Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لندن سے شکاگو کی پرواز میں فنی خرابی،ڈھائی گھنٹے پرواز میں چکر لگانے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

british airways

برٹش ایئرویز کی پرواز (بی اے 295) جو لندن سے شکاگو جا رہی تھی، فنی خرابی کے باعث 6 منٹ میں تقریباً 28 ہزار فٹ نیچے آ گئی اور بعد میں ہیتھرو ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گئی-


میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی شہر شکاگو جانےوالی برٹش ایئرویز کی ایک پرواز نے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے 55 منٹ بعد آئرلینڈ کی فضائی حدود میں طیارہ 37 ہزار فٹ سے صرف 6 منٹ میں 9 ہزار فٹ کی بلندی پر آ گیا،بوئنگ 777 طیا رہ پیر کے روز لندن ہیتھرو ایئرپورٹ سے شکاگو کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم پرواز کے دوران اس کی بلندی تقریباً 36 ہزار فٹ سے کم ہو کر 9 ہزار فٹ کے قریب رہ گئی،پائلٹس نے ہنگامی حالت کا 7700 کوڈ جاری کیا،اضافی فیول ضائع کرنے کے پروٹوکول کے تحت طیارے نے لینڈنگ سے قبل تقریباً ڈھائی گھنٹے تک فضا میں چکر لگائے،روانگی کے پونے 5 گھنٹے بعد طیارے نے لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہنگامی مگر بحفا ظت لینڈنگ کی،


برٹش ایئرویز کے ترجمان نے بتایا کہ طیارے کو تکنیکی خرابی کے باعث واپس ہیتھرو ایئرپورٹ لانے کا فیصلہ کیا گیا،مسافروں اور عملے کی حفاظت ہمیشہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہمارے تربیت یافتہ پائلٹس نے تکنیکی خرابی کے باعث طیارے کو واپس ہیتھرو پہنچایا،جہاں اس نے بحفاظت لینڈنگ کی،مسافروں نے معمول کے مطابق طیارے سے اترنے کے بعد اپنی سفری ضروریات کے لیے ایئرلائن کی ٹیم سے تعاون حا صل کیا۔


پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے مطابق طیارہ لندن کی جانب واپس مڑ گیا تھا، تاہم ہیتھرو پر فوری لینڈنگ کے بجائے کئی گھنٹوں تک انگلینڈ کے مختلف علاقوں کے اوپر چکر لگاتا رہا اور بعد ازاں ایئرپورٹ واپس پہنچا۔


تقریباً 40 سال کا پروازوں کا تجربہ رکھنے والے امریکی بحریہ کے ایف اے 18 لڑاکا طیارے کے سابق پائلٹ میتھیووِزبکلی نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کا پرواز کا انداز ممکنہ طور پر ہنگامی طور پر بلندی کم کرنے سے مطابقت رکھتا ہے، جو کیبن پریشر میں خرابی کی صورت میں کیا جاتا ہے اگر طیارے میں کیبن پریشر کا مسئلہ پیدا ہوجائےتواسے 10 ہزار فٹ سےکم بلندی پر لانا ضروری ہو سکتا ہے تاکہ مسافروں اور عملے کے لیے اضافی آکسیجن کی ضرورت ختم یا کم کی جاسکے۔


https://x.com/tparon/status/2107115453281661206?s=20


بکلی نے کہا کہ بظاہر پائلٹس نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا اور طیارے کا نظام توقع کے مطابق کام کرتا رہا، مسافروں کے لیے اچانک بلندی میں اتنی نمایاں کمی ایک پریشان کن تجربہ ہوسکتی ہے، خصوصاً اگر دورانِ پرواز آکسیجن ما سک بھی فعال ہوگئے ہوں۔


طیارے کے ہیتھرو واپس آنے سے قبل کئی گھنٹوں تک فضا میں چکر لگانے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے، ماہر کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ طیارے کا زیادہ وزن ہوسکتی ہے، بین البراعظمی پرواز کے لیے روانہ ہونے والا طیارہ بڑی مقدار میں ایندھن لے کر اڑتا ہے، اس لیےکسی ہنگامی صورتحال میں فوری لینڈنگ سے قبل طیارےکا وزن مناسب حد تک کم کرنا ضروری ہوسکتا ہے اگر ایندھن فضا میں خارج نہ کیا جاسکے تو طیارہ کچھ دیر تک چکر لگا کر ایندھن خرچ کرسکتا ہے، تاکہ لینڈنگ کے لیے محفوظ وزن حاصل کیا جاسکے۔


https://x.com/CBSNews/status/2107326287001882898?s=20


انہوں نے کہا کہ طیارے کو مقررہ حد سے زیادہ وزن کے ساتھ اتارنا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے لینڈنگ گیئر اور بریکس پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے،دورانِ پرواز کسی خرابی کی صورت میں پائلٹس کو طیارے کی صورتحال کا جائزہ لے کر زمین پر واپسی کے لیے محفوظ ترین را ستے کا تعین کرنا ہوتا ہے،پائلٹس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک ہنگامی صورتحال کو دوسری مشکل میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔