فائزہ شہزاد (خیبر پختونخوا کی پہلی مزاح نگار خاتون کی کتاب " بولوں کہ نہ بولوں سے اقتباس)
ایک تو مُجھے اِس اسٹیٹس لفظ کا مطلب و معنی سمجھ ہی نہیں آیاـ ڈکشنری کھولی اور اُس کے کوئی بیس کے قریب معنی تھے، جو مختلف صورتوں اور حالتوں میں استمعال ہوتے ہیں ـ اب ہم ٹھہرے اُردو میڈیم کی پیداوار اور ہم تو جانیں سیدھی بات کہ اسٹیٹس تو دو ہی قسم کے ہوتے ہیں، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ، مگر یہاں تو کوئی قانونی، غیر قانونی، ظاہری، پوشیدہ، شخصی، موروثی، سیاسی اور پتا نہیں کیا کیا؟ بندا پوچھے، یہاں تو ہمیں ایک انگریزی مضمون یاد کرنے میں ہفتوں لگ جاتے تھے کُجا اِس اسٹیٹس کو یاد رکھناـ ابھی اِس مسئلے کو حل نہ کر پائے تھے، کہ مارکیٹ میں ایک نیا اسٹیٹس آ گیاـ جس کو دیکھو! اسی کے پیچھے لگ گیا، بلکہ دوڑ میں لگ گیاـ شروع شروع میں تو سب ٹھیک ٹھاک رہا، مگر پھر یہ گھر گھر میں فتنہ و فساد کی علامت بن گیاـ پہلے ایک دوسرے کی خیر خبر اور دوستی کا ذریعہ تھا،پھر یہ نشتر زنی اور دشمنی کا ذریعہ بن گیاـ اتنی مصروف ترین زندگی میں ناجانے لوگ کیسے وقت نکال لیتے ہیں؟ کہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا بھی اسٹیٹس ایسے چیک کرتے ہیں، جیسے کوئی بہت ثواب کا کام ہو، یا اگر نہ دیکھا تو جنت سے محروم ہو جائےگاـ جس کو دیکھ لو، بھیڑ چال کا شکار ہےـ ایک دن سوچا! چلو اُس اسٹیٹس کے معنی بچپن سے ہی نہیں سمجھ آئے تو اب پچپن میں خاک سمجھ آئیں گے، چھوڑو اب سیکھ کر کیا کرنا ہے، اب تو اپنا اسٹیٹس ہی بدل گیا( پہلے غیر شادی شدہ، پھر ترقی ہو گئی اور شادی شدہ ہو گیا اور اب تو ٹائٹینک کی طرح ڈوب ہی گیا ہے) لہٰذا چلو ذرا اِس نئے والے کو دیکھا جائے، شاید کُچھ سمجھ آ ہی جائےـ پہلے تو پورے بہتر گھنٹے لگا کر بچوں سے طریقہ سیکھا اور پھر یہ شان بے نیازی سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر خود کو کوئی ماورائی مخلوق سمجھتے ہوئے، ایک بٹن کو کلک کیا، تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں! وہاں تو اِک الگ ہی جہان آباد تھاـ سب سے پہلا نام اپنی کام والی ماسی کا اور اُس کا اسٹیٹس پڑھ کر ایسا لگا کہ نوبل انعام یافتہ کیمیاءدان تو یہی تھی( ماسی راک اور میں شاک) اتنے میں دوسرے نام کو دیکھا، تو بچوں کے قاری صاحب نے گویا ساری دھرتی کو ہی ہلا کر رکھ دیا تھا اور سوائے اُن کے باقی سب جہنم رسید ہو چُکے تھے، جنت کا ٹکٹ صرف اُن کے پاس تھاـ یہاں تو سب کے اسٹیٹس اتنے بلند و بالا تھے، کہ اپنا آپ تو نہایت کمتر محسوس ہوا اور سوچ میں پڑ گئے، کہ یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ ساری زندگی کتابیں چاٹنے میں لگا دیں اور کچھ سمجھ ہی نہ پائے، کچھ بن ہی نہ پائے اور اِدھر دیکھو! ہر قسم کا اور ہر پائے کا ادیب، شاعر، محقق، تبصرہ نگار، موٹیویشنل اسپیکر(اپنے گھر والوں کے آگے سارے اسپیکر جلے ہوتے ہیں، بند ہوتے ہیں اور تیرے میرے آگے یہ اسپیکر فل والیوم میں چل رہے ہوتے ہیں، بلکہ سروں میں سوراخ کر رہے ہوتے ہیں)ڈاکٹر، عالم فاضل، مفتی وغیرہ وغیرہ اپنے اپنے بھاشن جھاڑتے نظر آتے ہیں ـ جن کو" الف، بے،" تک نہیں آتی، وہ یہاں دانشور بنے بیٹھے ہیں ـ ساس بہو کو، بہو ساس کو، بہن بھائی کو، بھائی بہن کو، ماں بیٹے کو، یہاں تک کہ بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو، ایسی ایسی باتیں لگا رہا ہے، بلکہ آگ لگا رہا ہےـ بالکل دو منٹ کو مُجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ موبائل ایک" دیا سلائی یعنی ماچس" ہے جو بندر کے ہاتھ لگ گئی اور وہ اُسے رگڑ رگڑ کر آگ لگاتا جا رہا ہےـ اتنے میں ایک اور نام پر نظر پڑی تو بیہوش ہوتے ہوتے بچی( نام تھا ایک اسرائیلی اوہو! مطلب ایک سسرالی عزیزہ کا، جن سے پچھلے دنوں کچھ پنگا ہو گیا تھا)اور سب سمجھ آ گئی، کہ اسٹیٹس اصل میں کیا ہے اور اِس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟ جی ہاں! جو لڑائی آپ آمنے سامنے نہیں لڑ سکتے، جو جلن اور حسد آپ منہ در منہ نہیں نکال سکتے، جوطعنے، جو نشتر آپ ڈائریکٹ نہیں چبهو سکتے، صدیوں کا دل میں دبایا ہوا کینہ اور بغض جو آپ ظاہر نہیں کرسکتے اور کسی پر الزام تراشی، کردار کشی سرعام نہیں کر سکتے، تو اُس کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ یہ ہے، کہ اُسے اسٹیٹس کی زینت بنا دیا جائے، سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی ـ
مزید پڑھیں






