بین الاقوامی منظرنامے میں پاکستان کا بڑھتا ہوا وقار،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
پاکستان کا عالمی وقار نئی بلندیوں پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششیں
امریکہ سے یورپ تک پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت پاک فوج، وزیراعظم شہباز شریف، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزارتِ خارجہ کی مشترکہ کاوشیں
تجزیہ نگار: شہزاد قریشی
میں یورپ میں مقیم ہوں اور امریکہ سے لے کر یورپ کے مختلف ممالک تک سفر کرنے اور بین الاقوامی معاشروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے جب میں پاکستان کی موجودہ عالمی حیثیت، اس کی سفارتی سرگرمیوں اور قومی اداروں کے کردار کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے عالمی سیاست میں اپنی اہمیت منوانے کے لیے ایک نمایاں پیش رفت کی ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کی جغرافیائی اہمیت، ایٹمی صلاحیت یا عسکری قوت میں نہیں، بلکہ اس کی اسٹریٹجک حیثیت، سفارتی روابط، تجربہ کار اداروں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت میں بھی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں کسی ملک کا مقام صرف اس کی معیشت یا فوجی طاقت سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ عالمی تنازعات کے حل، علاقائی استحکام اور بڑی طاقتوں کے درمیان رابطوں میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور تحقیقی اداروں نے بھی پاکستان کی اس نئی سفارتی اہمیت کا جائزہ لیا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور سفارتی کوششوں میں ایک اہم کردار حاصل کیا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سرگرمیاں بھی نمایاں رہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں محض حالات سے متاثر ہونے والا ملک نہیں، بلکہ بعض اہم معاملات میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں، مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں رابطہ کاری اور سعودی عرب سمیت اہم علاقائی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون، پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے اہم پہلو ہیں۔ تاہم، کسی بھی قومی کامیابی کو صرف ایک شخصیت تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ اس میں وزیراعظم شہباز شریف،اسحاق ڈار، وزارتِ خارجہ، سفارتی عملے، مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا بھی کردار ہوتا ہے۔
اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب قومی قیادت کے مختلف مراکز ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کریں اور ملک کے مفادات کو ذاتی یا جماعتی مفادات پر ترجیح دیں۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اس کی قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ پاک فوج، پاک فضائیہ، پاک بحریہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری صرف سرحدوں کا دفاع نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے وسیع تر تقاضوں کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ آج کے دور میں دفاع اور سفارت کاری ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ کسی ملک کی عسکری صلاحیت اسے مذاکرات کی میز پر اہمیت دلا سکتی ہے، لیکن اس اہمیت کو پائیدار کامیابی میں بدلنے کے لیے دانش مندانہ سفارت کاری، معاشی استحکام اور سیاسی بصیرت بھی ضروری ہیں۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت، سفارتی روابط اور قومی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو مزید مضبوط کرے۔ اس کے ساتھ اداروں پر عوامی اعتماد، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی بھی قومی استحکام کے لازمی تقاضے ہیں۔ پاکستان کے لیے مسلم دنیا کے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات محض رسمی سفارت کاری نہیں، بلکہ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی امن کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ 7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط علاقائی تعاون کی ایک اہم پیش رفت تھی۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اسے تینوں ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا۔ یہ تعاون پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، اس کی حقیقی کامیابی کا اندازہ آنے والے وقت میں اس بات سے ہوگا کہ یہ شراکت داری کس حد تک علاقائی امن، دفاعی ہم آہنگی، اقتصادی تعاون اور مشترکہ مفادات کو عملی فائدہ پہنچاتی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں پاکستان کے لیے امکانات موجود ہیں، لیکن ان امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت درکار ہے۔ سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی اور پاکستانی افرادی قوت کے لیے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے ملک کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کردار صرف اپنے وطن کا دفاع کرنا نہیں، بلکہ پاکستان کی مثبت شناخت کو اجاگر کرنا، معاشی روابط بڑھانا اور مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا بھی ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ ہمیں پاکستان کی کامیابیوں کا ذکر اعتماد کے ساتھ کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ عالمی سطح پر کسی ملک کا وقار اسی وقت دیرپا بنتا ہے جب اس کی سفارتی کامیابیاں معاشی ترقی، مضبوط اداروں اور عوام کی خوش حالی میں بھی تبدیل ہوں۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی کامیابی ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن اسے مکمل کامیابی قرار دینے کے لیے مزید نتائج درکار ہوتے ہیں۔پاکستان کو دہشت گردی، معاشی مشکلات، سیاسی اختلافات، بے روزگاری اور عوامی مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی اہمیت اسی وقت دیرپا فائدہ دے گی جب ملک کے اندر امن و استحکام قائم ہو، سرمایہ کاری بڑھے، نوجوانوں کو روزگار ملے اور عام شہری کی زندگی میں بہتری آئے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مستقل مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن، خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے۔ پاکستان کا وقار، پوری قوم کا وقار، امریکہ سے لے کر یورپ تک سفر اور قیام کے اپنے تجربات کی روشنی میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر حاصل ہونے والے ہر مثبت موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پاکستان کی سفارتی اہمیت، دفاعی صلاحیت اور علاقائی کردار اس کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں، وزیراعظم شہباز شریف کی حکومتی کوششیں اور دیگر قومی اداروں کا کردار پاکستان کے بین الاقوامی مقام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کامیابی کو مستقل بنانے کے لیے پوری قومی قیادت کو ایک واضح سمت اختیار کرنا ہوگی۔
مزید پڑھیں




