Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہرمز،عالمی معیشت کی بڑی گزرگاہ،تحریر: مرزا عارف رشید

نقطہ نظر

آبنائے ہرمز کیا ہے اور اس جگہ کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے آ بنائے ہرمز ایک سمندری گزر گاہوں میں سے ہے آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج امان سے جوڑتی ہے اس کے علاوہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کویت اور ایران جوڑی جاتی ہے اس گزر گاہ سے روزانہ 30 ملین بیرل تیل گزرتا ہے اس کے علاوہ بھی اس راستے کو بہت زیادہ اہمیت اس لیے بھی دی جاتی ہے کے اس راستے سے صرف خلیجی ممالک تک ہی محدود نہیں بلکہ اور بھی بہت سے ممالک اس گزر گاہ سے فائدہ حاصل کرتے ہیں جس میں مشرق وسطی کے بھی بہت سے ممالک شامل ہیں جن میں پاکستان چین جاپان جنوبی کوریا یورپ اور شمالی امریکہ سمیت دنیا کے بہت سے ممالک بھی آبنائے ہرمز کے راستہ سے خام تیل حاصل کرتے یہ آبی راستہ خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کئی ممالک کے لئے قیمتی مرکز سے جوڑتا ہے ایک طرف امریکہ کے لئے سعودی عرب سے خام تیل کا بہت بڑا ذخیرہ لئے کر اسی راستے سے گزرتا ہے دوسری طرف ایران ہے جوکہ طاقت کے توازن برقرار رکھنے کے لئے اس گزر گاہ نظریں لگا کر بیٹھا ہوا ہے کے نہ کھلیں گے نہ کھلنے دے گے آبنائے ہرمز کے راستہ سے روزانہ 20 فیصد خام تیل اور 30 فیصد گیس گزرتا ہے آبنائے ہرمز سے روزانہ 90 سے ایک سو بیس بحری جہاز گزرتے ہیں اس گزر گاہ سے سالانہ 34 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں آبنائے ہرمز کی چوڑائی 33 کلومیٹر کی ہے آبنائے ہرمز کی شپیگ لائن 2 ہیں جس کی چوڑائی 3 کلومیٹر کی ہے تجارتی جہازوں کے لئے یہ راستہ بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے راستہ سے بہت بڑے بڑے آئل ٹینکر جہاز خام تیل لئے کر گزرتے ہیں عالمی سطح پر بھی اس راستے کو اہمیت دی جاتی ہے قطر جوکہ ایل این جی حوالہ سے اہمیت رکھتا ہے قطر کی درآمد اور برآمد بھی اسی راستے سے ہوتی ہے اس آبی گزر گاہ کی ایک طرف خلیجی ممالک امان ہے اور دوسری طرف 8 ممالک موجودہ ہی ہیں جن میں ایران عراق کویت سعودی عرب بحرین قطر متحدہ امارات اور عمان شامل ہیں ان ممالک کی بہت بڑی معیشت کی گزر گاہ ہے اور یہ ممالک بھی اسی پر انحصار کرتے ہیں چین اپنی ملک کی ضرورت کے مطابق تیل کا بہت بڑا حصہ بھی اسی راستے سے منگواتا ہے جبکہ جاپان بھی اپنی ضرورت کے مطابق 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے حاصل کرتا ہے دنیا کے بہت سے ممالک تیل کے علاوہ الیکٹرانک کا سامان بھی اسی گزر گاہ سے جاتا ہے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اسرائیل کی جنگ اور امریکہ کی کشیدگی کی وجہ سے صورتحال خراب ہوگئی ہے ایران آبنائے ہرمز کو بھی بند کر سکتا ہے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کی ایران جب چاہئے گا اس گزر گاہ سے کسی بھی ممالک کے جہاز کو گزرنے نہیں دے گا ایران نے آبنائے ہرمز کے آبی راستے پر بارودی سرنگے بھی بیچھا سکتا ہے آبدوزیں بھی تعینات کر سکتا ہے جنگی حالات میں مزائل بھی داغ سکتا ہے ایران کچھ بھی کر سکتا ہے آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے عالمی تجارت کو بھی بہت زیادہ نقصان ہو رہا پاکستان میں بھی تیل کے ریٹ بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں پاکستان میں پیٹرول 321 جبکہ ڈیزل کی قیمت بھی 336 روپے ہوگئی ہے پاکستان میں عام بندے پر بہت زیادہ بوجھ بڑھ گیا ہے جہاں دنیا پریشانی کے عالم میں ہے وہاں پاکستان کی معیشت پر بھی بہت زیادہ اثر ہوگا.


چین آبنائے ہرمز کے راستے 40 % فیصد بھارت 80 اور جاپان 90 فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتا ہے جنگی صورتحال میں آبنائے ہرمز بند ہو جانے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتوں پر ضرور فرق آیا ہے لیکن یہ فرق اتنا ہے کہ مذکورہ ممالک نے ایک پیسہ بھی تیل قیمتوں پر نہیں بڑھایا جبکہ پاکستان کو سعودی عرب متبادل راستوں سے تیل فراہمی کی یقین دہانی کرواچکا ہے اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے پاس تقریباً 28 دن کا سٹاک سابقہ قیمتوں کا خریدا ہوا موجود ہےجس کی مقدار ایک کروڑ 14 لاکھ ٹن ہے اس کو اگر فی لیٹر 55 روپے بڑھوتی کے ساتھ ضرب دیا جائے تو 846 ارب روپے یعنی سیدھا سیدھا 3 ارب ڈالر کا ڈاکہ اس قوم کی جیب پر ڈال دیا گیا"28 دن میں 3 ارب ڈالر" ایک ایسا ڈاکہ جس کی کوئی مناسب جواب اس حکومت کے پاس نہیں کُل ملا کر اسحاق ڈالر یہی کہہ پائے کہ جی وزیراعظم صاحب تیل کی بڑھتی قیمتوں سے شدید پریشان ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اعداد و شمار کے جادوگروں نے دنیا میں شدید بدامن حالات میں پاکستانی قوم کی بجتی تالیاں دیکھ کر موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھوایاورنہ موجودہ حالات میں پاکستانی ایئرپورٹس ڈالرز کی صورت میں دنیا بھر کی ائیرلائنز سے زمینی و فضائی لاکھوں وصول کر رہی ہے لیکن حکمران قوم کا خون نہ چوسیں تو ان کو مزہ ہی نہیں آتا