علامہ اقبال کی شاعری اور موجودہ صورت حال ،تحریر: شگفتہ خان
نقطہ نظر
جب بھی پاکستان کا نام لیا جائے گا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا نام ذہن میں آجاتا ہے. پاکستان کی تاریخ ان کے ذکر کے بنا ادھوری ہے۔ علامہ اقبال جو ہمارے قومی شاعر بھی ہیں اور جنھوں نے اپنی شاعری اور تعلیمات سے اس وقت بھی سوئی ہوئی قوم کو جگا دیا تھا۔ آج بھی ان کی شاعری کو سمجھیں تو اس میں سوئے ہوئے جذبات کو جگا دینے کا وصف ہے۔ آپ کا طرز فکر زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتا ہے۔ علا مہ اقبال اپنی شاعری میں مذہب، سیاست، روزمرہ زندگی کے مسائل اور طرز معاشرت ہر موضوع پر بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔صرف یہ نہیں کیا کہ سوئی ہوئی قوم کو جگایا اور نوجوانوں کو ولولہ انگیز شاعری سے بھڑکتا شعلہ بنا دیا بلکہ نوجوان نسل جن کو ملکی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ ان کے جذبات کو مثبت انداز میں ابھارتے ہیں۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کی گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
فرد قائم ہے ربط ملت سے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
آپکی شاعری اپنے اندر بہت گہرے معنی رکھتی ہے۔ فلسفہ خودی ہو یا فلسفہ وحدت سب پر غوروفکر کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کی شاعری کو زیر بحث لائیں تو بحث طویل ہوجائے گی کہ آپ کے ہر شعر میں مطلب کا ایک گہرا سمندر موجزن ہے۔
اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلا دو
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
زبان زد عام شعر، بچوں کو بچپن میں یاد کروادیا جاتا ہے لیکن اس میں پوشیدہ راز کو نہیں سمجھا جاتا کہ انسان کی خودی اسے کس مقام پر پہنچا سکتی ہے ۔
علامہ اقبال بھی شروع میں ہندومسلم اتحاد کے ہی حامی تھے لیکن ہندووں کے نازیبا سلوک اور ناجائز مطالبات نے آپ میں الگ وطن، الگ خطہ کی سوچ پیدا کی۔ آپ نے خطبہ الہ آباد میں الگ وطن کا جو خواب بیان کیا تھا۔قائداعظم محمد علی جناح نے 1947 میں ان تھک کوششوں سے اس کو تعبیر بخش دی۔ بے شک علامہ اقبال اس جدوجہد میں شامل نہ تھے۔ نہ ہی آپ نے اپنی نظر سے ایک نیا چمن بنتے ہوئے دیکھا لیکن آپ دارفانی میں کوچ سے پہلے ہی اپنی شاعری، تعلیمات اور طرز فکر کے ذریعے لوگوں میں الگ وطن کا اور جذبہ حب الوطنی کا بیج بودیا تھا ۔جسے قائداعظم محمد علی جناح نے دیگر قائدین کے ساتھ مل کر ایک تناور درخت بنا دیا تھا اور دنیا کے نقشے پر ایک الگ ملک پاکستان ستارہ بن کر ابھرا اور چاند کی طرح چمکا۔
ہمارے آباواجداد تو آپ کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف ہیں مگر نئی نسل کو بھی آپ کی شاعری، تعلیمات اور طرز فکر سے آ گاہ ہونا چاہیے۔ اس کےلیے آپ کی شاعری کو تو ادنی سے اعلی کلاس تک شامل نصاب کیا گیا ہے لیکن اس کی اہمیت رٹا لگا کر ڈگری حاصل کرنے تک رہ گئی ہے۔ ہمدردی، پہاڑ اور گلہری، جگنو، شکوہ، جواب شکوہ ہر نظم سمجھیں تو ایک سبق دیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ادنی جماعتوں میں شامل نصاب اس لیے کی گئی ہیں کہ بچوں کی تربیت میں شامل ہو سکیں مگر افسوس کے ساتھ وہ اس کو نہ سمجھ سکے اور نہ اس کو اپنی زندگی میں لاگو کر سکے۔ صبح اسمبلی کے وقت ہر سکول میں دعا ہوتی ہے۔ بچے روزانہ دہراتے ہیں لیکن اس کا مطلب نہیں سمجھتے۔ بہت کم سمجھا جاتا ہے کہ آخر وہ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔
پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے نوجوان نسل کو ان کی شاعری اور طرز فکر کو سمجھنا ہوگا اور سمجھ کر اپنانا ہوگا۔ وہ ایک صدی پہلے بتا گئے تھےکہ امت مسلمہ کے زوال کا حل ان کی وحدت میں پنہاں ہے۔ آج جو امت مسلمہ انتشار کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان میں اتحاد نہیں ہے۔ یہی سبق آنے والی نسلوں کو بھی سکھانا ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔
مزید پڑھیں





