سرجانی ٹاؤن کیس بھروسے کا قتل،تحریر : محمد سبحان شوق
نقطہ نظر
کبھی کبھی کوئی واقعہ صرف ایک گھر کی چار دیواری میں ہونے والا جرم نہیں رہتا بلکہ وہ پورے معاشرے کے ضمیر کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ سرجانی ٹاؤن میں ایک خاتون اور اس کے تین کم سن بچوں کا قتل بھی ایسا ہی واقعہ ہے۔ 14 ستمبر 2026 کو سیکٹر 7 ڈی سرجانی ٹاؤن میں خاتون اور ان کے تین بچوں کو ان کے گھر میں قتل کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس کے پاس اس وقت کوئی واضح ملزم نہیں تھا اور خاندان کے کسی شناسا شخص کے ملوث ہونے کا امکان بھی زیر تفتیش تھا۔ بعد میں پولیس نے محمد ہمایوں نامی ایک قریبی رشتہ دار کو گرفتار کیا اور پولیس کے مطابق تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور مزاحمت پر اس نے خاتون کو قتل کیا جس کے بعد بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ 17 ستمبر کو پولیس کے مطابق ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے میں اس وقت ہلاک کیا گیا جب اسے قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک اہلکار کی پستول چھین کر فائرنگ کی جس کے جواب میں اسے مارا گیا۔ یہ تمام تفصیلات پولیس کے بیان اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں اور اس واقعے کے قانونی اور عدالتی پہلو اپنی جگہ اہم ہیں۔
مگر اس واقعے کا سب سے خوفناک پہلو صرف یہ نہیں کہ چار جانیں چلی گئیں بلکہ یہ ہے کہ جس شخص پر یہ سنگین جرم کرنے کا الزام سامنے آیا وہ خاندان کے لیے کوئی بالکل اجنبی شخص نہیں تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سرجانی ٹاؤن کا واقعہ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا سوال رکھ دیتا ہے کہ آخر بھروسہ کہاں کیا جائے۔ انسان اپنے گھر کو اس لیے گھر کہتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا چاہے کتنی ہی بے رحم کیوں نہ ہو مگر گھر کی چار دیواری کے اندر اپنے لوگ موجود ہیں۔ رشتے دار آتے ہیں تو ہم دروازہ کھولتے ہیں کیونکہ ہمیں ان سے خطرے کی توقع نہیں ہوتی۔ کسی شناسا کو دیکھ کر ہم اپنے بچوں کو اس سے دور رکھنے کے بجائے اس کے قریب آنے دیتے ہیں کیونکہ ہمارے ذہن میں رشتہ اور اعتماد ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن جب کبھی یہی رشتہ کسی جرم کی شکل اختیار کر لے تو صرف ایک انسان نہیں ٹوٹتا بلکہ بھروسے کا وہ پورا تصور زخمی ہو جاتا ہے جس پر خاندان اور معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر رشتہ دار مجرم نہیں ہوتا اور ہر شناسا خطرہ نہیں ہوتا لیکن یہ تصور بھی درست نہیں کہ محض رشتہ داری یا شناسائی کسی شخص کے کردار کی ضمانت ہے۔ ہم اپنے بچوں کو برسوں سے یہ سکھاتے آئے ہیں کہ اجنبی سے محتاط رہو مگر شاید ہمیں اب اپنی تربیت میں ایک اور بات بھی شامل کرنا ہوگی کہ صرف اجنبی ہی خطرہ نہیں ہوتا اور کسی شناسا شخص کا غلط رویہ بھی غلط ہی ہوتا ہے۔ بچے کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ کسی رشتہ دار کے کسی رویے سے خوفزدہ ہو تو اپنے والدین کو بتا سکے۔ لڑکی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ کسی جاننے والے کی نازیبا گفتگو یا مسلسل پیغام رسانی سے پریشان ہو تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ پہلے اسی کے کردار کی تفتیش شروع ہو جائے گی۔ ایک عورت کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص اس کی حدود پار کرنے کی کوشش کرے گا تو خاندان اس کے ساتھ کھڑا ہوگا نہ کہ اس سے یہ پوچھے گا کہ تم نے اسے گھر میں آنے ہی کیوں دیا۔
اور یہی بات ہمیں ایک دوسرے مسئلے تک لے جاتی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہر جرم قتل تک نہیں پہنچتا۔ بہت سے جرائم ایسے ہیں جن میں لاش نہیں ملتی مگر انسان اندر سے مر جاتا ہے۔ کسی عورت کو کسی شخص کی طرف سے مسلسل پیغامات آتے ہیں اور انکار کے باوجود سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ کسی کے پاس کسی لڑکی کی تصویر پہنچ جاتی ہے اور پھر اس تصویر کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ کسی کی نجی گفتگو محفوظ کر لی جاتی ہے اور پھر اسے بدنام کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ کسی کو سڑک پر ہراساں کیا جاتا ہے اور وہ صرف اس لیے خاموش رہتی ہے کہ گھر والوں کو معلوم ہوا تو سب سے پہلے سوال اسی سے ہوں گے۔ کسی لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے بات نہ مانی تو تمہاری تصویر یا ویڈیو لوگوں تک پہنچا دی جائے گی۔ یہ سب بھی تشدد کی مختلف شکلیں ہیں اگرچہ ان میں ہر مرتبہ خون نہیں بہتا۔ ہمارے ملک میں سائبر ہراسگی بلیک میلنگ اور اس نوعیت کے بے شمار کیسز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے کے پاس ریکارڈ ہوتے ہیں۔ این سی سی آئی اے سائبر جرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے مجاز ادارہ ہے اور متاثرہ افراد اپنی شکایات این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹرز میں درج کرا سکتے ہیں۔
اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عورتیں کہاں جائیں جو بلیک میل ہو رہی ہوں۔ وہ کس سے کہیں کہ کوئی شخص ان کی عزت کو اپنی خواہش کی قیمت بنا کر بیٹھا ہے۔ اگر وہ گھر میں بتائیں تو کیا انہیں تحفظ ملے گا یا پہلے ان سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص سے تعلق کیوں تھا۔ اگر وہ کسی تصویر کے پھیلائے جانے کی شکایت کریں تو کیا لوگ تصویر پھیلانے والے کو مجرم سمجھیں گے یا تصویر بنوانے والی کو قصوروار قرار دیں گے۔ ہمارے معاشرے میں یہی خوف بہت سے لوگوں کو خاموش رکھتا ہے۔ خاموشی بسا اوقات رضامندی نہیں ہوتی بلکہ خوف ہوتی ہے۔ اور جب خوف کو رضامندی سمجھ لیا جائے تو مجرم کے لیے راستہ اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ پہلے کسی شخص کو بدنام کرنے کے لیے ایک محدود دائرہ موجود تھا لیکن اب ایک تصویر چند لمحوں میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک جعلی اکاؤنٹ کسی کی زندگی میں زہر گھول سکتا ہے۔ ایک ویڈیو کسی خاندان کو برسوں کے لیے خوف میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایک فون نمبر کسی شخص کے سکون کو تباہ کر سکتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی اپنی رہنمائی کے مطابق سائبر ہراسگی میں کسی شخص کو ناپسندیدہ پیغامات بھیجنا مسلسل رابطہ کرنا اس کی آن لائن سرگرمی پر نظر رکھنا یا اس کی تصویر یا ویڈیو بنا کر اسے تقسیم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے اور ادارہ ایسے واقعات میں خاموش رہنے کے بجائے شکایت درج کرانے کی ہدایت کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ صرف سوشل میڈیا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرے کے اندر پہلے سے موجود ایک بیماری کو صرف نئی ٹیکنالوجی دے دی ہے۔ وہ بیماری ہے دوسرے انسان کی عزت اور حدود کا احترام نہ کرنا۔ اگر کسی مرد کو یہ سمجھایا جائے کہ عورت کا انکار صرف ایک وقتی رکاوٹ ہے جسے کسی نہ کسی طرح توڑا جا سکتا ہے تو پھر چاہے اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہو یا وہ کسی گلی میں کھڑا ہو یا کسی گھر کے دروازے کے اندر موجود ہو اس کی ذہنیت وہی رہے گی۔ مسئلہ فون نہیں مسئلہ وہ سوچ ہے جو سامنے والے انسان کو انسان سمجھنے کے بجائے اپنی خواہش کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
ہم روزانہ سڑکوں پر ایسی حرکات دیکھتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ کہیں کسی عورت کا راستہ روک کر آوازیں کسی جاتی ہیں کہیں موٹر سائیکل سوار کسی خاتون کا تعاقب کرتے ہیں کہیں چلتی گاڑی یا بس کے آس پاس نازیبا حرکات کی جاتی ہیں اور کہیں موبائل فون کیمرہ بن کر کسی کی عزت کو تماشے میں بدل دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ سب پہلی مرتبہ ہو رہا ہے مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اب اسے غیر معمولی بھی نہیں سمجھتے۔ لوگ دیکھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ کچھ ہنستے ہیں کچھ ویڈیو بناتے ہیں کچھ تماشائی بن جاتے ہیں اور یوں ایک غلط عمل آہستہ آہستہ معمول کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ جب معاشرہ کسی برائی پر حیران ہونا چھوڑ دے تو وہ برائی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔
یہاں ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پر بھی دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ ہم انہیں نمبروں کی دوڑ میں شامل کرتے ہیں انہیں انگریزی سکھاتے ہیں انہیں موبائل دیتے ہیں انہیں دنیا بھر کی معلومات تک رسائی دیتے ہیں مگر کیا ہم انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کی عزت کیا ہوتی ہے۔ کیا ہم اپنے بیٹوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ کسی عورت کا انکار مکمل انکار ہے۔ کیا ہم انہیں یہ سمجھاتے ہیں کہ کسی کی تصویر محفوظ کر لینا اس بات کا حق نہیں دیتا کہ اسے آگے بھیجا جائے۔ کیا ہم انہیں یہ بتاتے ہیں کہ محبت اور ملکیت میں فرق ہوتا ہے اور تعلق ختم ہونے کے بعد دوسرے شخص کی نجی زندگی بھی اتنی ہی محترم رہتی ہے جتنی تعلق کے دوران تھی۔ اگر یہ بنیادی اخلاقیات گھر میں نہیں سکھائی جائیں گی تو پھر صرف نصابی تعلیم کسی انسان کو مہذب نہیں بنا سکتی۔
یہاں دین کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ہم اکثر ایسے واقعات کے بعد کہتے ہیں کہ معاشرے میں دین کم ہو گیا ہے۔ یہ بات ایک حد تک اخلاقی تربیت کے تناظر میں کہی جا سکتی ہے مگر ہمیں اپنے آپ سے زیادہ سخت سوال بھی کرنا ہوگا۔ کیا دین صرف نماز روزے اور ظاہری شناخت کا نام رہ گیا ہے یا اس میں نگاہ کی حفاظت بھی شامل ہے۔ کیا دین صرف مسجد تک محدود ہے یا کسی عورت کے احترام میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ کیا تقویٰ صرف زبان کے الفاظ میں ہے یا اس وقت بھی موجود ہوتا ہے جب انسان کے پاس گناہ کا موقع ہو اور کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔ اگر کوئی شخص مذہبی شناخت رکھتا ہو لیکن کسی کمزور انسان کی عزت پامال کرے تو ہمیں اس تضاد پر سوچنا ہوگا۔ تاہم چند افراد کے جرم کو پورے دینی طبقے کے ساتھ منسوب کرنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ اصل سوال مذہبی لباس یا شناخت کا نہیں بلکہ کردار کا ہے اور کردار کا امتحان ہمیشہ وہاں ہوتا ہے جہاں انسان کو اختیار حاصل ہو۔
تعلیم کے بارے میں بھی یہی بات ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم یافتہ شخص لازماً مہذب ہوگا لیکن تاریخ اور موجودہ معاشرہ دونوں بتاتے ہیں کہ معلومات اور کردار ایک چیز نہیں۔ ایک شخص بہت پڑھا لکھا ہو سکتا ہے مگر اخلاقی طور پر کمزور ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کم رسمی تعلیم رکھنے والا انسان بھی اعلیٰ کردار کا مالک ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں صرف تعلیمی اداروں کی تعداد نہیں بڑھانی بلکہ تعلیم کے اندر اخلاقی شعور بھی پیدا کرنا ہوگا۔ بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت کا مطلب کسی کمزور پر اختیار حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے اختیار کو قابو میں رکھنا ہے۔ مردانگی کسی عورت کو ڈرانے یا مجبور کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو رکھنے کا نام ہے۔
اور پھر ہماری سب سے بڑی اجتماعی کمزوری سامنے آتی ہے یعنی متاثرہ شخص کی بجائے اس کے کردار کی تفتیش۔ کوئی لڑکی ہراساں ہو تو پوچھا جاتا ہے وہ وہاں گئی کیوں تھی۔ کسی کی تصویر پھیل جائے تو پوچھا جاتا ہے تصویر بنوائی کیوں تھی۔ کسی عورت کو بلیک میل کیا جائے تو پوچھا جاتا ہے اس شخص سے بات کیوں کرتی تھی۔ کوئی شخص دھمکایا جائے تو پوچھا جاتا ہے پہلے تعلق کیوں رکھا۔ یوں ہم مجرم کے ہاتھ میں موجود ہتھیار کو دیکھنے کے بجائے مظلوم کے ہاتھ میں موجود کسی پرانی غلطی کو تلاش کرنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف انصاف کے خلاف ہے بلکہ مجرم کے لیے حوصلہ بھی بنتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کا جرم سامنے آیا تو معاشرہ شاید اس کے شکار ہی سے سوال کرے گا۔
عزت کے نام پر خاموشی بھی ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہمیں عزت چاہیے مگر ہم عزت کی حفاظت کا بوجھ اکثر اسی شخص پر ڈال دیتے ہیں جس کی عزت پر حملہ ہوا ہو۔ ایک خاندان یہ سوچ کر شکایت نہیں کرتا کہ بدنامی ہو جائے گی۔ ایک عورت یہ سوچ کر خاموش رہتی ہے کہ گھر ٹوٹ جائے گا۔ ایک لڑکی یہ سوچ کر بلیک میلر کے سامنے جھک جاتی ہے کہ اگر بات سامنے آئی تو اس کے والدین کیا سوچیں گے۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مجرم کو خاموشی ملے تو اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ آج ایک تصویر ہے تو کل دوسری ہوگی آج ایک دھمکی ہے تو کل دوسری دھمکی ہوگی۔ بلیک میلنگ کا بنیادی ہتھیار ہی خوف ہے اور خوف اسی وقت طاقت کھوتا ہے جب متاثرہ شخص کو محفوظ طریقے سے مدد ملنے کا یقین ہو۔
سرجانی ٹاؤن کے واقعے میں ایک عورت کی جان گئی اور اس کے تین بچے بھی دنیا سے چلے گئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی وجہ جنسی زیادتی کی کوشش اور مزاحمت سے جڑی ہوئی تھی۔ اگر یہ تفتیشی دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ہمیں ایک اور خوفناک حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ ایک عورت کا اپنے جسم اور اپنی عزت پر حق ماننا بھی بعض ذہنوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اس واقعے میں سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہی ہے کہ ایک خاتون نے مبینہ طور پر مزاحمت کی اور پھر وہ مزاحمت اس کی موت کا سبب بن گئی۔ ایک معاشرہ اس وقت اپنے آپ سے سوال کرتا ہے جب ایک عورت کو اپنی عزت بچانے کے لیے اپنی جان دینی پڑے۔
مگر یہاں بھی ہمیں ایک اہم احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے۔ سرجانی ٹاؤن کے اس ایک واقعے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر رشتہ دار خطرناک ہے یا ہر گھر میں ایسا خطرہ موجود ہے۔ معاشرے میں لاکھوں رشتے محبت اعتماد اور حفاظت پر قائم ہیں۔ لیکن ایک واقعہ اتنا ضرور بتا سکتا ہے کہ ہمارے حفاظتی نظام میں ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں خطرہ داخل ہو سکتا ہے اور ہمیں ان جگہوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بھروسہ ختم کرنا حل نہیں ہے بلکہ بھروسے کو شعور کے ساتھ جوڑنا حل ہے۔ ہمیں اپنے رشتوں پر اعتماد بھی رکھنا ہے اور اپنی حدود کا شعور بھی پیدا کرنا ہے۔
اسی لیے ہمیں بچوں کی تربیت میں ایک ایسی زبان پیدا کرنا ہوگی جس میں وہ اپنے خوف کے بارے میں بات کر سکیں۔ اگر بچہ کسی شخص کو پسند نہیں کرتا یا اس کے قریب جانے سے گھبراتا ہے تو اسے فوراً بدتمیز قرار نہ دیا جائے۔ اگر کوئی بچی کسی رشتہ دار کے رویے سے پریشان ہو تو اسے یہ نہ کہا جائے کہ وہ وہم کر رہی ہے۔ اگر کوئی نوجوان کسی آن لائن شخص کی دھمکی سے خوفزدہ ہے تو اسے موبائل چھین کر خاموش نہ کرایا جائے بلکہ مسئلے کو سمجھا جائے۔ گھر وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انسان اپنی سب سے مشکل بات کہنے کے بعد بھی خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر گھر میں یہ اعتماد پیدا ہو جائے تو بہت سے جرائم اپنے آخری مرحلے تک پہنچنے سے پہلے روکے جا سکتے ہیں۔
قانون بھی اسی اعتماد کا ایک حصہ ہے۔ ایک شہری کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ شکایت کرنے کا مطلب اس کی زندگی مزید خراب ہونا نہیں بلکہ اسے تحفظ ملنا ہے۔ سائبر بلیک میلنگ اور ہراسگی کے معاملے میں سرکاری شکایتی نظام موجود ہے اور ایف آئی اے کا آن لائن شکایتی پورٹل متعلقہ شکایات درج کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ لیکن قانون کا وجود کافی نہیں ہوتا قانون تک آسان رسائی اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ متاثرہ شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں جانا ہے کس سے بات کرنی ہے ثبوت کیسے محفوظ رکھنے ہیں اور کس طرح اپنی شناخت اور عزت کے تحفظ کے ساتھ شکایت درج کرانی ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جرم کے بعد صرف قاتل کی تلاش کافی ہے یا جرم سے پہلے کے اشاروں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ کسی شخص کا مسلسل تعاقب کرنا کسی عورت کو بار بار ناپسندیدہ پیغامات بھیجنا کسی کی تصاویر محفوظ کرکے دھمکانا کسی کے انکار کے بعد بھی اس کے پیچھے پڑے رہنا یہ سب چھوٹی باتیں نہیں ہیں۔ یہ وہ مرحلے ہیں جہاں معاشرہ مداخلت کر سکتا ہے۔ اگر ہر خطرناک رویے کو اس وقت معمولی سمجھ لیا جائے جب وہ صرف ہراسگی کی شکل میں موجود ہو تو ممکن ہے کہ بعد میں وہ کسی بڑے جرم میں بدل جائے۔ ہر ہراساں کرنے والا قاتل نہیں ہوتا مگر ہر قاتل کے ذہن کو بھی جرم سے پہلے روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ حدود درکار ہوتی ہیں۔
ہمیں اپنی گلیوں سے لے کر اپنے گھروں تک ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں عورت کو دیکھنا اور اسے گھورنا دو الگ چیزیں سمجھی جائیں جہاں بات کرنا اور تنگ کرنا دو مختلف چیزیں سمجھی جائیں جہاں محبت اور زبردستی کے درمیان واضح لکیر ہو جہاں رشتہ اور ملکیت الگ الگ مفہوم رکھیں اور جہاں کسی انسان کے انکار کو اس کی آزادی کا حق سمجھا جائے۔ ہمیں اپنے بیٹوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق صرف مرد کو حاصل نہیں۔ اسی طرح بیٹیوں کو یہ یقین دینا ہوگا کہ اگر کوئی ان کی حدود پامال کرے تو انہیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں۔
آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے جہاں سے یہ کالم شروع ہوا تھا
بھروسہ
انسان بھروسے کے بغیر زندہ تو رہ سکتا ہے مگر سکون سے نہیں جی سکتا۔ ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتی ہے تو بھروسہ کرتی ہے کہ وہ محفوظ واپس آئے گا۔ عورت اپنے گھر میں رہتی ہے تو بھروسہ کرتی ہے کہ گھر کی چار دیواری اس کے لیے پناہ ہے۔ بچہ کسی رشتہ دار کے گھر جاتا ہے تو بھروسہ کرتا ہے کہ وہاں اسے محبت ملے گی۔ دوست دوست پر بھروسہ کرتا ہے اور خاندان اپنے رشتوں پر۔ اگر ہم نے اس بنیادی انسانی بھروسے کو ہی کھو دیا تو ہر دروازہ شک کی علامت بن جائے گا اور ہر رشتہ سوال بن جائے گا۔
ہمیں ایسا معاشرہ نہیں چاہیے جہاں انسان اپنے ہی رشتہ دار سے خوفزدہ ہو بلکہ ایسا معاشرہ چاہیے جہاں رشتے واقعی حفاظت کی علامت ہوں۔ مگر اس کے لیے اندھا بھروسہ بھی نہیں چاہیے بلکہ شعوری بھروسہ چاہیے۔ ایسا بھروسہ جس کے ساتھ حدود کا احترام ہو ایسا بھروسہ جس کے ساتھ قانون ہو ایسا بھروسہ جس کے ساتھ تربیت ہو ایسا بھروسہ جس کے ساتھ عورت اور بچے کی آواز کو سننے کی عادت ہو اور ایسا بھروسہ جس میں مذہب محض شناخت نہ ہو بلکہ کردار بن جائے۔
سرجانی ٹاؤن کے گھر میں جو کچھ ہوا وہ اب صرف ایک گھر کی کہانی نہیں رہا۔ اس واقعے نے ہمارے سامنے کئی سوال رکھ دیے ہیں۔ ایک عورت کتنی محفوظ ہے۔ ایک بچہ کتنا محفوظ ہے۔ ایک گھر کتنا محفوظ ہے۔ ایک رشتہ کتنا محفوظ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کسی انسان کا بھروسہ ٹوٹنے لگے تو وہ مدد کے لیے کس دروازے پر دستک دے۔
ان سوالوں کے جواب صرف حکومت پولیس یا عدالت سے نہیں ملیں گے۔ ان کا کچھ حصہ ہمارے گھروں میں ہے کچھ ہماری تربیت میں ہے کچھ ہماری گلیوں میں ہے کچھ ہماری زبان میں ہے اور کچھ ہماری خاموشی میں۔
کیونکہ معاشرہ صرف بڑے جرائم سے نہیں ٹوٹتا۔ معاشرہ اس وقت بھی ٹوٹتا ہے جب ایک عورت ہراساں ہو اور لوگ تماشائی بنے رہیں جب ایک لڑکی بلیک میل ہو اور خاندان اسے خاموش کرا دے جب کوئی شخص کسی کی عزت کو کھیل سمجھے اور ہم اسے معمولی بات کہہ کر گزر جائیں۔
اور شاید آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اسی ایک سوال کی ہے
کیا ہم نے اپنے معاشرے میں بھروسہ پیدا کرنا چھوڑ دیا ہے یا ہم نے بھروسے کے معنی ہی بھلا دیے ہیں
مزید پڑھیں





