خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا امکان ، پولیس ہائی الرٹ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے-
ذرائع کے مطابق پشاور پولیس نے ممکنہ احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں تیز کردی ہیں، پولیس کے اینٹی رائٹس دستے نے بھی مشقیں شروع کردی ہیں پولیس کے پاس پہلے سے آنسو گیس کے 5 ہزار شیل موجود تھے، تاہم مزید 5 ہزار شیل منگوا لیے گئے ہیں جبکہ پشاور میں احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے لیے قائم 400 اہلکاروں پر مشتمل پولیس دستے نے بھی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس نے کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق سرکاری و نجی املاک کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز خیبر پختونخوا نے پولیس کو خصوصی ہدایات ایک ایسے وقت میں جاری کی ہیں جب وفاق صوبے کے کچھ اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کی تیاری کررہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاق کے خلاف اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق انہیں وفاق کی جانب سے پہلے ہی احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایات مل چکی تھیں تحریری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں ملوث عناصر سے قانون کے مطابق انتہائی سختی سے نمٹا جائےگا۔ کسی بھی ہنگامہ آرائی یا احتجاج کے دوران سرکاری تنصیبات، عمارتوں اور املاک کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہدایات میں لکھا ہے کہ عوام کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع، پُرتشدد سرگرمی یا اشتعال انگیزی کا حصہ بننے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کی جائے گی امن و امان میں خلل ڈالنے، سیکیورٹی فورسز یا عمارتوں پر حملے کرنے یا شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔ شہری پُرامن رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے, احتجاجی مظاہروں اور کارروائیوں کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی تاکہ بعد میں ضروری قانونی کارروائی میں مدد مل سکے,احتجاجی صورت حال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جائے گی۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 9 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے توثیق حاصل کرنے کے لیے اجلاس طلب کیے گئے ہیں، آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفا ذ کی صورت میں 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔
مزید پڑھیں





