Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی بڑھ گئی، اعدادوشمار سامنے آ گئے

kpk-police

وزیراعظم کی زیرِ صدارت کابینہ کے اہم ترین اجلاس میں حساس اداروں کی رپورٹ پیش کر دی گئی-


خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو اہم خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئی ہیں ، رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوادہشت گردی میں مسلسل اضافہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کیلئے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا-


حساس اداروں کی رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر اور مقامی سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کے لئے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا، صوبائی سطح پر تیاری، توجہ اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں کمی سے دہشت گرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا-


رپورٹ میں کہا گیا کہ یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد ہوشربا اضافہ ریکارڈ ہوا رپورٹ میں دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط بھی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج قرار دیا گیا-


سال 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بنے،خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں تشویشناک اضافہ ہوا 2024 میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا 2026 میں دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد170 تک پہنچ گئی-


رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافہ ہوا ،بارودی حملوں میں تشویشناک اضافہ، آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 2025 میں بڑھ کر 181 ہو گئی، رواں سال ستمبر تک 159 حملے ریکارڈ کیے گئے،د ہشت گردی کے بدلتے طریقۂ کار کے مقابلے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ناگزیرہے-


رپورٹ میں بتایا گیاکہ پورے خیبر پختونخوا کیلئے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے خیبر پختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں ،پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں اور ضروری آپریشنل سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا ہے،د ہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اضلاع میں بکتر بند اور محفوظ گاڑیوں کی کمی ہے-


رپورٹ میں کہا گیا کہ محفوظ گاڑیوں کی عدم دستیابی سے جنوبی اضلاع میں پولیس کی نقل و حرکت اور آپریشنل صلاحیت متاثر ہوئی پولیس اور سی ٹی ڈی کے پاس جدید سرویلنس اور انٹیلی جنس آلات ناکافی ہیں نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ آلات بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں،ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو مطلوبہ تربیت، وسائل اور استعدادِ کار کی کمی ہے-


سی ٹی ڈی کو خصوصی تربیت یافتہ افرادی قوت کی سنگین کمی کا سامنا ہے خصوصی انسدادِ دہشت گردی فورس ہونے کے باوجود افرادی قوت کیلئے سی ٹی ڈی کا معمول کی پولیس پر انحصار،ہے سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر، آپریشنل سہولیات اور خصوصی انفراسٹرکچر ضروریا ت کے مقابلے میں ناکافی ہے دہشت گردی کے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کیلئے سی ٹی ڈی کے مخصوص، جدید اور مضبوط انفراسٹرکچر کی فوری ضرورت ہے-


رپورٹ میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، ادارہ جاتی کمزوریوں اور گورننس کی صورتحال پر کابینہ کمیٹی کا شدید اظہارِ تشویش کیا گیا سکیورٹی اداروں کی استعداد، صوبائی تیاری اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں موجود سنگین خلا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا -


ذرائع کے مطابق رپورٹ میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے اسباب اور ذمہ داریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا-