب ہو کہنا پذا مجھے
ہم ساتھ رہ کے دور رہے اتفاق سے
تم دور نہ قریب ہو کہنا پڑا مجھے
جب بازوٶں کو کھول کے انگڑائی تو نے لی
زندہ سی اک صلیب ہو کہنا پڑا مجھے
رستہ بتا کے مجھ کو بھی گمراہ کر دیا
مخبر ہو اور رقیب ہو کہنا پڑا مجھے
تیری نظر میں پیار بھی کرنا گناہ ہے
دشمن نما حبیب ہو کہنا پڑا مجھے
کہتے ہیں کوئی بات تو سنتے نہیں ہو تم
اس حد تلک عجیب ہو کہنا پڑا مجھے
ہر شخص جانتا ہے ترا گھر تری گلی
ہر اک کے تم حبیب ہو کہنا پڑا مجھے
میرے گنہ کا کر نہ سکے جب علاج تم
ساجد عجب طبیب ہو کہنا پڑا مجھے
پروفیسر سہیل ساجد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے آپ نے محبت کی
ایک مجبور کی عیادت کی
آسماں پر خوشی منائی گئی
جب گناہ گار نے عبادت کی
اے خدا وند مر کے میں سمجھا
زندگی تو نے اک امانت کی
آسماں سے وہ کاٹ ڈالا گیا
جس نے انسان سے حقارت کی
وہ فرشتوں سے ہو گیا افضل
جس نے انسان سے محبت کی
اٌس کی روزی میں ہو گی کیوں برکت
جس نے اجناس میں ملاوٹ کی
اٌس عدالت پہ کیا بھروسہ کریں
جس نے انصاف میں رکاوٹ کی
جس نے نفرت کو دی ہوا ساجد
ایسی تجویز کیوں عبارت کی
سہیل ساجد
مزید پڑھیں





