غزل،مجھے یہ ذوقِ سخن تیری جستجو نے دیا،شاعرہ: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
مصنف:
مجھے یہ ذوقِ سخن تیری جستجو نے دیا
'ترا سراغ مجھے تیری گفتگو نے دیا'
نہ تیری چشمِ محبّت، نہ آرزو نے دیا
جو لطفِ خاص یہ گفتارِ دوبدو نے دیا
بھٹک رہی خلاؤں میں کب سے میں تنہا
سکوں دل کو مرے ایک ماہ رو نے دیا
میں اپنے آپ سے ملنے کی جستجو میں تھی
مگر یہ کام مجھے تیری آرزو نے دیا
تمام شہر میں بکھری ہوئی تھی تنہائی
مگر خلوص مجھے تجھ سے خوبرو نے دیا
وہ شخص جس نے مرا حال تک نہ پوچھا کبھی
اسی کو تمغہ محبّت کا میری خو نے دیا
میں اپنے زخم چھپاتی رہی زمانے سے
نیا لباس مجھے ذات کے رفو نے دیا
صبا کے جھونکوں سے لپٹی ہوئی جو آئی اِدھر
یقین کر کہ پتہ تیرا تیری بو نے دیا
کسی چراغ نے طوفاں میں ساتھ چھوڑ دیا
مگر یقین کا رستہ مجھے نمو نے دیا
میں کرتی اس سے طلب اور کیا بتا طوبیٰ
جو دل نے مانگا وہی اس کی گفتگو نے دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید پڑھیں





