Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فائزہ شہزاد ، خیبر پختونخوا کی پہلی مزاح نگار خاتون

نقطہ نظر
مصنف:

میرا نام فائزہ شہزاد ہے اور 14 اگست کو پھولوں کے شہر پشاور میں پیدا ہوئی ـ

لکھاری، کالم نگار، مزاح نگار،تبصرہ نگار،نعت خواں، ادنیٰ سے بھی ادنیٰ نعت گو ( میں اِس قابل تو نہیں مگر بس کچھ اشعار آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شان میں لکھ لیتی ہُوں) اور سب سے بڑا دنیا کا ایوارڈ یہی ہے کہ میں نعت خواں ہوں ـ میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی نظر کرم ہے کہ میں ایک کونے میں پڑا بے رنگ سا پتھر تھی، جسے کوئی جانتا بھی نہ تھا مگر اُن کے کرم نے میرے بخت چمکا دیئے ـ

عشقِ محمدی نے مُجھے کیا بنا دیا

اِک گُمشدہ حجر کو نگینہ بنا دیا

قلب و جگر گناہوں سے لتھڑا تھا رات دن

اُٹھی نظر جو اُن کی مدینہ بنا دیا

بہت کم عمری میں شادی ہوگئی ـ تعلیم ادھُوری رہ گئی ـ کلاس ون سے ہی پوزیشن ہولڈر تھی ـ فارورڈ گرلز ہائی اسکول سے میٹرک میں ٹاپ کیا اور ضلع پشاور میں پہلی پوزیشن حاصل کی( اور اُس وقت کے گورنر فضل حق مرحوم کی طرف سے انعامات سے نوازا گیا) ـ ایف اے کے پیپرز دیئے شادی ہوگئی مگر شادی کے 11 سال بعد بسلسلہ روزگار میں ساہیوال سے پشاور واپس آ گئی ( شادی ہو کر ساہیوال گئی تھی، وہاں کے 11 سال ایک لمبی کہانی ہے جو نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے) اپنے شہر واپس آ کر دوبارہ تعلیمی سلسلہ شروع کیا اور( پرائیویٹ) پہلے گریجویشن کیا اور پھر اسلامیات میں ماسٹرز کیا اور پرائیویٹ اسٹوڈنٹس میں بھی سیکنڈ پوزیشن حاصل کی ـ اسی کے ساتھ ساتھ لکھنا شروع کیا 1998 میں مشرق اخبار میں کالم لکھا" گلُ پھینکے ہوئے ہیں" اور پھر سلسلہ چل نکلا ـ اُس ٹائم بہت کم خواتین اِس فیلڈ میں تھیں ۔۔۔ میں نے انٹرویوز، سروے رپورٹس، کالمز، تبصرے، سچی کہانیاں اور اب تو یاد بھی نہیں کیا کیا لکھاـ مضمون نگاری میں کافی انعامات حاصل کئےـ بچے چھوٹے تھے مگر ایک جنون تھا، کوئی غیبی طاقت تھی جو گھر، تعلیم اور اپنے اِس شوق کو لے کر چل رہی تھی ـ ہاتھ میں کتاب ہوتی اور دوسرے ہاتھ سے کھانا پکا رہی ہوتی تھی ـ گود میں بچے سلا رہی ہوتی اور ساتھ نوٹس بنا رہی ہوتی تھی ـ( اگر تفصیل لکھنے بیٹھوں تو پھر تعارف نہیں ایک کتاب بن جائے گی) جوائنٹ فیملی کی بڑی بہو بھی تھی( سب سے بڑا کمال یہ تھا) بس کچھوے کی چال چلتی چلتی آخر کار ( 38 سالہ ادبی سفر کے بعد) خیبر پختونخوا

کی پہلی مزاح نگار خاتون بن گئی( جو میرے ربِ کائنات کا خاص کرم ہے ورنہ میں اس قابل کہاں تھی؟ کبھی سوچا بھی نہ تھا، جب میں نے کتاب پر کام شروع کیا تو میاں جی سے کہا: " کہ لوگ بڑی بڑی شخصیات سے رونمائی کرواتے ہیں مگر میں آپ سے کرواؤں گی "ـ مگر مجھے معلوم نہیں تھا کہ زندگی دور کھڑی اپنے ارادے بنا کر مسکرا رہی تھی، اچانک سے میرے شوہر خواجہ شہزاد انور کو لیور کینسر ہوا اور 9 مہینوں کے اندر اندر وه اپنے خالق حقیقی سے جاملے، میں شدید ڈپریشن میں چلی گئی ( ساری زندگی بہت بہادری سے مشکلات کا سامنا کیا مگر یہ ایسا صدمہ تھا جس نے مجھے ختم کردیا ، مگر اللہ پاک نے مجھے پھر سے ہمت دی، طاقت دی اور میں نے کتاب مکمل کرنے کا ارادہ کیاـ اب اللہ کی قدرت اُس کی حکمت کہ جس دن شہزاد صاحب کی پہلی برسی( یکم رمضان 2026 کو) تھی اسی روز کتاب میرے ہاتھ میں آئی اور میں چُپ چاپ کہ ہنسوں یا روؤں؟ میری پہلی کتاب " بولوں کہ نہ بولوں" منظر عام پر آ چکی ہے جو طنز و مزاح پر مبنی ہے، جسے ادبی حلقے میں بہت پزیرائی حاصل ہوئی ہےـ( میں نے 200 کُتب پبلش کروائی تھیں اور ہنستی تھی کہ بس روزآنہ خود ہی پڑھوں گی مگر اللہ پاک نے ایسا کرم کیا کہ بطور تحفہ ہی ایسے ہاتھوں ہاتھ کتابیں کہاں گئی کہ میرے پاس صرف 8 کُتب باقی ہیں اور خاندان والے الگ خفا خفا، کہ ہمیں تو صرف تصویر پر ہی ٹرخا دیا ہے، مگر کیا کروں؟ اتنی سکت نہیں کہ دوسرا ایڈیشن شائع کرواؤں)

ادب عالیہ اور ادبِ اطفال دونوں پر طبع آزمائی کرتی ہُوں ـ بچوں کے لئے کہانیاں، مکالمے( نانی اماں کی باتیں کے عنوان سے) نظمیں اور لوریاں بھی لکھی ہیں جو وقتا فوقتاً انڈیا کے اخبارات میں بھی شائع ہوئی ہیں اور پشاور کے بچوں کے میگزین" شاہین" اور " کونپلیں" میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں ـ

اپووا( آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسیشن) کے پی چیپٹر کی صدر ہُوں ـ

کاروان حوا لٹریری فورم کی جنرل سیکرٹری ہُوں ـ

ادبیات اطفال خیبر پختونخوا کی ایگزیکٹو ممبر ہوں اور مجلس عاملہ کی رکن ہُوں ـ

انر وہیل کلب پشاور کی جنرل سیکرٹری ہُوں ـ

میرے افسانچے اور کالم " پُتلی تماشا" کے نام سے ، جہاد اخبار، جذبہ پوسٹ شکاگو، امریکن ٹائمز اور کسوٹی اخبار میں شائع ہوتے رہتے ہیں ـ

ہر صنف پر لکھا ہے یہاں تک کہ پُراسرار کہانیاں بھی لکھی ہیں ۔۔ میری ایک کہانی" وہ کون تھا؟" بہت زیادہ پسند کی گئی تھی اور مجھے قارئین نے مشورہ دیا تھا کہ آپ اِس پر ڈرامہ لکھیں اور میرے بچوں کی بھی خواہش ہے مگر مجھے ڈرامہ کرنا تو آتا ہے مگر لکھنا نہیں آتا( ہا ہا ہا)

اپووا ڈائجسٹ کی مدیرہ ہوں ـ

اپووا ننھے پھول ڈائجسٹ کی مدیرِ اعلیٰ ہوں ـ ( یہ دونوں آن لائن ڈائجسٹ ہیں)

کافی ساری تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات پر ایوارڈز اور تعریفی سندوں سے بھی نوازا گیا ہے ـ بچوں کی ایک کتاب زیرِ طبع ہے( دعا کریں اللہ پاک میری مدد فرمائے اور جلد ہی آپ سب کے ہاتھوں میں ہو)

مُجھے بچوں کے لئے لکھنا زیادہ پسند ہے کیونکہ ہمارے آج کے بچے کتابوں سے دور ہوگئے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہےـ ہماری تنظیم ادبیات اطفال خیبر پختونخوا کے تمام لکھاری اِس کوشش میں ہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں موبائل کی جگہ دوبارہ کتاب تھما دی جائےـ بارش کے پہلے قطرے کی مانند ہم نے تو چھلانگ لگا دی ہے مگر اِس کے لئے ہمیں والدین اور تعلیمی اداروں کے ساتھ کی، معاونت کی ضرورت ہےـ خدارا ۔۔ اپنے بچوں کو سوشل میڈیا کی دلدل باہر نکالنے میں ہمارا ساتھ دیں، یہ بچے ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، انہوں نے ہی ملک و قوم کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے، یہ اقبال کے شاہین ہیں جن کا بسیرا پہاڑوں کی چٹانوں پر ہے مگر وہ " ٹک ٹاک کے شاہین" بنتے جا رہے ہیں ـ اِن سب کو بچانا ہمارا فرض اولین ہے اور صدقہ جاریہ بھی، یہ وہ دلدل ہے جس میں آج کی نوجوان نسل دھنستی جا رہی ہےـ یہ قلم ہمارا ہتھیار ہے جس سے ہم جہاد کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے بقول اقبال

پیوستہ رہ شجر سے

اُمید بہار رکھ ۔۔۔