گندم و آٹے کی مہنگائی کا طوفان، تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

روٹی انسان کی بنیادی ضرورت ہے، مگر جب اسی روٹی کے حصول کے لیے غریب آدمی کو اپنی جیب بار بار ٹٹولنی پڑے تو یہ محض مہنگائی نہیں بلکہ معاشرتی ناہمواری کی ایک تلخ تصویر بن جاتی ہے۔ پاکستان میں گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں نے عام شہریوں، دیہاڑی دار مزدوروں، کم آمدنی والے ملازمین اور سفید پوش خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگ بجلی کے بلوں، بچوں کی تعلیمی ضروریات، علاج معالجے اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہیں۔ ایسے حالات میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ان کے لیے کسی نئی آزمائش سے کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر غریب آدمی کب تک اپنی ضروریات میں کٹوتی کرکے زندگی کا پہیہ چلاتا رہے گا؟ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ صرف بازاروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات ہر گھر کے بجٹ پر پڑتے ہیں۔ اکتوبر 2026ء کے پہلے ہفتے میں پنجاب کی اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 8 اکتوبر کو شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق گندم کی قیمت ایک ہفتے کے دوران 4700 روپے فی من سے بڑھ کر 5300 روپے فی من تک پہنچ گئی، یعنی 40 کلو گندم کی قیمت میں 600 روپے اضافہ ہوا۔ اسی دوران 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں تقریباً 250 روپے اضافے کی اطلاع سامنے آئی اور اس کا نرخ 2300 روپے تک پہنچ گیا۔ تاہم یہ قیمتیں مخصوص تاریخوں اور مارکیٹوں سے متعلق اطلاعات ہیں؛ مختلف شہروں اور علاقوں میں نرخ مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے مقامی قیمتوں کی تصدیق ضروری ہے۔ یہ اعدادوشمار ان لاکھوں گھرانوں کی پریشانیوں کی عکاسی کرتے ہیں جن کی آمدن محدود اور اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایک مزدور جو دن بھر دھوپ میں محنت کرکے اپنے بچوں کے لیے چند سو روپے کماتا ہے، اس کے لیے آٹے کے تھیلے میں چند سو روپے کا اضافہ بھی معمولی نہیں۔ اسے گھر کا راشن خریدنا ہے، بجلی کا بل ادا کرنا ہے، بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنی ہیں اور بیماری کی صورت میں علاج کا انتظام بھی کرنا ہے۔ جب آمدن وہی رہے اور ضروریات زندگی مہنگی ہوتی جائیں تو سب سے پہلے غریب کے دسترخوان سے غذائیت کم ہوتی ہے اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جو ایک عام خاندان کو ذہنی پریشانی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف روٹی تک محدود نہیں رہتے۔ تندور کی روٹی، نان، بیکری کی اشیا اور گندم سے تیار ہونے والی دوسری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ یوں ایک بنیادی جنس کی قیمت بڑھنے سے روزمرہ زندگی کے دوسرے اخراجات پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ خصوصاً بڑے خاندانوں کے لیے مہینے بھر کا راشن خریدنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ کم آمدنی والے افراد کے لیے دو وقت کی مناسب خوراک کا انتظام بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ غریب آدمی کے لیے آٹے کا تھیلا محض ایک چیز نہیں بلکہ پورے خاندان کی خوراک کا سہارا ہوتا ہے، اور جب اس کی قیمت بڑھتی ہے تو گھر کے دوسرے اخراجات میں کٹوتی کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔ گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کے دوران ایک اہم سوال ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کا بھی ہے۔ اگر بعض عناصر گندم ذخیرہ کرکے مصنوعی قلت پیدا کریں یا حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمتیں وصول کریں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہوتا ہے۔ تاہم کسی فرد یا کاروباری گروہ پر ثبوت کے بغیر الزام لگانا درست نہیں۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ گندم کے ذخائر، رسد، خریدوفروخت اور مارکیٹ میں قیمتوں کی مؤثر نگرانی کریں تاکہ اصل صورت حال سامنے آئے اور عوام کو ناجائز منافع خوری سے تحفظ مل سکے۔ اگر کسی جگہ ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ ثابت ہو تو قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے محض اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ سرکاری گندم کی فراہمی، فلور ملوں کو مقررہ کوٹے کی تقسیم اور سبسڈی کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ آٹے کی دستیابی کے ساتھ اس کی قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے تاکہ کسی علاقے میں مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کو مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور نہ کیا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور پرائس کنٹرول کے متعلقہ اداروں کو بازاروں میں باقاعدگی سے نگرانی کرنی چاہیے اور سرکاری نرخ نمایاں مقامات پر آویزاں کروانے چاہییں۔ ساتھ ہی کسانوں کے مفادات کا تحفظ بھی ضروری ہے تاکہ انہیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور صارفین کو بھی مناسب قیمت پر گندم اور آٹا دستیاب ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں غریب آدمی کسی غیر معمولی آسائش کا مطالبہ نہیں کرتا، وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کو دو وقت کی روٹی میسر ہو، گھر کا چولہا جلتا رہے اور اسے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس کے لیے محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کی جدوجہد کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ حکومت کو ایسی مستقل پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے جس سے گندم کی رسد بہتر ہو، قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم ہو اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا عوام کو سستی روٹی صرف اعلانات میں ملے گی یا عملی طور پر بھی ان کے دسترخوان تک پہنچے گی؟ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر غریب کی قوت خرید مسلسل کم ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاشرتی اور معاشی استحکام بھی متاثر ہوگا۔ حکومت، انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو عوام کی بنیادی ضرورت سے جڑا معاملہ سمجھتے ہوئے فوری، مؤثر اور مستقل اقدامات کریں، کیونکہ روٹی غریب کے لیے محض کھانا نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اور جب یہی ضرورت اس کی پہنچ سے دور ہونے لگے تو مہنگائی کا طوفان صرف جیبوں کو نہیں بلکہ گھروں کے سکون کو بھی بہا لے جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





