فرانس میں مظاہروں پر پولیس کریک ڈاؤن، اقوام متحدہ کے ماہرین کا اظہارِ تشویش

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے فرانس میں طلبہ کے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کے مبینہ غیر متناسب استعمال اور ہزاروں افراد کی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کی ہے-
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ 4 ماہرین نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ فرانس میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر کم عمر نوجوان شامل ہیں، کی گرفتاری اور حرا ست بظاہر غیر متناسب ہے۔
ان کے مطابق پولیس کارروائیوں سے مظاہرین اپنی آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کے حق استعمال کرنے سے بھی گریز کرسکتے ہیں بیان دینے والے ماہرین میں پُرامن اجتماع کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ جینا رومیرو اور ثقافتی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی ماہر فریدہ شاہد بھی شامل ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ فرانسیسی حکام نے اکتوبر میں طلبہ سے مذاکرات اور ان کے مطالبات پر غور کے لیے متعدد اقدامات کیے، تاہم احتجاج سے نمٹنے کے لیے بنیادی توجہ سیکیورٹی پر مرکوز رکھنے کے باعث ان وجوہات کو نظر انداز کیا گیا جن کی بنا پر طلبہ سڑکوں پر نکلے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے دوران کم عمر مظاہر ٍین کو پہنچنے والی سنگین اور بعض صورتوں میں ناقابلِ تلافی چوٹیں ناقابلِ قبول اور ناقابلِ جواز ہیں۔
انہوں نے فرانسیسی حکام پر زور دیا کہ وہ پولیسنگ کی حکمت عملی اور طریقہ کار کا جامع جائزہ لیں تاکہ مظاہرین اپنے تحفظات کا اظہار کرسکیں اور سماجی تنازعات کا پُرامن حل ممکن بنایا جاسکے۔
واضح رہے کہ فرانس میں ستمبر کے وسط سے طلبہ کے مظاہرے جاری ہیں، جن کا آغاز ہائی اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور اساتذہ کی غیر حاضریوں کے خلاف شکا یا ت سےہوابعد ازاں طلبہ نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف ملک گیر احتجاج میں بھی شر کت کی، جس کے دوران بعض مقامات پر ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، جن سے نمٹنے کے لیے 70 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے اور ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، سینکڑ وں کاروباری مراکزمیں لوٹ مار ہوئی اور 2 ہزار 700 افراد گرفتار کیے گئے تھےپولیس کارروائیوں کے دوران شمالی شہر لِل میں ایک کم عمر طالب علم کا دستی بم پھٹنے سے ہاتھ بھی ضائع ہوگیا تھا۔
مزید پڑھیں





