لائیو روم نئی صدی کا بازارِ حسن،تحریر : محمد سبحان شوق
نقطہ نظر
کبھی بازار حسن شہر کے کسی مخصوص حصے میں ہوا کرتا تھا۔ اس کی اپنی گلیاں تھیں، اپنے دروازے تھے اور اپنی پہچان تھی۔ وہاں جانے والا جانتا تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے اور وہاں موجود عورت بھی جانتی تھی کہ اس کی مجبوری اور اس کی خواہش کے درمیان ایک قیمت کھڑی ہے۔ زمانہ بدلا تو بازار ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنا لباس بدل لیا۔ اب اس بازار تک پہنچنے کے لیے کسی گلی میں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ موبائل ہاتھ میں ہو اور انٹرنیٹ چل رہا ہو تو ایک شخص اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھ کر ایسے لائیو روم میں داخل ہو سکتا ہے جہاں حسن بھی دکھائی دیتا ہے اور توجہ بھی فروخت ہوتی ہے۔
یہاں سے ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے بازار حسن ختم کر دیا ہے یا صرف اسے ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ پہلے دروازے پر پردہ ہوتا تھا اب موبائل کی اسکرین ہے۔ پہلے جیب سے نقد رقم نکلتی تھی اب کوائن اور ورچوئل گفٹ بھیجے جاتے ہیں۔ پہلے خریدار کسی مخصوص جگہ جاتا تھا اب وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے معاشرہ اس بازار سے نظریں چراتا تھا اور اب وہ بازار معاشرے کی جیب میں موجود ہے۔
لائیو اسٹریمنگ اپنی جگہ ایک بری چیز نہیں ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس کے ذریعے تعلیم دیتے ہیں موسیقی پیش کرتے ہیں گفتگو کرتے ہیں اپنا ہنر دکھاتے ہیں اور روزگار کماتے ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان کی توجہ خود ایک کاروباری شے بن جائے۔ جب کسی کی خوبصورتی اس کی آمدنی کا ذریعہ بنے اور سامنے بیٹھا ہوا شخص پیسے دے کر اس کی توجہ خریدنے لگے تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم تفریح اور تجارت کے درمیان کہاں کھڑے ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس معاملے پر بھی سارا غصہ عورت کے حصے میں آتا ہے۔ ہم اس کے لباس کو دیکھتے ہیں اس کی گفتگو دیکھتے ہیں اس کے انداز کو دیکھتے ہیں اور پھر اس کے کردار کا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ لیکن موبائل کی دوسری طرف بیٹھے ہوئے اس شخص کے بارے میں سوال نہیں کرتے جو اس پورے نظام کو پیسہ فراہم کر رہا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی توجہ بیچ رہی ہے تو کوئی مرد اسے خرید بھی رہا ہے۔ اگر بازار میں خریدار نہ ہو تو دکاندار کتنی دیر تک دکان کھول کر بیٹھا رہے گا۔
یہاں مجھے ایک اور بات زیادہ خطرناک محسوس ہوتی ہے۔ پرانے زمانے میں بازار حسن معاشرے سے الگ تھا لیکن آج کا ڈیجیٹل بازار ہماری روزمرہ زندگی میں گھل گیا ہے۔ ایک نوجوان چند لمحوں کے لیے ایپ کھولتا ہے اور پھر وہی ایپ اسے ایسے لوگوں کے سامنے لے آتی ہے جنہیں شاید وہ حقیقی زندگی میں کبھی نہ دیکھتا۔ آہستہ آہستہ تجسس عادت بن جاتا ہے اور عادت ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کاروبار انسانی کمزوری سے فائدہ اٹھانا شروع کرتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کے جسم کو بازار سے جوڑا ہے مگر آج کا ڈیجیٹل بازار صرف جسم نہیں بیچتا۔ یہاں تنہائی بھی بکتی ہے توجہ بھی بکتی ہے حسن بھی بکتا ہے اور کبھی کبھی محبت کا دھوکا بھی فروخت ہوتا ہے۔ ایک شخص چند گفٹس بھیج کر یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس کی اسکرین کے دوسری طرف موجود عورت صرف اسی کے لیے مسکرا رہی ہے۔ شاید یہی اس کاروبار کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ یہ خریدار کو صرف چیز نہیں دیتا بلکہ اسے یہ احساس دیتا ہے کہ وہ کسی کے لیے خاص ہے۔
اور دوسری طرف اسکرین کے پیچھے موجود لڑکی بھی ہمیشہ اس کہانی کی ولن نہیں ہوتی۔ ہوسکتا ہے وہ غربت سے لڑ رہی ہو ہوسکتا ہے اسے روزگار کا کوئی دوسرا راستہ نہ ملا ہو ہوسکتا ہے وہ صرف اپنی خوبصورتی کو ایک ذریعہ آمدنی سمجھتی ہو اور ہوسکتا ہے کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ جس کھیل کا حصہ بن رہی ہے وہ آگے چل کر اس کی نجی زندگی کو کس حد تک متاثر کرسکتا ہے۔ ہر لڑکی کو بدکردار کہنا آسان ہے لیکن ہر معاملے کو سمجھنا مشکل ہے۔ اصل مسئلہ شاید عورت نہیں بلکہ وہ معاشرہ ہے جس نے خواہش کو کاروبار بنا دیا ہے۔ جس نے تنہائی کو مارکیٹ بنا دیا ہے اور جس نے انسانی توجہ کو بھی قیمت دے دی ہے۔ اب انسان دوسرے انسان کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ اس کی توجہ خریدتا ہے۔ چند سکوں کے بدلے ایک مسکراہٹ ملتی ہے اور زیادہ رقم کے بدلے زیادہ وقت۔ پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم نے انسان کو کس مقام تک پہنچا دیا ہے۔
ہم اخلاقیات کی بات بہت کرتے ہیں مگر اخلاقیات ہمیشہ کمزور کے لیے کیوں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی لڑکی اس بازار میں موجود ہے تو ہم اسے برا کہتے ہیں اور اگر ہزاروں لوگ اس بازار میں پیسہ خرچ کر رہے ہیں تو ہم انہیں صارف کہتے ہیں۔ شاید ہمیں الفاظ بھی بدلنے کی ضرورت ہے اور اپنے رویے بھی۔
بازار حسن پہلے شہر کے کسی کونے میں ہوتا تھا۔ اب اس کا کوئی ایک پتہ نہیں ہے۔ وہ ہزاروں موبائل فونز میں بکھرا ہوا ہے۔ اس کا کوئی دروازہ نہیں مگر ہر شخص کے پاس اس کی چابی ہے۔ اس کی کوئی دکان نہیں مگر ہر وقت کھلی ہوئی ہے۔ اس کا کوئی دکاندار نہیں مگر ہزاروں لوگ اس سے کما رہے ہیں اور اس کے خریدار بھی ہزاروں ہیں۔
ہم چاہیں تو اسے ترقی کا نام دے سکتے ہیں۔ اسے تفریح کہہ سکتے ہیں۔ اسے آزادی کہہ سکتے ہیں یا اسے جدید دور کا کاروباری ماڈل کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ایک سوال سے شاید ہم بچ نہ سکیں اگر بازار حسن صرف اپنی جگہ بدل کر ہمارے موبائل میں آ گیا ہے تو کیا ہم واقعی تہذیب یافتہ ہوئے ہیں یا صرف اپنے گناہ کو زیادہ آرام دہ بنا لیا ہے۔
مزید پڑھیں





