Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک وعدہ،تحریر: موحد عباسی

نقطہ نظر

کیا بات ہے حمدان!

میں ایک ہفتے سے محسوس کررہی ہوں کوئی بات تو ہے جو آپ کو بہت پریشان کررہی ہے۔

یہ ہرگز نا کہیے گا آپ صوفیہ کی وجہ سے پریشان ہیں۔ وہ رخصت ہوکر اپنے گھر گئی ہے جہاں وہ بہت آسودہ ہے۔


اپنی بیوی کے ماتھے پر فکر کی لکیریں دیکھ وہ دھیرے سے مسکرائے۔


کیا کہوں یار بس ایک پرانا وعدہ اچانک یاد آگیا۔ سوچتا ہوں کاش یہ سب یاد آنے سے پہلے میرا حافظہ ختم ہو جاتا یا کاش یہ وعدہ بہت پہلے یاد آجاتا۔

وعدہ بھی ایسا ہے نا حمیرا کہ اندر تک وجود کو کچوکے لگا رہا ہے۔


اچھا پرسکون ہوجائیں۔ میں بات کروں گی، میں سمجھاؤں گی۔ اگر نا مانے تو ہم اس کو کچھ پیسے دے دیں گے۔ آپ نے ساری زندگی کمایا ہے کچھ اپنے سکون کیلیے خرچ کرلیں۔

دونوں بچیوں کی شادی ہوگئی، ہمارا بیٹا صاحب اولاد ہے، اولاد نرینہ عطا ہوئی ہے۔

اگلے مہینے ہم اپنا چوتھا عمرہ کرنے جارہے ہیں۔ کیا تھوڑے پیسے آپ کے سکون کیلیے خرچ نہیں کرسکتے؟

حمیرا کسی اور زمرے میں کہہ رہی تھیں لیکن ان کے الفاظ حمدان صاحب کے دل پر الگ ہی ضربیں لگا رہے تھے۔


میری ماں نے کہا تھا جب تم سب چیز سے فارغ ہوجاؤ تو مسلمان بن جانا۔ ابھی اپنے کرئیر کو بنا لو، بیوی بچوں کا خیال رکھو۔

انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا اگر میں نے وعدہ پورا نہیں کیا تو میری ماں کو قبر میں عذاب ملے گا۔

حمدان اپنا ماتھا پکڑے رو پڑے۔


حمدان! پرسکون ہو جائیں۔ ایک بات کہوں اگر آپ برا نا مانیں۔


ایسے کیوں کہہ رہی ہو، بولو ناں میں کیوں برا مناؤں گا۔


نہیں کسی کے ماں باپ درمیان میں آجائیں تو بات کرتے ہوئے خیال کرنا چاہیے۔ دراصل ابھی بھی آپ امی مرحومہ کا سوچ رہے ہیں۔ غلطی پر تو آپ بھی ہیں۔ ان کا حساب تو جو ہوگا سو ہوگا لیکن آپ۔۔۔


میں سمجھ رہا ہوں اسی لیے تو فکرمند ہوں، ابا کماتے نہیں تھے نانا ابا کی پاکٹ منی، تایا، چچا کی طرف سے آئی امداد سے ہم پلے۔ میرا سارا کاروبار سود کے پیسوں پر ہے۔ میری بہو ماڈلنگ کرتی ہے۔

میری اولادیں مغربی سوچ اور وضع قطع لیے گھوم رہی ہیں۔


میں نے تمھارے سر سے ردا چھین لی۔ آج اتنے سال بعد میں اپنی ماں سے کیا وعدہ کیسے نبھاؤں۔

کہاں سے شروع کروں!


مخلوط نظام میں رہ کر میں نے ناجانے کتنے گناہ کیے، سچ کہوں تو چار سال پہلے انجائنا اٹیک پر مجھے یہ وعدہ یاد آگیا تھا۔ میں لوٹنا چاہتا ہوں حمیرا لیکن میرے پیر زمانے کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔

میں جتنا اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہوں مزید اندر دھنستا چلا جاتا ہوں۔


چلیں لوٹ چلتے ہیں، ہم غریبی سہہ لیں گے، میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں۔ ہم شروع سے شروع کریں گے، ہمارے بچے بھی جب اپنے والدین کو لوٹتے ہوئے دیکھیں گے تو عہد الست کی خاطر لوٹیں گے۔

جیسے آج آپ اپنی ماں سے کیے وعدے کیلیے لوٹے!

انہوں نے اپنے شوہر کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ اس وعدے کی پاسداری کیلیے کو کبھی انہوں نے اپنی ماں سے اور ان دونوں نے اپنے رب سے کیا تھا۔