رانا عمران سکندر کا پمز اسپتال میں داخلہ بند کرنے کی درخواست جمع

پمز اسپتال میں رانا عمران سکندر کا داخلہ بند کرنے کی درخواست جمع کروائی گئی ہے-
پمز اسپتال کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو اگست 2026 میں عہدے سے معطل کر دیا گیا تھا،حکومت پاکستان نے پمز اسپتال کے 21ویں گریڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
ان کی معطلی کے بعد ڈاکٹر محمد سلمان کو تین سال کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا نیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ،پمز اسپتال میں پیش آنے والے ایک آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری کے بعد وزیرِ اعظم کی ہدایت پر یہ کارروائی عمل میں آئی تھی۔-
تاہم اب درخواست جمع کرائی گئی ہے جس میں رانا عمران سکندر کا پمز اسپتال میں داخلہ بند کرنے کی استدعا کی گئی ہے،درخواست ایڈووکیٹ ناصر عظیم خان نے پمز کے ڈائریکٹر تنویر خالق کو جمع کرائی ہے-
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ رانا عمران سکندر کا پمز اسپتال میں داخلہ بند کیا جائے کیونکہ وہ اسپتال آ کر ٹیمپرنگ کر رہے ہیں ،موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست پمز کے ریکارڈ ٓز اسپتال کی سیکیورٹی اور شواہد کے تحفظ کے لئے دی گئی ہے-
یاد رہےکہ وفاق کے زیرانتظام پمزاسپتال کے نرسری وارڈ میں خوفناک آتشزدگی سے 15 نومولود جاں بحق پوگئے تھے وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کر کےکارروائی کرنےکی منظوری دی تھی۔
ان 8 افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر ، سکیورٹی پر مامور کمپنی اور عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دی گئی تھی، معطل ہونے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ شامل تھے۔
ان کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار بھی معطل ہونے والوں میں شامل تھے۔
مزید پڑھیں





