جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دنیا کے خرابے میں مَیں افلاس کو لے کر،شاعر:صفدر بھٹی

نقطہ نظر
safdar bhatti

دنیا کے خرابے میں مَیں افلاس کو لے کر

بیٹھا ہوں بڑی دیر سے اک آس کو لے کر


سینے میں جو پیوندِ گنہ گاری لگا ہے

کچھ کیجے مداوا بھی اسی یاس کو لے کر


جب حبس بڑھی شہرِ ستم گار میں یارو

سب چل دیے احباب تو انفاس کو لے گر


اک ہم تھے مگر تان کے جذبات کھڑے تھے

بے حسی کے سیلاب میں احساس کو لے کر


کہتی تھی بہو لکھوں گی مظلوم کہانی

شوہر کو سسر اور مری ساس کو لے کر


اور ساس کہ دیتی تھی دہائی مرے مالک

ہم لوگ تو غارت ہوے خنّاس کو لے کر


صفدر نہ رہے بیلے نہ لسی ہے نہ چُوری

اب ہیر بھی آئے گی تو تھرماس کو لے کر


.......................................................


وصلِ دلدار بھی اس بے سر و سامانی میں

عکسِ مہتاب ہو جوں دور کُھلے پانی میں


حسن گھائل ہوا فکرِ زر و دیناری پر

عشق ناچار ہے افلاس کی زندانی میں


گنجِ قارون کروں تجھ کو ودیعت جاناں

دسترس پاوں اگر قدرتِ یزدانی میں


یک شبِ سرما کسی شاہدِ بازاراں پر

دل وہیں بھول گئے نرگسِ صہبانی میں


تھا قبا پوشی میں وہ سحر کہ جو تھا سو تھا

روپ کے رنگ نہایت کِھلے عریانی میں


پرفسوں خوب ہی تھا روئے طرح داری وہ

گر پڑا دل کہ وہیں چاہِ زنخدانی میں


عضو در عضو جو دیکھا کیے معلوم پڑا

ہائے بے مثل سا پیکر بنو انسانی میں


زینتِ بام بہ یک کوچہِ بے توقیراں

تف بہ جس جھونکا تجھے آتشِ شہوانی میں


صفدرا تیری حکایاتِ دلِ شاہد باز

خوب ہی رنگ بھریں یہ تو غزلخوانی میں