صدر ٹرمپ اور مئیر ظہران ممدانی کے درمیان ملاقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے درمیان ملاقات ہوئی-
صدر ٹرمپ اور مئیر ممدانی نے سیاسی اختلافات کے باوجود نیویارک میں امیگریشن کے نفاذ اور اربوں ڈالر کے ہاؤسنگ منصوبے سمیت شہر سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کی۔
مین ہیٹن میں ہونے والی تقریباً ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے ممدانی کےبارے میں نسبتاً مثبت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیویارک کے میئر کامیاب ہوں اور شہر کے لیے اچھا کام کریں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیویارک اور پورے ملک کے لیے بہتری چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے میئر کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں-
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات اس وقت ہوئی جب ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں ا جلاس میں شرکت کے لیے اپنے آبائی شہر نیویارک پہنچے تھے، یہ گزشتہ برس ممدانی کے میئر منتخب ہونے کے بعد دونوں کی تیسری عوامی ملاقات تھی۔
ممدانی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ نیویارک کے شہریوں کو محفوظ رکھنے اور امیگریشن کے حوالے سے اپنی ’بہت مضبوط آرا‘ کا اظہار کیا، انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں تارکین وطن کے عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کرنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کے منصوبوں سے متعلق اپنے تحفظات بھی بیان کیے۔
https://x.com/cspan/status/2102152356607545839?s=20
ملاقات میں نیویارک میں 12 ہزار گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر بھی بات ہوئی, ممدانی کے مطابق اس منصوبے پر دونوں رہنما پہلے بھی فروری میں تبادلہ خیال کر چکے ہیں اور اس کے لیے وفاقی حکومت سے تقریباً 21 ارب ڈالر کی فنڈنگ درکار ہوگی۔
ممدانی نے کہا کہ دونوں کے درمیان ’بہت سے اختلافات‘ موجود ہیں، تاہم وہ ٹرمپ اور دیگر ایسے افراد کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے جو نیویارک کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
ملاقات کے دوران میڈیا کی آزادی کا معاملہ بھی سامنے آیا, ممدانی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ سے واضح کیا کہ مشترکہ پریس کانفرنس میں تمام میڈیا اداروں کو خوش آمدید کہا جائے گا، کیونکہ ان کے نزدیک مختلف آرا اور تنقید رکھنے والوں کے ساتھ بھی مکالمہ ضروری ہے۔
ٹرمپ نے اس موقع پر ان امریکی میڈیا اداروں کی جانب سے ان کی کوریج کے بائیکاٹ کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ماضی میں بھی بائیکاٹ کی بات کی لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امیگریشن پالیسی، ہاؤسنگ اور وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان تعلقات امریکی سیاسی مباحث میں نمایاں موضوعات بنے ہوئے ہیں۔





