Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

​بچوں کی حفاظت یا بڑوں کی تربیت؟ تحریر:ثوبیہ راجپوت

sobia rajpoot

​آج کل بچوں کے خلاف جنسی جرائم جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وہ انتہائی تشویشناک اور خطرے کی گھنٹی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب ہم ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سن کر حیران ہونا چھوڑ چکے ہیں۔ ہم سر جھکا کر آگے نکل جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر آج یہ آگ کسی اور کے گھر لگی ہے تو کل یہ ہمارے آنگن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں ہم سب کا اجتماعی مسئلہ ہے اور ہم سب کو مل کر اس پر آواز اٹھانی چاہیے۔ میں تمام سنجیدہ لوگوں سے کہوں گی کہ اس سنگین موضوع پر لکھیں بولیں اور اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ہمارے بچے شدید خطرے میں ہیں۔

​کیا نو ماہ کی ایک معصوم بچی جو ابھی بولنا بھی نہیں جانتی اسے بھی ہم گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ سمجھائیں؟ کیا جھولے میں کھیلتی ہوئی معصوم بچی کو بھی یہ بتایا جائے کہ کوئی اسے غلط انداز میں چھو سکتا ہے؟ آخر ہم کس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اپنے ننھے بچوں کو ان خطرات سے آگاہ کرنا پڑ رہا ہے جن کا تصور بھی ایک مہذب معاشرے میں ناقابلِ برداشت ہوتا ہے؟ افسوس کے ساتھ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں پر ننھے کم عمر بچوں کو اپنی حفاظت کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ہم انہیں گڈ اور بیڈ ٹچ سیکھا کر اپنی ذمہ داری پوری کر چکے ہیں۔

​بچوں کو احتیاط سکھانا یقیناً ضروری ہے مگر یہ اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ ذہن کہاں سے پیدا ہو رہے ہیں جو معصوم بچوں کو اپنی وحشت کا نشانہ بنا رہے ہیں؟ یہ بیچارے معصوم بچے تو اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے اصل جرم تو وہ وحشی درندے کرتے ہیں جو انسانی شکل میں معاشرے میں دندناتے پھر رہے ہیں۔

​دنیا ٹیکنالوجی میں انقلاب لا رہی ہے اور ہم اخلاقی زوال میں نئی حدیں پار کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے دین کی اصل روح یعنی اخلاق،م کردار برداشت اور انسانیت کو پیچھے چھوڑ کر معمولی اور اختلافی بحثوں کو اپنی شناخت بنا لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم دین کی روح سے دور اور سوشل میڈیا کی بے ہودگی کے قریب ہوتے گئے۔ سوشل میڈیا کی آمدنی کے لالچ میں ہم ایسا مواد بنانے اور پھیلانے لگے جسے کبھی ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا تھا۔

​یہ کیسی ترقی ہے کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہماری اخلاقی پستی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ نو ماہ کی معصوم بچی اور ننھے بچے بھی محفوظ نہیں رہے؟ ایسی خبریں صرف دل نہیں دہلاتیں بلکہ ہمیں اپنے اجتماعی کردار پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

​ایک وقت تھا جب نانی اور دادی بچوں کو نبی کریم ص کی سیرت صحابہ کرام کے واقعات اور بہادروں کی داستانیں سنایا کرتی تھیں۔درسگاہوں میں عالم اور جید استاد تھے جو کہ دل و دماغ کو روشن کر دیتے تھے ۔ آج اسکرین اور موبائل نے بڑی حد تک ان کی جگہ لے لی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں موبائل ہے اور سوال یہ ہے کہ اس موبائل کے اندر ہم کیا بھر رہے ہیں؟

​خالی بچوں کی تربیت نہیں ہمیں بڑوں کی تربیت پر بھی بات کرنا ہوگی۔ ایسے افراد جو عمر میں بڑے ہو چکے ہیں مگر اپنی خواہشات سوچ اور رویوں پر قابو نہیں رکھ پا رہے، ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کہاں ہو رہی ہے؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک انسان کے ذہن میں ایسی وحشت پیدا کرتے ہیں کہ اسے معصومیت بھی نظر نہیں آتی؟ ​ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے اور ہمیں اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے۔ تو پھر موبائل پر بھی وہی کچھ پھیلائیں جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم اور ہمارے بچے دیکھیں اور سیکھیں۔اپنے آپ سے پوچھ کر دیکھیے کہ آپ نے کتنے ادبی فلاحی اسلامی یا سماجی بہبود کے پیجوں کو فالو کیا یا ادبی پوسٹوں کو وائرل کیا۔ہمارے حالات خراب کرنے میں سب سے زیادہ یہ شیٔر کا بٹن ہے جس کو کہ ہم غلط طریقے کے لیے استعمال کر رہے ہیں غلط لوگوں کو وائرل کر رہے ہیں۔فحاسی کو پھیلانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔پیسہ کمانے کی ہوس میں کچھ لوگ بدتمیزی اور عریانی کو مذاق کے لبادے میں پرو کر سوشل میڈیا پر دکھاتے ہیں اور نادان لوگ صرف (انجوائمنٹ ) ہی تو ہے ۔۔ کہہ کر آگے وائرل کرتےجاتے ہیں۔فخریہ اور کھلم کھلا ایک دوسرے سے گندے مواد کے لنک مانگے جاتے ہیں۔ ذرا غور سے سوچیے کہ حالات کو یہاں تک لانے میں کس کا ہاتھ ہے


​فحاشی نہیں کردار وائرل کریں!

​ہوس نہیں حیا وائرل کریں!

​گندگی نہیں علم اور سیرت وائرل کریں!

​کیونکہ جو ہم شیئر کرتے ہیں وہی آہستہ آہستہ ہماری ثقافت کا حصہ بن جاتا ہے۔

اگلی بار شیئر کا بٹن دبانے سے پہلے اپنے بچے کا چہرہ ذہن میں لائیے۔