بے حس معاشرے کے بے حس لوگ،تحریر: ایس اے شازِم
نقطہ نظر
میں نے ایک جگہ پڑھا تھا جس میں سعادت حسن منٹو نے لکھا تھا کہ "ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ مر چکا ہے، ہم صرف اس کی لاش پر بیٹھ کر ماتم کر رہے ہیں۔"
کل شام سکھر کے شکارپور روڈ پر جب ایک نوجوان حادثے میں خون میں لت پت سڑک پر تڑپ رہا تھا اور تماشائیوں کا ہجوم موبائل فون کی سکرینوں سے اس کی موت کی فلم بنا رہا تھا، تو مجھے منٹو کا یہ جملہ کسی نوحے کی طرح یاد آیا۔ ہم واقعی ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں دل تو دھڑکتے ہیں مگر محسوس کرنا چھوڑ گئے ہیں۔ ہم سچ پوچھو تو اس بے حس معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ بے حسی کیا ہے؟ یہ دل کے مرنے کا وہ خاموش اعلان ہے جس پر کوئی جنازہ نہیں اٹھتا۔ یہ احساس کے چشمے کا خشک ہو جانا ہے۔ اقبال نے جس "دردِ دل" کو زندہ انسان کی پہچان کہا تھا، ہم اسی درد سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم آئینوں کے شہر میں رہنے والے پتھر کے لوگ بن چکے ہیں۔ جو دوسروں کا عکس تو دیکھتے ہیں مگر اس عکس کی کرچیوں کو محسوس نہیں کرتے۔
بے حسی کے کئی رنگ، کئی روپ ہوتے ہیں۔ ہماری یہ بے حسی اب ایک حادثہ نہیں، ایک تہذیب بن چکی ہے۔
سب سے پہلا روپ تو وہی ہے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یعنی تماشائی کا روپ! اب کوئی گرتا ہے تو اسے اٹھایا نہیں جاتا، اس کی ویڈیو بنائی جاتی ہے۔ زخموں سے بہتا خون ہمیں مدد کے لیے نہیں، سوشل میڈیا پر "وائرل مواد" کے لیے پکارتا محسوس ہوتا ہے۔ ہم مددگار نہیں، ہم تماشائی ہیں۔ کولوزیم میں بیٹھے وہ رومی جو غلاموں کی موت پر تالیاں بجاتے تھے اور ہم میں واقعی اب کوئی فرق نہیں رہا۔
دوسرا روپ تو اس سے بھی زیادہ خاموش اور زیادہ ظالم ہے۔ پڑوسی کی خاموش فاقہ کشی! غالب نے کہا تھا؛
"ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور"
آج اسی طرح ہماری گلیوں میں کتنے ہی سفید پوش ہیں جن کا اندازِ فقر ہی نرالا ہے۔ وہ بھوکے سو جاتے ہیں مگر کسی کے آگے دامن نہیں پھیلاتے۔ ایسا ہی ایک واقعہ احسن آباد کراچی میں پیش آیا۔ جس میں ایک ڈاکٹر کینسر کی جنگ لڑتے لڑتے اپنی فیملی سمیت موت کی آغوش میں چلے گئے۔ یہ بھی اپنوں کی بے حسی کا شکار ہوئے۔ ان کے چولہے کی ٹھنڈک ہمارے محلوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہے مگر ہمارے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ کیونکہ ہمارے کان ائیر فونز سے بند ہیں، ہم ورچوئل دنیا کی آوازیں سننے میں مصروف ہیں۔
تیسرا روپ سب سے خوفناک ہے مظلوم سے پہلو تہی!
بازار میں کسی کمزور پر ظلم ہو، کسی بیٹی کو ہراساں کیا جا رہا ہو، ہم نظریں چرا کر، "ہمیں کیا" (سانوں کی) کی چادر اوڑھ کر گزر جاتے ہیں۔ یہ بزدلی نہیں بلکہ یہ بے حسی کی وہ انتہا ہے جو ظالم کو بہت ظالم بناتی ہے۔ جب کوئی ہاتھ مظلوم کے لیے نہیں اٹھتا، تو ظالم کا ہاتھ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ ہم سب اس جرم میں شریک ہیں جو ہم نے خاموش رہ کر ہونے دیا۔
چوتھا روپ تو میرے رب کو بالکل بھی نہیں پسند یعنی رزق کی بے حرمتی!
شادی ہالوں کے باہر رات کے دو بجے کچرے کے ڈھیر پر پڑی وہ پلیٹیں دیکھیں جن میں آدھا کھایا ہوا نان اور چھوڑا ہوا قورمہ پڑا ہے۔ یہ صرف کھانے کا ضیاع نہیں، یہ اس مزدور کے پسینے کی توہین ہے جو اسے اگاتا ہے اور اس بھوکے بچے کے خواب کا قتل ہے جو اسی شہر کے کسی فٹ پاتھ پر بھوک سے بلک رہا ہے۔ یہ سب ہمارے اسی معاشرے کی کہانی ہے۔ جسے ہم دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں یا پھر ہم پتھر کے بنے چکے ہیں۔ ہم پتھر دل اچانک نہیں بنے۔ اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔
ہم مادیت پرستی کی ایسی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں، جہاں انسان کی قیمت اس کے بینک بیلنس سے لگتی ہے۔ رشتے، خلوص، ہمدردی، یہ سب پرانے سکوں کی طرح بے قیمت ہو گئے ہیں۔ رہی صحیح کسر کچھ پھر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس نے ہمیں "ڈیجیٹل ہمدرد" بنا دیا۔ ہم فیس بک پر کسی کی موت پر "RIP" لکھ کر سمجھتے ہیں حق ادا ہو گیا۔ ہم کی بورڈ کے مجاہد ہیں، حقیقت کے میدان سے فراری۔ ہم نے حقیقی آنسوؤں کی جگہ ایموجی کو دے دی ہے۔
دیکھا جائے تو سب سے بڑا المیہ، ہماری تربیت کا زوال ہے۔ ہمارے گھروں میں اب بچوں کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ بانٹ کر کھانا کیسا لگتا ہے۔ اسکولوں میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ فرسٹ کیسے آنا ہے، یہ نہیں بتایا جاتا کہ گرا ہوا ساتھی کیسے اٹھانا ہے۔ ہم نے "اچھا انسان" بنانے کی فیکٹری بند کر دی ہے۔ صرف "کامیاب انسان" بنانے کی مشین چل رہی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے۔ آپؐ نے اس وقت دنیا میں قدم رکھا جب عرب کا معاشرہ بے حسی، ظلم اور بربریت کی انتہا پر تھا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں ایک دوسرے کا درد محسوس کرنا ایمان کا حصہ قرار پایا۔
ہمارے نبی ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ایک خوبصورت مثال سے واضح فرمایا:
"مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور شفقت میں ایک جسم کی طرح ہے۔ جب جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے، تو پورا جسم بیداری اور بخار میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔" (صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر معاشرے کا ایک بھی فرد تکلیف میں ہے، تو باقی سب کو اس کا درد محسوس ہونا چاہیے۔
آج ہم اپنے پڑوس سے بے خبر ہیں، جبکہ ہمارے نبی ﷺ کا فرمان ہے؛
"وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو اور اسے علم ہو۔" (شعب الایمان)
آپؐ نے صحابہ کو تاکید فرمائی کہ جب سالن بناؤ تو اس کا شوربا تھوڑا زیادہ کر لو تاکہ پڑوسیوں کا خیال رکھا جا سکے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ آج ہمارا جسم بے چین نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے اعضاء کے درمیان رابطہ ہی کٹ چکا ہے۔
یہ کالم میں کسی حکومت، کسی ادارے کے لیے نہیں، اپنے لیے لکھ رہی ہوں کیونکہ اس بے حسی کے اندھیرے میں دیا صرف اپنے اندر سے جلے گا۔
ہمیں اپنے بچوں کو نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ بانٹنے کا سبق پڑھانا ہوگا۔ ہمیں سکھانا ہوگا کہ کسی کے کام آنا ہی اصل کامیابی ہے۔ ہمیں اپنے موبائل کی سکرین سے نظریں ہٹا کر اپنے پڑوسی کے چہرے پر لکھی تحریر پڑھنا ہوگی۔
ورنہ یاد رکھیں، فیض نے کہا تھا:
"بول کہ لب آزاد ہیں تیرے"
اگر آج ہم کسی کی تکلیف پر نہیں بولے، تو کل جب ہم پر تکلیف آئے گی تو یہ شہر گونگا، بہرہ ہو چکا ہوگا۔ اور اس گونگے، بہرے شہر میں ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اگر ہم واقعی اپنے معاشرے سے بے حسی کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں ہمارے نبی ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا۔ جب تک ہم اپنی زندگیوں میں سنتِ نبوی ﷺ کو نافذ نہیں کریں گے، تب تک ہم ایک بہترین اور ہمدرد معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔
مزید پڑھیں





