Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عادل راجہ کا پاکستان مخالف جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ،تحریر: جان ایم رمضان

نقطہ نظر
jaanm ramzann
مصنف:

رات گئے عادل راجہ نے ایک وی لاگ بنایا جس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے لاہور میں قیام اور پولیس وین میں بیٹھنے کے واقعے کو اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے انہیں پنجاب حکومت یا لاہور پولیس نے اغوا کر لیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسی ویڈیو بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا پاکستان کے عوام اتنے سادہ ہیں کہ وہ ویڈیو کے مناظر، حالات اور حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے؟ آج سوشل میڈیا کا دور ہے، ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور چند سیکنڈ میں اصل ویڈیو اور اس کے ساتھ بنائی گئی کہانی کا فرق سامنے آ جاتا ہے۔


جس ویڈیو کو بنیاد بنا کر شور مچایا گیا، اس میں خود وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پولیس وین میں سوار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر معاملہ اغوا کا تھا تو پھر اس پورے واقعے کے دیگر شواہد کہاں ہیں؟ پولیس اہلکاروں کی موجودگی، گرفتاری کا حکم، مقدمہ یا کسی سرکاری کارروائی کا ثبوت کہاں ہے؟ محض ایک گاڑی میں بیٹھنے کے منظر کو ایک بڑے سیاسی ڈرامے میں تبدیل کرنا عوام کے شعور کی توہین کے مترادف ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا لاہور آئے، ان کا قافلہ شہر میں موجود رہا اور انہیں سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی۔ اگر پنجاب حکومت یا لاہور پولیس واقعی انہیں نقصان پہنچانا چاہتی تو کیا ان کے قافلے کو اسی طرح سیکیورٹی فراہم کی جاتی؟ کیا پانچ گاڑیوں کے قافلے کو شہر میں آزادانہ نقل و حرکت کا موقع دیا جاتا؟ حکومت پنجاب اور متعلقہ اداروں نے کسی بھی غیرضروری پکڑ دھکڑ سے گریز کیا، جو ایک ذمہ دارانہ اقدام تھا۔ سیاست اپنی جگہ، لیکن ریاستی ذمہ داری اپنی جگہ ہوتی ہے۔


مگر جب پورے دن لاہور میں گھومنے پھرنے کے باوجود کوئی ایسا واقعہ ہاتھ نہ آیا جسے عالمی میڈیا کے سامنے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکے تو پھر ایک خالی پولیس وین میں بیٹھنے کے منظر کو ہی سیاسی قلعہ فتح کرنے کے مترادف بنا دیا گیا۔ اس منظر کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو پنجاب میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی سیاست ہے؟ کیا یہی جمہوری جدوجہد ہے؟ یا پھر سوشل میڈیا کی سیاست میں سنسنی پیدا کرکے ہمدردیاں حاصل کرنے کا نیا طریقہ ہے؟


عوام اب بہت کچھ سمجھتی ہے۔ پہلے ایک ویڈیو چلتی تھی تو لوگ صرف وہی دیکھتے تھے جو انہیں دکھایا جاتا تھا، لیکن آج عوام اصل ویڈیو بھی دیکھتی ہے، اس کے بعد کی ویڈیوز بھی دیکھتی ہے، مختلف زاویوں سے واقعات کا جائزہ لیتی ہے اور پھر اپنی رائے قائم کرتی ہے۔ اس لیے کسی بھی واقعے کو مخصوص الفاظ، جذباتی نعروں اور ڈرامائی انداز میں پیش کرکے عوام کو ہمیشہ گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔


عادل راجہ کی صحافتی اور سیاسی سرگرمیوں پر بھی عوام کے مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید کرنا کسی کا حق ہو سکتا ہے، لیکن تنقید اور ملک کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش میں فرق ہونا چاہیے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر پاکستان کی ریاست، اداروں اور عوام کو عالمی سطح پر بدنام کرنے والی ہر کوشش پر سوال اٹھنا بھی ضروری ہے۔


یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرنا آسان ہے، لیکن پاکستان کے اندر رہنے والے کروڑوں لوگوں کو اس ملک کے امن، معیشت، عزت اور استحکام کی قیمت معلوم ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی، معاشی بحران، سیاسی کشیدگی اور بیرونی سازشوں سمیت بے شمار چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی سیاسی گروہ اپنے مفاد کے لیے ہر چھوٹے واقعے کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کرے تو اس پر تنقید ضرور ہونی چاہیے۔


میں یہ نہیں کہتا کہ حکومت پنجاب یا کوئی بھی حکومت تنقید سے بالاتر ہے۔ اگر کسی شہری، سیاست دان یا سیاسی جماعت کے ساتھ زیادتی ہو تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔ لیکن الزام لگانے سے پہلے ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ ایک پولیس وین میں بیٹھنے کو اغوا قرار دینا، پھر اسے عالمی سطح پر ریاستی جبر کے طور پر پیش کرنا، ایک انتہائی سنگین سیاسی بیانیہ ضرور بن سکتا ہے، مگر اسے حقیقت ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔


سیاست سب کا حق ہے۔ تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ ہو، پیپلز پارٹی ہو یا کوئی دوسری سیاسی جماعت، ہر جماعت کو اپنی سیاسی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔ احتجاج بھی جمہوری حق ہے اور اختلافِ رائے بھی۔ لیکن سیاست کی آڑ میں پاکستان کے خلاف ایسا بیانیہ بنانا جس سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے، قابلِ تشویش ضرور ہے۔


پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا صرف حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں۔ یہ پوری ریاست اور پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ آج اگر ایک سیاسی گروہ اقتدار میں ہے تو کل دوسرا گروہ اقتدار میں ہو سکتا ہے، مگر پاکستان ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں، مگر ریاست پاکستان سب سے مقدم ہے۔


ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو سیاسی میدان تک محدود رکھنا ہوگا۔ اگر کوئی حکومتی اقدام غلط ہے تو عدالت جائیں، پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں، پریس کانفرنس کریں، پرامن احتجاج کریں اور ثبوت سامنے رکھیں۔ لیکن ہر واقعے کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔


فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب سمیت قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے بھی میری گزارش ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کی سرگرمیوں کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے۔ جو شخص بھی ریاست کے خلاف جرم کرے، اس کے خلاف کارروائی قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ کسی بھی فرد کو صرف سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص واقعی ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔


پاکستان کسی فرد، جماعت یا حکومت کا نہیں، 25 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اس ملک کے خلاف جھوٹا یا مبالغہ آمیز پروپیگنڈا کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اس کا نقصان کس کو ہوگا؟ حکومت کو نہیں، کسی ایک جماعت کو نہیں، بلکہ پاکستان کو۔


عوام اب باشعور ہے، سوشل میڈیا کے دور میں ہر دعوے کا دوسرا رخ بھی سامنے آ جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے عوام سے جھوٹ، سنسنی اور جذباتی پروپیگنڈے کے ذریعے ہمیشہ ہمدردیاں حاصل نہیں کی جا سکتیں۔


اختلاف کریں، تنقید کریں، حکومت کو جواب دہ بنائیں، اداروں سے سوال کریں، مگر پاکستان کو بدنام کرنے کی سیاست نہ کریں۔


پاکستان ہماری پہچان ہے، پاکستان ہماری عزت ہے، پاکستان ہماری ریاست ہے۔


پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا، زندہ باد ہے اور ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔