Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بل گیٹس کی پسند ، جوئے کی گونج اور مبشر لقمان،قسط سوم، تحریر:نعیم خان

نقطہ نظر

52 پتوں کی بدنام دنیا کا آخری اور سنسنی خیز باب

naeem khan blog

مبشر لقمان صاحب کے لہجے میں ایک خاص چمک تھی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کے دل میں اس کھیل کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کا شدید شوق اور بے پناہ جذبہ مچل رہا ہو۔ ان کی گفتگو میں صحافتی بیباکی اور ایک سچے عاشقِ کھیل کا تڑپتا ہوا جذبہ صاف نظر آ رہا تھا۔

نعیم صاحب ! مبشر لقمان صاحب نے میز پر جھکتے ہوئے اور اپنے لہجے میں ایک گہرا شوق شامل کرتے ہوئے کہا ہمارے ہاں ایک بڑی غلط فہمی یہ پھیل گئی ہے کہ تاش کا ہر کھیل صرف وقت کا ضیاع یا جوئے کا مشغلہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں تو آپ کا دل جھوم اٹھے گا کہ دنیا کی کیسی کیسی عظیم اور شاندار شخصیات اس 52 پتوں کی سحر انگیز دنیا کی دیوانی رہی ہیں۔

انہوں نے بڑی محبت اور سحر انگیز انداز میں عالمی تاریخ کے وہ خوبصورت صفحات کھولے تو میں بھی حیرت سے ان کا منہ تکتا رہ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہالی ووڈ اور عالمی سینما کے نامور مصری ہیرو عمر شریف (Omar Sharif) صرف ایک زبردست اداکار ہی نہیں تھے، بلکہ بریج کے کھیل سے ان کا عشق جنون کی حد تک تھا۔ وہ دنیا کے ٹاپ 50 بریج کھلاڑیوں میں شامل رہے ، انہوں نے "Omar Sharif Bridge Circus" کے نام سے ایک عالمی ٹیم بنائی وہ مصری قومی ٹیم کے کپتان رہے اور انہوں نے اس کھیل پر کئی مشہور کتابیں لکھیں جن میں ان کی خودنوشت Omar Sharif's Life in Bridge آج بھی اس کھیل کے شائقین کے لیے ایک لازوال شاہکار سمجھی جاتی ہے۔

صرف عمر شریف ہی نہیں ، مبشر لقمان صاحب کی آنکھوں میں ایک عجیب خوشی اور فخر کی چمک ابھری دنیا کے سب سے امیر انسان بل گیٹس (Bill Gates) اور مشہور ترین سرمایہ کار وارن بفٹ (Warren Buffett) بھی اس کھیل کے سچے دیوانے ہیں۔ بل گیٹس تو خود کہتے ہیں کہ بریج ان کا سب سے پسندیدہ کھیل ہے کیونکہ یہ انسان کو سوچنے ،سمجھنے اور حالات سے لڑنے کی نئی طاقت دیتا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل جیسے عظیم رہنما بھی بڑے بڑے سیاسی تناؤ کے بعد اپنے ذہن کو سکون دینے کے لیے اسی کھیل کا سہارا لیتے تھے۔ اگر یہ کھیل خراب ہوتا تو دنیا کے یہ ذہین ترین لوگ کبھی اس کے شیدائی نہ ہوتے۔

مبشر صاحب کی باتوں میں اتنا سچ اور جذبہ تھا کہ میرا دل بھی ان کی باتوں کی تصدیق کرنے لگا۔ میں نے اشتیاق سے پوچھا مبشر صاحب ! پاکستان بریج فیڈریشن کے صدر کی حیثیت سے اب آپ کا کیا ویژن ہے ؟ آپ اس باوقار کھیل کو اس کا پرانا سنہری دور کیسے واپس لوٹائیں گے؟

انہوں نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنا روشن منصوبہ سامنے رکھا۔ سب سے پہلا کام اس کھیل سے 'فقط امیروں کا مشغلہ' ہونے کا لیبل ہٹانا ہے۔ ہم PBF کے تحت فیصل آباد ، راولپنڈی ، لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کے عام کمیونٹی سینٹرز ، لائبریریوں اور کلبوں میں اس کی تربیت کے آسان اور مفت سیشنز شروع کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا عام سفید پوش طبقہ ، اساتذہ ، وکلاء ، ڈاکٹرز اور بالخصوص خواتین اس ذہنی کھیل سے جڑیں۔ خواتین کے لیے الگ اور باوقار ماحول میں سیشنز رکھے جائیں گے تاکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس خوبصورت کھیل میں شامل ہو سکیں۔

اور جوئے کے اس پرانے اور بے بنیاد الزام کا کیا ہوگا؟ میں نے ان کی توجہ اصل رکاوٹ کی طرف دلائی۔

مبشر لقمان صاحب نے بڑے عزم کے ساتھ کہا ، ہم میڈیا اور اپنے کردار کے ذریعے یہ بات سب کے سامنے واضح کر رہے ہیں کہ جیسے شطرنج ایک ذہنی کھیل ہے ویسے ہی بریج بھی ایک پاکیزہ اور تسلیم شدہ 'مائنڈ اسپورٹ' ہے۔ اس میں قسمت یا جوئے کا دور دور تک کوئی دخل نہیں۔ یہ محض ذہن ، یادداشت اور باہم مل کر سوچنے کا ایک شاندار ذریعہ ہے۔ ہم اسے حکومت اور اسپورٹس بورڈز کی سطح پر بھی مکمل باقاعدہ شناخت دلائیں گے۔

انہوں نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے بڑے دلفریب انداز میں کہا ، جسم کی صحت کے لیے ورزش ضروری ہے لیکن ذہن کی تازگی اور شادابی کے لیے بریج سے بڑھ کر کوئی دوسرا کھیل نہیں ہو سکتا۔ جب ہمارے لوگ اسے ایک باوقار اور سنجیدہ کھیل کے طور پر اپنائیں گے تو پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی پرانی عزت حاصل کر لے گا۔

مبشر لقمان صاحب نے مسکراتے ہوئے میز پر رکھے تاش کے پتوں کا ایک سیٹ اٹھایا ، کارڈز کو مہارت سے بانٹا اور چند پتے میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے نعیم صاحب ! صرف باتوں سے اس کھیل کا سحر سمجھ نہیں آئے گا آئیے ایک ہاتھ کھیل کر دیکھتے ہیں۔

جم خانہ کے اس تاریخی ہال میں لکڑی کی میز پر اب ہم دونوں بالمقابل بیٹھے تھے۔ مبشر لقمان صاحب اپنے ہاتھوں میں پتے سنبھالے گہری سنجیدگی اور حکمتِ عملی سے اگلی چال سوچ رہے تھے اور میں ان کے سامنے 52 پتوں کی اس پراسرار دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ باہر برستی بارش اور اندر ہمارے درمیان پھیلی خاموشی میں صرف پتوں کی سرسراہٹ تھی... وہ لمحہ ایسا تھا جیسے صحافت اور کھیل کا ایک خوبصورت سنگم اسی ایک میز پر مجسم ہو گیا ہو۔

بارش رک چکی تھی لیکن بھیگی مٹی کی خوشبو اور مبشر لقمان صاحب کے جذباتی اور باوقار الفاظ کا سحر فضا میں ابھی تک قائم تھا۔ ایک معروف صحافی اور اینکر کا کھیل کے لیے یہ شوق اور فکر دیکھ کر میرے دل میں ان کے لیے گہرا احترام پیدا ہو چکا تھا۔ 52 پتوں کا یہ کھیل اب جوئے کے داغ سے پاک ہو کر ایک نئی امید اور ذہنی روشنی کی نوید سنا رہا تھا... اور اس خوبصورت سفر کا آغاز ہو چکا تھا۔

مزید پڑھیں