جنسی استحصال کا نیا چہرہ ، اے آئی ڈیپ فیک،تحریر: سمیرا اکرام
نقطہ نظر
پہلے زمانے میں جنسی استحصال کے لیے ظالم کو مظلوم کے قریب آنا پڑتا تھا۔ اسے جسم تک پہنچنا پڑتا تھا، گلی کا سہارا لینا پڑتا تھا، تنہائی ڈھونڈنی پڑتی تھی۔ لیکن افسوس کہ اب ٹیکنالوجی نے ظلم کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ ظالم ہزاروں میل دور، اپنے کمرے میں بیٹھ کر بھی کسی کی عزت تار تار کر سکتا ہے۔ اور اس نئے، جدید اور بھیانک ظلم کا نام ہے، اے آئی ڈیپ فیک۔
ڈیپ فیک کیا ہے؟ یہ مصنوعی ذہانت، یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ایک خطرناک اور منفی استعمال ہے۔ اس میں کسی بھی لڑکی کی ایک عام سی تصویر، جو اس نے اپنے واٹس ایپ کی پروفائل، فیس بک یا انسٹاگرام پر لگائی ہوتی ہے، کو لے کر اس کی جعلی فحش ویڈیو بنا دی جاتی ہے۔ وہ لڑکی کبھی اس کمرے میں گئی ہی نہیں ہوتی، اس نے وہ کپڑے کبھی پہنے ہی نہیں ہوتے، اس نے وہ بات کبھی کہی ہی نہیں ہوتی، لیکن ویڈیو میں وہی نظر آتی ہے، وہی بولتی ہوئی لگتی ہے۔ دیکھنے والا سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتا۔
یہ ہے جنسی استحصال کا نیا اور سب سے بھیانک چہرہ، جہاں جسم کو چھوئے بغیر روح کو مار دیا جاتا ہے۔ جہاں ہاتھ لگائے بغیر عزت لوٹ لی جاتی ہے۔
یہ کیوں زیادہ خطرناک ہے؟ پرانے استحصال میں ثبوت کی ضرورت ہوتی تھی، گواہ کی ضرورت ہوتی تھی، جگہ کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس نئے استحصال میں صرف ایک تصویر کافی ہے۔ آپ کی کلاس کی گروپ فوٹو، آپ کی عید والی تصویر، آپ کی ڈی پی، آپ کی ٹک ٹاک کی ایک جھلک؛ یہ سب ایک ہتھیار بن سکتی ہے۔ اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کا شکار زیادہ تر اسکول اور کالج کی بچیاں بن رہی ہیں۔ ایک لڑکا ناراض ہوتا ہے، دوستی ٹوٹ جاتی ہے، رشتے سے انکار ہو جاتا ہے، اور بدلہ لینے کے لیے وہ اپنی ہی کلاس فیلو کی تصویر سے فیک ویڈیو بنا کر گروپ میں پھیلا دیتا ہے۔
ہمارا معاشرہ تو پہلے ہی مظلوم پر انگلی اٹھاتا تھا، اب تو صورتحال اور بھی خراب ہے۔ جب ایسی جعلی ویڈیو آتی ہے تو لوگ یہ نہیں پوچھتے کہ یہ اصلی ہے یا نقلی؟ یہ تحقیق نہیں کرتے کہ یہ اے آئی سے بنی ہے۔ وہ فوراً لڑکی کے کردار پر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ضرور اس کا اپنا قصور ہوگا۔ وہ لڑکی چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ یہ میں نہیں ہوں، خدا کی قسم یہ میں نہیں ہوں، لیکن کوئی یقین نہیں کرتا۔ اس کا اسکول چھوٹ جاتا ہے، اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اس کے والدین شرمندگی میں سر جھکا لیتے ہیں اور وہ بچی ڈپریشن میں چلی جاتی ہے۔ یعنی قاتل کوئی اور ہے اور سزا کسی اور کو مل رہی ہے۔ یہی تو اصل استحصال ہے۔
ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ خاموش رہو، بدنام ہو جاؤ گی۔ اسی خاموشی نے اس جرم کو بڑھایا ہے۔ جب ایک بچی چپ رہتی ہے تو وہ لڑکا دوسری بچی کی تصویر استعمال کرتا ہے۔
اسلام کی نظر میں یہ کتنا بڑا گناہ ہے؟ سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ نے پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور اس کی سزا اسی کوڑے مقرر کی ہے۔ ڈیپ فیک تو تہمت کی بدترین اور جدید شکل ہے۔ یہ کسی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان کی عزت کو نقصان پہنچایا، اللہ قیامت کے دن اسے رسوا کرے گا۔ سوچیے، جو شخص ایک جھوٹی ویڈیو سے کسی کی دنیا برباد کرتا ہے، آخرت میں اس کا کیا حال ہوگا؟
تو اس سے بچنا کیسے ہے؟
پہلا حل احتیاط ہے: اپنی تصویریں پبلک نہ رکھیں۔ انسٹاگرام اور فیس بک کی پرائیویسی لگا کر رکھیں، صرف اپنے قریبی لوگوں کے لیے اکاؤنٹ اوپن رکھیں۔ اپنی تصاویر ہر کسی کو فارورڈ نہ کریں۔ کسی بھی انجان لنک پر اپنی تصویر اپلوڈ نہ کریں۔ یاد رکھیں، انٹرنیٹ پر ڈالی گئی ہر تصویر آپ کی ملکیت نہیں رہتی۔
دوسرا حل قانون ہے: پاکستان میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ اسی لیے بنا ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت ڈیپ فیک بنانا اور پھیلانا جرم ہے، جس کی سزا پانچ سال تک قید اور بھاری جرمانہ ہے۔ اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اسے چپ نہیں رہنا چاہیے، فوراً ایف آئی اے ہیلپ لائن 9911 پر رابطہ کرنا چاہیے۔ ثبوت کے لیے لنک اور اسکرین شاٹ محفوظ رکھیں اور ویڈیو کو آگے شیئر کرنے کے بجائے رپورٹ کریں۔
تیسرا حل تربیت اور شعور ہے: ہمیں اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو سکھانا ہوگا کہ کسی کی تصویر سے کھیلنا مذاق نہیں، جرم ہے۔ جس طرح کسی کا گھر توڑنا جرم ہے، اسی طرح کسی کی عزت توڑنا بھی جرم ہے۔ اور ہمیں معاشرے کو سکھانا ہوگا کہ کوئی بھی ویڈیو دیکھ کر فوراً یقین نہ کریں۔ پہلے تحقیق کریں، کیونکہ اب آنکھوں دیکھا بھی سچ نہیں رہا۔
آخر میں میں اپنی تمام بہنوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ اگر خدانخواستہ آپ کے ساتھ ایسا ہو جائے تو خود کو اکیلا نہ سمجھیں۔ آپ مظلوم ہیں، مجرم نہیں۔ آپ کا کردار آپ کی ایک جعلی ویڈیو سے طے نہیں ہوتا۔ خاموشی اس نئے دور میں سب سے بڑی دشمن ہے۔ جس لمحے آپ خاموش رہیں گی، وہ ویڈیو مزید پھیلے گی۔ ہمت کریں، اپنی فیملی کو بتائیں، اپنی ٹیچر کو بتائیں، قانون کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔
ججز سے میری گزارش ہے کہ اس موضوع کو صرف ایک کالم نہ سمجھا جائے، یہ ہم سب کی بیٹیوں کی چیخ ہے۔ جنسی استحصال اب گلی سے نکل کر موبائل میں آ گیا ہے، اور اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو کل ہمارے اپنے گھر کی کوئی بچی اس کا شکار ہو سکتی ہے۔
خاموشی بھی جرم ہے، اور اس نئے جرم میں تو بولنا ہی بچاؤ ہے۔
مزید پڑھیں





