پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سربیا کی جین زی (Gen Z) کا سیاسی انقلاب: پاکستان کے لیے ایک نیا سیاسی ماڈل ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

نقطہ نظر

* کیا پاکستان کے نوجوان موروثی خاندانی سیاست کے تسلسل کو توڑ سکتے ہیں؟

Serbia's Gen Z Revolution a New Political Model for Pakistan | BaaghiTV

دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری صورتحال، دفاعی بازدارندگی کی حکمت عملی اور دفاعی جدید کاری میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمنٹیز (Research and Evaluation Cell for Advancing Basic Amenities) کے رکن بھی ہیں۔ آپ پاکستان آرمی کے سابق افسر ہیں اور عسکری امور، تزویراتی مطالعات، جغرافیائی سیاست، قومی سلامتی، تاریخِ تنازعات اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں تجربہ اور تحقیقی دلچسپی رکھتے ہیں۔


آپ تحقیقی اور سماجی ترقی کی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں، جبکہ ایک بلڈر، ڈیولپر اور سماجی خدمت گار کی حیثیت سے پاکستان بھر میں متعدد مدارس اور اسکولوں کے قیام اور انتظامی امور میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔



کبھی کبھی کسی قومی سانحے سے سیاسی تبدیلی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ سربیا نے حال ہی میں ایسی ہی ایک مثال پیش کی ہے، جس میں پاکستان، بالخصوص ہماری نوجوان نسل کے لیے ایک اہم سبق موجود ہے۔


یکم نومبر 2024 کو سربیا کے شہر نووی ساد (Novi Sad) کے ریلوے اسٹیشن پر کنکریٹ سے بنا ہوا چھت کا سائبان گر گیا، جس کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس المناک حادثے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور بدعنوانی، حکومتی نگرانی اور ادارہ جاتی جواب دہی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔


طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کے احتجاج نے بتدریج ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرلی۔


تاہم جب روایتی سیاسی دباؤ سے مطلوبہ تبدیلی حاصل نہ ہوسکی تو طلبہ نے ایک مختلف حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔


*انہوں نے خود سیاست دان بننے کے بجائے ایسے اہل اور قابل افراد کو تلاش کرنے اور ان کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا جو ملک کی قیادت اور حکمرانی کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔*


سیاست کا ایک مختلف انداز


سربیا کے طلبہ نے سیاست میں ایک غیر معمولی طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے کسی ایک فرد کی ذاتی سیاسی خواہشات کے گرد نئی روایتی جماعت بنانے کے بجائے ایک ایسی تحریک منظم کی جس کا مقصد زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہل اور پیشہ ور افراد کو تلاش کرنا تھا۔


پارلیمان کے لیے ان کے مجوزہ امیدواروں میں ماہرینِ تعلیم، ڈاکٹرز، پروفیسرز، ماہرینِ معاشیات، منتظمین اور دیگر شعبوں کے تجربہ کار اور قابل افراد شامل تھے۔


اس تحریک کا بنیادی فلسفہ نہایت سادہ تھا: طلبہ ضروری نہیں کہ خود سیاسی عہدے حاصل کریں، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ دیانت دار، تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد قوم کی نمائندگی کریں۔


طلبہ کا کردار تحریک کو منظم کرنا، عوامی رائے کو متحرک کرنا اور قابلِ اعتماد امیدواروں کی سیاسی حمایت فراہم کرنا تھا۔


اکتوبر 2026 میں طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک نے ایک غیر معمولی انتخابی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سربیا کی 250 رکنی پارلیمان میں تقریباً 140 نشستیں حاصل کرلیں۔


اس کامیابی نے ثابت کیا کہ ایک منظم نوجوان نسل تشدد اور تصادم کے بجائے جمہوری عمل کے ذریعے روایتی سیاسی ڈھانچوں کو چیلنج کرسکتی ہے۔


یقیناً اصل امتحان یہ ہوگا کہ نئے منتخب نمائندے اپنے وعدوں کو بہتر حکمرانی میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔


اس کے باوجود سربیا نے سیاست کا ایک متبادل ماڈل پیش کیا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔


پاکستان کی جین زی (Gen Z) کے لیے پیغام


پاکستان کو اس پیش رفت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔


کئی دہائیوں سے ہمارا سیاسی منظرنامہ بڑی حد تک مخصوص سیاسی خاندانوں، موروثی قیادت، ذاتی وفاداریوں اور روایتی طاقت کے ڈھانچوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔


اکثر سیاسی عہدوں کو عوامی ذمہ داری کے بجائے خاندانی وراثت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی سیاسی خاندان کا ہر فرد نااہل یا بددیانت ہے۔ اصل مسئلہ وہ سیاسی کلچر ہے جس میں اکثر میرٹ اور کارکردگی کے مقابلے میں خاندانی تعلقات کو ترجیح دی جاتی ہے۔


پاکستان کی جین زی کو خود سے ایک بنیادی سوال کرنا ہوگا:


*کیا ہم موروثی سیاسی قیادت کو اسی طرح قبول کرتے رہیں گے یا میرٹ، احتساب اور عوامی خدمت پر مبنی ایک نئی سیاسی ثقافت متعارف کرانے کے لیے تیار ہیں؟*


ہماری نوجوان نسل تعلیم یافتہ ہے، ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہے اور قومی و بین الاقوامی حالات سے پہلے کی نسبت زیادہ باخبر ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر سیاست دانوں پر تنقید کرنا اور کبھی کبھار احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنا پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لیے کافی نہیں۔


سربیا کا تجربہ ہمیں ایک زیادہ تعمیری سبق دیتا ہے: منظم ہوں، قابلِ اعتماد پیشہ ور افراد کی شناخت کریں، ایک قومی پروگرام تشکیل دیں اور آئینی و جمہوری ذرائع سے عملی سیاسی کردار ادا کریں۔


پاکستان کے نوجوان ڈاکٹرز، انجینئرز، ماہرینِ معاشیات، ماہرینِ تعلیم، سائنس دانوں، کاروباری شخصیات، وکلا اور تجربہ کار منتظمین میں سے اہل امیدواروں کی شناخت کے لیے ایک آزاد پلیٹ فارم قائم کرسکتے ہیں۔


ان امیدواروں کا انتخاب ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں، دیانت داری، عوامی ساکھ اور قومی خدمت کے جذبے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔


جین زی کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خود انتخابات میں حصہ لے۔ اس کا سب سے بڑا کردار درست لوگوں کی شناخت اور ان کی حمایت کرنا بھی ہوسکتا ہے۔


پاکستان کو ایک نئی سیاسی ثقافت کی ضرورت ہے


پاکستان کو اس وقت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، بدعنوانی، تعلیمی معیار میں گراوٹ اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل ہیں۔


ان مسائل کا حل صرف سیاسی نعروں میں نہیں بلکہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عملی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔


ہمیں ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو معاشی نظم و نسق، ٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت، صنعتی ترقی اور بین الاقوامی تعلقات کو سمجھتے ہوں۔ عوامی عہدے کو دولت، اثر و رسوخ یا خاندانی وقار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔


پاکستان کو سربیا کی اندھی تقلید کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے سیاسی، آئینی اور سماجی حالات مختلف ہیں۔ لیکن بنیادی اصول ہر جگہ یکساں ہے: سیاسی قیادت خاندانی تعلقات کی بنیاد پر وراثت میں نہیں بلکہ اہلیت، قابلیت اور عوامی اعتماد کے ذریعے حاصل ہونی چاہیے۔


پاکستان کی خدمت کا وقت آگیا ہے


میرا یقین ہے کہ پاکستان کی جین زی اب اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں اسے سیاسی بحثوں اور سوشل میڈیا مہمات سے آگے بڑھ کر ملک کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔


یہ کسی تصادم یا موجودہ اداروں کو تباہ کرنے کی دعوت نہیں بلکہ پُرامن، منظم اور آئینی سیاسی شرکت کی اپیل ہے۔


سربیا کے طلبہ نے ثابت کیا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھیں۔ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی درست لوگوں کی شناخت کرنا اور انہیں قومی خدمت کا موقع فراہم کرنا ہوتی ہے۔


پاکستان میں تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد کی کوئی کمی نہیں۔ ہمیں صرف ایک قابلِ اعتماد نظام اور طریقۂ کار کی ضرورت ہے جو ایسے افراد کو سیاست اور فیصلہ سازی کے عمل میں آگے لاسکے۔


*اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی جین زی محض نظام پر تنقید کرنا چھوڑے اور اس کا ایک بہتر متبادل تعمیر کرنے کے لیے عملی قدم اٹھائے۔*


ہمارے ملک کو ہماری صلاحیتوں، دیانت داری، تعلیم اور قومی عزم کی ضرورت ہے۔


اب آگے بڑھنے، پاکستان کی خدمت کرنے اور قوم کے لیے کوئی بامقصد اور تعمیری کردار ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔


*پاکستان ہم سب کا ہے۔ اس کا مستقبل چند سیاسی خاندانوں کی موروثی جاگیر بن کر نہیں رہنا چاہیے۔*