پاک سعودی تعلقات لازوال رشتے سے جڑے ہیں،ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے امن، سلامتی اور خودمختاری کو درپیش کسی بھی خطرے پر پاکستان کے عوام اور خصوصاََ لاکھوں اہل حدیث نوجوان خاموش نہیں رہ سکتے۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے کسی بھی نوعیت کی قومی اور دفاعی ضرورت پیش آئی تو اہل حدیث نوجوان اپنے وطن اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی یا معاشی مفادات تک محدود نہیں بلکہ ایمان، عقیدت اور اخوت کے لازوال رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی محنت کش، ہنرمند اور پیشہ ور افراد اپنے خاندانوں کے لیے روزگار کمانے کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی دسیوں لاکھ پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں۔ خلیجی ممالک پاکستانی افرادی قوت کے سب سے بڑے مراکز ہیں جبکہ سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں برسر روزگار ہیں ۔اس لیے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے اثرات صرف سعودی عرب تک محدود نہیں رہتے بلکہ پاکستان بھی براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں موجود لاکھوں پاکستانیوں کی جان و مال، روزگار اور مستقبل اس خطے کے امن سے وابستہ ہے، جبکہ سعودی عرب پاکستان کے لیے معاشی اور برادر اسلامی ملک کی حیثیت سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت پاکستان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال کو محض تماشائی کی حیثیت سے نہ دیکھے بلکہ سعودی عرب کے تحفظ، حرمین شریفین کی سلامتی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنا سفارتی، سیاسی اور دفاعی کردار واضح اور فیصلہ کن انداز میں ادا کرے۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنے برادر اسلامی ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ہر ایسے تمام اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں جو حرمین شریفین کے تحفظ اور خطے کے امن کو یقینی بنانے میں معاون ہوں ۔
مزید پڑھیں





