اختلافِ رائے اور اخلاقیات،تحریر:دانیال حسن چغتائی
نقطہ نظر
انسانی معاشرہ مختلف رجحانات، نظریات اور مزاجوں کا حسین مرقع ہے۔ کائنات کے اس کارخانے میں ہر انسان کی فکری ساخت، تجربات اور مطالعہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے افکار و خیالات میں تضاد یا اختلاف فطری امر ہے۔ صحت مند معاشروں کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہاں نظریات کی جنگ دلائل کے میدان میں لڑی جاتی ہے۔ جہاں علمی اختلاف کو ترقی کا زینہ اور فکری وسعت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
تاہم، جب فکری اختلاف اپنے دائرے سے نکل کر ذاتی حملوں، الزام تراشی اور تضحیک کا روپ دھار لیتا ہے تو یہ صحت مند بحث نہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا ناسور بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ بن چکا ہے کہ ہم مد مقابل کے مؤقف، اس کے دلائل اور اس کی کہی ہوئی بات سے اختلاف کرنے کے بجائے براہِ راست اس کی ذات، اس کی نیت، اس کے پس منظر اور اس کے خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانا اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی پستی کی علامت ہے بلکہ اجتماعی زوال کا بھی سب سے بڑا محرک ہے۔
جب کسی مباحثے یا گفتگو میں دلیل کا دامن چھوٹ جائے اور غلبے کی ہوس عقل پر پردہ ڈال دے تو فکری اختلاف ذاتی رنجش میں بدل جاتا ہے۔ جو شخص علمی اور فکری دلائل سے تہی دست ہوتا ہے، وہ ہمیشہ ذاتی حملوں کا سہارا لیتا ہے۔ جب وہ مد مقابل کے مؤقف کا علمی جواب دینے سے قاصر رہتا ہے، تو وہ مخالف کی شخصیت، لباس، پیشے یا ماضی کو نشانے پر رکھ کر اپنی شکست کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
ہمارے معاشرتی رویوں میں عدم برداشت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم اپنے سے مختلف رائے رکھنے والے کو دشمنِ جاں سمجھ لیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اختلافِ رائے کا مطلب دشمنی نہیں بلکہ زاویہ نگاہ کا فرق ہے۔
سوشل میڈیا کے دور نے اس قبیح عمل کو مزید ہوا دی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے کسی کی شخصیت کو مسخ کرنا، ٹرولنگ کرنا اور ذاتی عیوب کو اچھالنا آج کے دور کا سب سے بڑا فکری المیہ بن چکا ہے۔
یقین جانیے، یہ انتہائی قبیح عمل ہے اور یہی معاشرے میں بگاڑ کا اصل سبب بھی ہے۔ جب ہم نظریے کی بجائے انسان کو مٹانے پر تُل جاتے ہیں، تو معاشرے سے محبت، احترام اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل جاتا ہے۔
زندگی میں انسان کا واسطہ مختلف قسم کے لوگوں سے پڑتا ہے۔ ہر شخص ایک جیسی ذہنی سطح، فہم اور اخلاقی تربیت کا حامل نہیں ہوتا۔ جب آپ کا سامنا کسی ایسے شخص سے ہو جو تعصب، ہٹ دھرمی یا جہالت کی چوٹی پر بیٹھا ہو اور بحث برائے بحث اس کا شیوہ ہو، تو اس موقع پر سمجھداری کا تقاضا بالکل بدل جاتا ہے۔
جب آپ کسی جاہل سے الجھ پڑیں تو پھر سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ خاموش رہیں، دلیلیں نہ دیں، اس کی سن کر اثبات میں سر کو جنبش دیں۔ وگرنہ بحث طول پکڑتی جائے گی اور حاصل ضرب فقط ذلالت و خواری ہی نکلے گا۔
اس اصول کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جاہل یا متعصب انسان کے ساتھ بحث کرنا دیوار میں میخیں لگانے کے مترادف ہے۔ اس سے نہ تو اس کی عقل میں کوئی روشنی آئے گی اور نہ ہی آپ کے علم میں کوئی اضافہ ہوگا۔ الٹا نقصان یہ ہوگا کہ آپ کی قیمتی توانائیاں ایک ایسے شخص پر ضائع ہوں گی جو سیکھنے کے لیے نہیں بلکہ لڑنے کے لیے بیٹھا ہے۔ ایسی بے مقصد بحث انسان کو ذہنی تناؤ، کوفت اور فرسٹریشن میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جب بحث گالی گلوچ اور سطحی باتوں تک اتر آتی ہے، تو دونوں اطراف سے وقار مجروح ہوتا ہے اور عاقبت میں صرف ندامت باقی رہ جاتی ہے۔
اس لیے خاموشی اختیار کرنا، بظاہر شکست محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں حکمت اور فکری برتری ہوتی ہے۔ دانشمند لوگ ہمیشہ فضول بحثوں سے کنارہ کش رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہر رکاوٹ کو پتھر مارنے سے اپنے سفر کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کو اس ذہنی اور اخلاقی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی سطح پر رویوں کی اصلاح کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا میں ہر کوئی ہمارے جیسا نہیں سوچ سکتا۔ تنوع کو قبول کرنا اور اختلافِ رائے کا احترام کرنا ہی مہذب معاشرے کی معراج ہے۔ جب بھی کسی کی بات سنیں، تو اس کے دلائل کا جائزہ لیں، نہ کہ اس کی ذات یا پس منظر کا۔ اگر بات اچھی ہے تو مخالف کی زبان سے بھی قبول کی جانی چاہیے۔ جہاں لگے کہ فریقِ مقابل دلیل کی زبان سمجھنے سے قاصر ہے یا ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے، وہاں خاموشی کو ترجیح دیں اور خود کو فضول بحث سے بچائیں۔
اختلافِ رائے زندگی کا حسن ہے، بشرطیکہ اسے شائستگی اور دلیل کے دائرے میں رکھا جائے۔ ذاتی حملے اور تضحیک کا کلچر کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ عزم کریں کہ ہم نظریات کی جنگ دلائل سے لڑیں گے، ذاتیات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے اور جہاں جہالت و ہٹ دھرمی سے واسطہ پڑے گا، وہاں خاموشی کی حکمت کو اپنا کر اپنے فکری وقار کو برقرار رکھیں گے۔ یہی باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی معراج ہے۔
مزید پڑھیں




