بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حرف کی آبرو اور لفظ کا زوال،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

کائنات کی تخلیق کا پہلا اثاثہ ایک آواز تھی جو بعد میں حرف اور لفظ کا روپ دھار کر انسانی شعور کا حصہ بن گئی۔ لفظ محض ہونٹوں سے نکلنے والی ہوا کا جھونکا یا کاغذ پر بکھرنے والی سیاہی کے بے جان لکیریں نہیں ہوتے۔ یہ انسان کی روح کا لمس اور اس کے وجود کا آئینہ ہوتے ہیں۔ حرف جب سچائی کے سانچے میں ڈھل کر نکلتا ہے تو دلوں کو فتح کر لیتا ہے۔ جب اسی حرف کو جھوٹ اور مصلحت کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو پوری انسانی تہذیب کا فکری زوال شروع ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہر دور کے منصف مزاج دانشوروں نے لفظوں کی حرمت کو برقرار رکھنا قلم کار کا سب سے پہلا فرض قرار دیا ہے۔ الفاظ مٹی کے بدن نہیں ہوتے بلکہ یہ احساس کا لباس ہوتے ہیں۔

الفاظ کے پاس زندگی بخشنے اور زندگی چھین لینے کی ایک حیرت انگیز الہامی طاقت ہوتی ہے۔ ایک مخلص اور دھیما جملہ کسی مایوس انسان کے گرتے ہوئے حوصلے کو سہارا دے کر اسے جینے کی نئی امنگ دے سکتا ہے۔ ایک تلخ اور زہریلا لفظ کسی ہنستے کھیلتے انسان کی شخصیت کو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیتا ہے۔ لفظوں کی اسی بے پناہ طاقت کی وجہ سے ہمارے اسلاف قلم اٹھانے سے پہلے فکری طہارت کو لازم سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حرف کی بے حرمتی دراصل علم اور انسانیت کی تذلیل ہے۔ انسان کا اپنے قلم سے لکھا ہوا ایک ایک لفظ اس کی نسل، تربیت اور باطنی پاکیزگی کا سب سے بڑا گواہ ہوتا ہے جو اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی تاریخ کے صفحات پر اس کا نام زندہ رکھتا ہے۔بدقسمتی سے آج کے اس ڈیجیٹل اور تیز رفتار دور میں جہاں انسانوں کے درمیان رابطے تو آسان ہو گئے ہیں وہاں لفظوں کی حرمت سب سے زیادہ پامال ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی بے ہنگم دنیا سے لے کر ہماری روزمرہ کی گفتگو تک، الفاظ کا سستا اور بے باک استعمال اب ایک وبائی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جس نے معاشرتی اقدار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہم اکثر سستی شہرت یا عارضی مفاد کی خاطر ایسے جملے لکھ جاتے ہیں جو دوسروں کی دل آزاری اور کردار کشی کا سبب بنتے ہیں۔ ہم یہ بنیادی سچائی بالکل بھول چکے ہیں کہ قلم اور زبان سے نکلنے والے الفاظ ایک ایسی امانت ہیں جن کا حساب ہماری اپنی ضمیر کی عدالت میں ہونا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریریں مٹتی نہیں بلکہ معاشرے کا مقدر بن جاتی ہیں۔اس فکری قحط سالی کے دور میں جب ہم کتابوں سے دور ہو رہے ہیں تو ہمارے اندر کا انسان بھی آہستہ آہستہ مشینی سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ جب تک کوئی معاشرہ اپنے تخلیق کاروں اور ادیبوں کی قدر نہیں کرتا تب تک اس کی اخلاقی بنیادیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔ ادیب معاشرے کی وہ آنکھ ہوتا ہے جو پوشیدہ زخموں کو دیکھتا ہے اور اپنے الفاظ سے ان پر مرہم رکھتا ہے۔ آج کل ادبی پلیٹ فارمز پر بھی سطحی گفتگو کا غلبہ نظر آتا ہے جہاں گہرائی اور تدبر کی جگہ محض عارضی جذباتیت نے لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تحریروں میں وہ تاثر اور اثر غائب ہوتا جا رہا ہے جو پرانے دور کے کلاسک ادب کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔اگر ہم ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لفظوں کی کھوئی ہوئی آبرو کو بحال کرنا ہوگا۔اپنےرویوں میں ٹھہراؤ لانا ہوگا۔ لکھنے والوں کو یہ احساسِ ذمہ داری بیدار کرنا ہوگا کہ قلم کی طاقت تعصب، نفرت اور تضحیک پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ سچائی، امن اور انسانی اقدار کی تعمیر کے لیے ملی ہے۔ اسی طرح قارئین کو بھی اس پارکھ نگاہ کی ضرورت ہے جو الفاظ کے پیچھے چھپے ہوئے خلوص کو پہچان سکے اور جھوٹے پروپیگنڈے کے طوفان میں سچ کی آواز کو الگ کر سکے۔ جب تک ہم اپنی تحریروں میں لفظ کو اس کا جائز احترام اور مقام نہیں دیں گے تب تک ہماری آوازوں میں وہ سحر اور اثر پیدا نہیں ہو سکتا جو دلوں کی دنیا بدل دے۔الفاظ کی حرمت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنی زبان کی جڑوں سے جڑے رہیں۔ اس کے حسن کو برقرار رکھنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کریں۔ اردو زبان اپنے دامن میں جو مٹھاس اور تہذیب رکھتی ہے۔ وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا استعمال نہایت احتیاط اور شائستگی سے کیا جائے۔ بدتمیزی اور بدتہذیبی کبھی ادب کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ ہماری نئی نسل جو انگریزی اور دیگر زبانوں کے اثر کے نیچے دبی جا رہی ہے، اسے اپنے اسلاف کے ادبی سرمایے سےروشناس کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ثقافتی تشخص کو برقرار رکھ سکیں۔ جب تک ہم اپنے گھروں میں مطالعے کی روایت کو دوبارہ زندہ نہیں کریں گے تب تک الفاظ کی یہ خوشبو ہمارے معاشرے کو مہکا نہیں سکے گی اور ہم ایک بے روح ہجوم بن کر رہ جائیں گے۔ہمیں چاہیے سب مل کر اپنے لفظوں کا سخت محاسبہ کریں۔ ہر اس لفظ کو اپنے قلم سے خارج کر دیں جو کسی کی دل شکنی کا باعث بنے۔ لکھنے اور بولنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ہمارے الفاظ کسی کے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں یا ان میں نمک چھڑک رہے ہیں۔ ہمارے الفاظ ہی ہمارے باطن کی اصل تصویر ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے تخت و تاج مٹی میں مل جاتے ہیں، سلطنتیں مٹ جاتی ہیں اور بڑے بڑے سورما وقت کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں۔ جو لفظ سچائی اور احترام کے ساتھ لکھے جائیں وہ ابد تک انسانیت کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ قلم کی اس امانت کو سنبھالیے اور حرف کی آبرو کے لیے وہ کردار ادا کیجیے جو آنے والے زمانوں کے لیے ایک روشن مثال بن سکے۔ آخر کار دنیا میں صرف وہی الفاظ باقی رہ جاتے ہیں جو محبت کی زبان میں بولے جائیں۔