جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پشاور اسکول سانحہ، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان


خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے حادثے کا شکار عمارت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں 32 بچے اور 2 خواتین اساتذہ جاں بحق ہوگئیں، واقعے کے بعد اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ حکومت نے حادثے کی تحقیقات اورذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔


حادثے کا شکارعمارت کے دورے کے موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر پورا شہرغمزدہ ہے، اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے سیاسی بیان نہیں دیا جاسکتا۔

گورنرخیبرپختونخوا نے کہا کہ اسکول کی عمارت کی خستہ حالی کا ذمہ دار کون ہے، اس کا تعین انکوائری کے بعد کیا جائے گا۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات میں جو بھی ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


گورنر خیبر پختونخوا نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10،10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 2،2 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے تاکہ غفلت کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

انہوں نے ماضی میں صوبے میں انتظامی امور کے حوالے سے بنائی جانے والی کمیٹیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہلے کام روکنے کے لیے کمیٹیاں بنائی جاتی تھیں، موجودہ واقعے میں حقائق سامنے لانا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے بھی حادثے کا شکار اسکول کی عمارت کا دورہ کیا اور واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، عمارت کی حالت سے بظاہر انتظامی غفلت کا پہلو سامنے آتا ہے، جبکہ تین منزلہ عمارت کی ناقص تعمیر اور اسے استعمال کرنا بھی غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمرہارون بلور نے کہا کہ سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی اس طرح کی غفلت برتنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق عمارت کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری تعلیم نے واقعے کی بڑے پیمانے پر انکوائری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا اور تحقیقات کے ذریعے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

ثمر ہارون بلور نے نیشنل ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مدارس کی رجسٹریشن اور ضابطہ بندی بھی شامل تھی، تاہم اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے ادا کرنی چاہئیں تاکہ حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔