میرا تعارف
شناختی کارڈ پر نام محمد ندیم یعقوب درج ہے، مگر ادبی حلقوں میں دوست احباب اور خود میرا قلم بضد ہیں کہ مجھے صرف "گوہر" ہی پکارا جائے، اب بھلا اپنے ہی تراشے ہوئے گوہر سے کون انکار کرے۔ جنم بھومی راولپنڈی ہے، وہی پنڈی جہاں ٹریفک کا شور اور موسم کے تیور ایک جیسے غیر متوقع ہوتے ہیں۔ بچپن میں خواب تو یہ دیکھے تھے کہ نازک جذبات کو لفظوں کی قبائیں پہنائیں گے، مگر قدرت نے امتحان کچھ یوں لیا کہ والد محترم کی اچانک جدائی کے بعد یکایک مجھے شاعری کی محفلوں سے اٹھا کر غلہ منڈی کے بے رحم ترازو کے آگے لا کھڑا کیا۔ جہاں وزن احساسات کا نہیں بلکہ گندم کی بوریوں کا تولا جاتا تھا، دہائیاں اسی تگ و دو میں بیت گئیں اور اس تیز رفتار غلے کے طوفان میں میری نوجوانی کی تمام خوبصورت بیاضیں اور غزلوں کا نایاب سرمایہ کہیں ایسے گم ہوا جیسے شادی کے بعد انسان کا سلیقہ اور سکون۔
پھر سال 2020ء میں دل نے احتجاج کیا اور ڈاکٹروں نے بائی پاس کی صورت میں گویا ایک عدد "سروس شدہ تازہ دم انجن" فٹ کر دیا۔ سرجن نے شریانیں جوڑیں تو ادھر سوئے ہوئے ادبی جذبے بھی انگڑائی لے کر جاگ اٹھے۔ سوچا جب دل نیا مل ہی گیا ہے تو دھڑکنیں پرانی کیوں رہیں؟ فوراً قلم سنبھالا اور استادِ محترم علی محمد فرشی صاحب کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی اور ان سے سیکھنا شروع کیا۔ ویسے بھگوڑا سٹوڈنٹس رہا تاکہ وہ ہمارے بے قابو خیالات کو عروض کے سانچے میں کس سکیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ معلومات اکٹھی کرنے کی لت ایسی لگی کہ انسائیکلوپیڈیا کھنگال ڈالے؛ اب نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی اخبار کے لیے کالم لکھنے بیٹھتا ہوں تو ہر بار ایک ایسا اچھوتا اور انوکھا موضوع لے کر وارد ہوتا ہوں کہ پڑھنے والا معلومات کے زیرِ بار آ کر سر دھننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
صرف غزل گوئی پر بس نہیں کی، بلکہ سوچا کہ جاپانیوں سے بھی کچھ ادھار لیا جائے، یوں احساسات اور مشاہدات کے ملاپ سے میرا پہلا ہائیکو مجموعہ "الفاظ جاگ اٹھے" مرتب ہو گیا۔ یعنی جہاں لوگ صفحات کالے کرتے ہیں، وہاں ہم نے تین سطروں میں ہی بات تمام کرنے کا فن اپنا لیا۔ الحمدللہ، حمد و نعت سے روح کو سنوارا، غزل میں زمانے کے رنگ برنگے دکھ سمیٹے، بچوں کے ادب میں نصیحتوں کے گلاب کھلائے اور ساتھ ساتھ افسانہ و کالم نگاری کے میدان میں بھی گھوڑے دوڑائے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اب آپ کیا ہیں؟ تو میں ہنس کر یہی کہتا ہوں کہ غلہ منڈی کا حساب کتاب ہو، شاعری کی بحریں ہوں یا معلومات کا سمندر، ہمارا یہ سفرِ حیات اب اہلِ ذوق کے رحم و کرم پر ہے۔
مزید پڑھیں






