سینیٹ کی قائمہ کمیٹیو ں میں وزراء نے آنا چھوڑدیا، معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹیو ں میں وزراء نے بھی آنا چھوڑدیا ،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے دووزراء ہونے کے باجود کمیٹی میں نہ آنے پر معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیرریلوے حنیف عباسی اور وزیرمملکت بلال اظہر کیا نی کی غیرموجودگی پر شدید برہمی کااظہار کیا۔کمیٹی نے وزارت ریلوے کی طرف سے چوتھی دفعہ غلط ریکارڈ دینے پر حکام کی شدید سرزنش کی،ریلوے کے عدالتی کیسز سے مکمل تفصیلات نہ دینے پر چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان ریلوے حکام پر برس پڑے۔کمیٹی میں ریلوے کے دو ہزار سے زائدسرکاری گھروں پر ناجائز قبضے کا انکشاف ہوا۔
منگل کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کااجلاس چیئرمین سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ریلوے کے دونوں وزراء حنیف عباسی اور بلال اظہر کیانی کی عدم موجودگی پرکمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اورکمیٹی نے معاملہ وزیراعظم کے علم میں لانے کے لئے کابینہ ڈویژن کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے کہاکہ منسٹر صاحب تشریف نہیں لائے، سیکرٹری ریلوے نے کہاکہ ان کی کوئی کمٹمنٹ تھی۔ شہادت اعوان نے کہاکہ آپ کے پاس دو منسٹر ہیں،وزیر مملکت بھی ہیں،کابینہ کو لکھیں،دو میں سے ایک منسٹر بھی نہیں آتا۔شہادت اعوان نے سیکرٹری کمیٹی کو ہدایت کی کہ یہ معاملہ کابینہ کو لکھیں اوروزیراعظم کے علم میں لے کر آئیں، بلال اظہر کیانی صاحب کہاں ہیں، ان کی کیا کمٹمنٹ تھی، بغیر منسٹر کے یہ چیزیں نہیں چلائیں گے۔
ریلوے کے کیسز سے مکمل تفصیلات نہ دینے پر چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان ریلوے حکام پر برس پڑے ۔شہادت اعوان نے کہاکہ ہم نے کہا تھا آپ کی لیٹیگیشن کتنی ہے، سب سے زیادہ چوری لاہور میں ہیڈکوارٹر میں ہوئی، وہ کیسز کون سے فورم پر پڑے ہوئے ہیں، آپ کمیٹی کو ہلکا لیتے ہیں، آپ اپنا احتساب نہیں چاہتے، دس دن میں ساری چیزیں مکمل کرکے دیں گے،اندازہ ہوا ہے کہ پولیس والے منسٹری کو تفصیلات دیتے ہیں، منسٹری آگے فارورڈ نہیں کرتی، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ نااہلی ہے، ریلوے نے چوتھی دفعہ غلط ریکارڈ دیا ہے ، آپ کو یہی نہیں پتہ کہ کیس سپریم کورٹ میں پڑا ہوا ہے یا ٹرانسفر ہو کے آئینی عدالت میں چلا گیا ہے،
شہادت اعوان نے کہاکہ 13615 ایکڑ زمین انکروچمنٹ میں ہے، یہ ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی ہے، اپنے ہاوس کو ان آرڈر کیوں نہیں کرتے ہیں،کیسز ڈسپوز آف ہوچکے ہیں آپ کو پتہ نہیں ہے، ریلوے کا بریف مس لیڈنگ، نامکمل ہوتا ہے،چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے وزارت ریلوے کوہدایت کی کہ ذمہ داری کا تعین کریں،ریکارڈ مکمل کرکے دیں، آپ نے ہمارا قیمتی وقت ضائع کیا،سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ اپنے سسٹم پر بھی بریفنگ دیں،
کمیٹی میں ریلوے کے دو ہزار سے زائد گھروں پر ناجائز قبضے کا انکشاف ہوا۔شہادت اعوان نے کہاکہ 34763 رہائشی مکان ہیں،جن میں سے 2323پر ناجائز طور پر قبضہ ہے،وہ ریلوے کے ملازم نہیں ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ ایک کوارٹر کے تین تین کوارٹر بنے ہوئے ہیں، شہادت اعوان نے سوال کیاکہ ریلوے کے کوارٹر میں بجلی کا میٹر کس کے نام ہوتا ہے؟ریلوے حکام نے بتایاکہ غیر مجاز میں ریلوے کا کوئی کنکشن نہیں ہے۔ سینیٹرشہادت اعوان نے سوال کیاکہ جو غیر مجاز رہ رہا ہے، کیا کنڈے پر بجلی استعمال کر رہا ہے؟ جو ریلوے ملازمین لسٹ میں ہیں ان کو گھر الاٹ کریں۔
آئی جی ریلوے پولیس نے کمیٹی کوبتایاکہ ایک دو جگہ پانی کے فلٹریشن پلانٹ لگائے ہوئے تھے،جو غیر قانونی رہ رہے ہیں ان پر ایف آئی آر کریں گے، ۔کمیٹی نے آئندہ میٹنگ میں پراگریس رپورٹ طلب کرلی۔چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے کہاکہ کمیٹی آپ پر مطمئن نہیں ہے، 13615ایکڑ ریلوے کی زمین پر قبضہ تھا،924 ایکڑ زمین انہوں نے واگزار کرائی، 12691 ایکڑ زمین پر 96 ہزار تین سو 27 ہزار لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے،آئی جی کی رپورٹ کے مطابق جن کوارٹرز میں غیر قانونی سرگرمی ہو رہی ہے ،ان کی تعداد 236 ہے۔
مزید پڑھیں





