اخلاقیات، نظامِ احتساب اور انسانی مرتبے کی پامالی،تحریر: سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
گزشتہ دنوں مجھے ملک کی ایک جدید نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی ایئر کنڈیشنڈ بس میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ اس ادارے کا باضابطہ اور اصولی موقف یہ ہے کہ اس کی انتظامیہ بشمول تمام انتظامی عملہ اپنے مالکان کو ہر معاملے میں جوابدہ ہے۔ مسافروں کے اعتماد اور سہولت کی خاطر بس کے نمایاں حصوں اور ٹکٹ واؤچر پر بھی مالکان اور بالا حکام کے مستقیم رابطہ نمبرز درج کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی بدسلوکی یا بدانتظامی کی صورت میں مسافر بلا جھجک اپنی شکایت درج کروا سکیں۔ ایک سینیئر صحافی اور تجزیہ کار کی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو یہ کسی بھی اچھے اور معیاری ادارے کا بنیادی انتظامی ڈھانچہ اور متوازن احتسابی طریقہ کار ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے عملی دنیا میں کاغذ پر لکھے اصول اور انسانی رویوں کے درمیان ایک گہری خلیج نظر آتی ہے۔
اس سفر کے دوران جب بس کے گارڈ کے ساتھ سابقہ پڑا تو ادارے کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ بس کے گارڈ کا بنیادی فرضِ منصبی اور قانونی ذمہ داری مسافروں، ان کے اہل خانہ اور بس میں موجود تمام تر اسباب کی حفاظت اور ان کی آمد و رفت کو امن فراہم کرنا ہے۔ مگر وہ گارڈ بدتہذیبی، بے ادبی اور بدخوئی کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔ منہ میں پان ٹھونسے، نہایت ہی جاہلانہ اور تکبرانہ انداز میں مسافروں سے بات کر رہا تھا، گویا وہ اس کے زرخرید غلام ہوں۔ بلاوجہ لوگوں سے الجھنا اور غیر ضروری بحث و تکرار کرنا اس کا وطیرہ تھا۔ دوسری جانب بس ہوسٹس کی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مسافروں کی ریفریشمنٹ، پانی اور لنچ باکس کی بروقت اور باوقار فراہمی کا انتظام کرے، مگر وہ بھی اپنے فرائض سے مسلسل غافل نظر آئی۔ ایک منظم ادارے میں ایسا طرزِ عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ صرف اصولوں کے نہ ہونے کا نہیں، بلکہ انتظامی نظم و ضبط اور عملی احتساب کے فقدان کا ہے۔
اگر ہم اس معمولی دکھائی دینے والے واقعے کا گہرائی سے جائزہ لیں، تو یہ محض ایک بس کا واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے اجتماعی اور قومی ڈھانچے کا عکاس اور ایک بڑا المیہ بن کر ابھرتا ہے۔ صحافی ہو، سیاست دان ہو، بیوروکریٹ ہو، یا انتظامیہ و پولیس کا کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا اہلکار، عہدیدار یا افسر ہو—سلطنت ہو، جمہوریہ ہو یا کوئی اور نظامِ حکومت—سب کے بنیادی تعارف اور دائرہ کار کا محور ایک ہی بات پر آکر رکتا ہے کہ نیچے سے اوپر تک ہر انسان آخر انسان ہی ہے۔
خواہ کوئی فرد سرکاری ادارے میں ملازم ہو، نجی سیکٹر میں خدمات انجام دے رہا ہو، نیم سرکاری محکمے سے منسلک ہو یا کاروبار سے وابستہ ہو—کاروبار چاہے چھوٹا سا ریڑھی والا ہو یا بڑے بڑے کارخانوں، انڈسٹریوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور انٹرپرائزز کا مالک یا حصے دار ہو—سب کے سب انسان ہی ہیں جو مختلف اداروں کو چلا رہے ہیں اور دوسروں سے کام لے رہے ہیں۔ معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق دنیا میں کوئی بھی شخص مافوق الفطرت یا فوق البشر نہیں ہے۔ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، سب کے لیے ایک سلسلہ، ایک تدریجی ترتیب اور ایک ہائیرارکی (Hierarchy) مقرر ہے۔ ہر ملازم، ہر افسر اور ہر حکمران کسی نہ کسی کے سامنے جوابدہ ہے؛ پہلے اپنے سے اوپر موجود افسر یا مالکان کو، پھر قانون کو اور بالآخر اپنے خالقِ حقیقی کو۔
جب کوئی شخص کسی عہدے کا حلف اٹھاتا ہے، یا نجی معاہدے پر دستخط کرتا ہے، تو وہ اپنے ادارے، ریاست اور معاشرے کے سامنے ایک مقدس عقل و اخلاق کا حلف لے رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے منصب اور عہدے کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کرتا، تو وہ نہ صرف اپنے حلف کی پاسداری سے انحراف کرتا ہے بلکہ اس منصب کی حرمت کو بھی پامال کرتا ہے۔ قرآنی احکامات اور اسلامی تعلیمات بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں کہ انسانی معاشرے کی بنیاد عدل، حسنِ اخلاق اور امانت داری پر ہے۔
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ "تم میں سے ہر شخص نگہبان اور راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی ماتحت رعایا اور ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا"۔ یہی وہ کائناتی اصول ہے جسے جدید انتظامی سائنس میں "Chain of Command" اور "Accountability" کہا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ لوگ اختیار اور عہدہ ملتے ہی خود کو جوابدہی کے دائرے سے بالاتر اور مافوق الفطرت سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک بس کا گارڈ ہو یا کسی اہم وزارت کا افسر، جب اپنے منصب کی روح کو بھول جاتا ہے تو پورے نظام میں انتشار پھیل جاتا ہے۔ لہٰذا، تمام طبقات اور افراد کو ایک دوسرے کی عزت، انسانی مرتبے اور حقوق کا دھیان رکھنا ہوگا۔ ایمانداری، احساسِ جوابدہی اور فرائضِ منصبی کی سچی پاسداری ہی وہ واحد ضامن ہے جو ہمارے معاشرے اور اداروں کو زوال کی دلدل سے نکال کر عزت اور کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں





