ریاض ائیرپورٹ پر دھماکے کے بعد فضائی آپریشنز عارضی طور پر معطل

سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (GACA) کے مطابق، ہفتے کی سہ پہر (10 اکتوبر 2026) کو ریاض کےکنگ خالد انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر ہونے والے ایک شدید حملے کے بعد فضائی آپریشنز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے-
رپورٹ کے مطابق حکام نے نقصان کا جائزہ لینے اور ایئرپورٹ کی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پروازوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ سائٹس کے مطابق پروازیں منسوخ یا دوسرے شہروں کی طرف موڑ دی گئی ہیں-
بی بی سی کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور درجنوں لوگوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے-
رائٹرز کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اس میزائل حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اور رواں ہفتے کے دوران ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے دھماکے کی اطلاع دو عینی شاہدین اور معاملے سے باخبر دو افراد نے دی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے ایئرپورٹ کے اندر دھماکا سنا اور متعدد افراد کو زخمی حالت میں زمین پر پڑے دیکھا۔ واقعے کے بعد ایک درجن سے زائد ایمبولینسز ایئرپورٹ کی جانب جاتی دکھائی دیں۔
دریں اثنا، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے ایک طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی وزارتِ صحت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر اسپتالوں میں ڈیوٹی پر پہنچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ایک سنگین ہنگامی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔
ریاض کے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی رومز کے ڈاکٹروں کو طلب کیا جا رہا ہے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں افراد زخمی ہوئے۔ اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
یہ واقعہ سعودی عرب پر یمن کے حوثی گروپ کے میزائل حملوں میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔ ریاض ایئرپورٹ کو رواں ہفتے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان واقعات میں چار افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے، جب کہ ایک طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی بعض پروازوں کی معطلی یا تاخیر سے متاثرہ مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدد اور ضروری رہنمائی کے لیے سعودی عرب کے سفارتی مشنز سے رابطہ کریں۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ دوسرے ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا یا انہیں منسوخ کردیا گیا۔ ایک موقع پر ایئرپورٹ کے اوپر صرف ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرتا دکھائی دیا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ روانگی سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کریں اور پروازوں کی تازہ صورتِ حال معلوم کریں۔
کویت ایئرویز نے ریاض ایئرپورٹ کی بندش اور وہاں سیکیورٹی صورتِ حال کے باعث سعودی دارالحکومت آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اتحاد ایئرویز، قطر ایئرویز کے علاوہ دیگر ملکوں نے بھی اپنے متعلقہ مراکز سے ریاض کے درمیان متعدد پروازیں منسوخ کیں، جن میں سے بعض منسوخیاں پیر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق حوثیوں کے جمعرات اور رواں ہفتے کے آغاز میں کیے گئے حملوں کے بعد بھی کئی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کردی تھیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ریاض میں توانائی اور سرمایہ کاری سے متعلق بڑے بین الاقوامی اجلاس ہونے والے ہیں۔
ان اجلاسوں کے منتظمین نے ہفتے کو اعلان کیا کہ تقریبات طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی اور شرکا کو سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے یقین دہانی کرائی۔
حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے رواں ماہ اپنے خلاف کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سعودی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا علاقہ قرار دیتے ہوئے فضائی کمپنیوں کو اس فضائی حدود سے گریز کرنے کا کہا ہے۔
مزید پڑھیں





