کسی انسان کو مارنے کے لیے ہمیشہ ہاتھ اٹھانا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی ایک جملہ کافی ہوتا ہے۰۰کبھی ایک نظر۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں مگر عزتِ نفس پر لگنے والی چوٹ انسان کو اندر ہی اندر بدل دیتی ہے۔
ہم نے معاشرے میں کامیابی کا معیار عجیب بنا لیا ہے۔ جس کے پاس دولت ہے، اسے عزت ملتی ہے جس کے پاس اختیار ہے، اس کی غلطی بھی حکمت کہلاتی ہے اور جو کمزور ہے، اسے ہر محفل میں اپنی حیثیت ثابت کرنا پڑتی ہے۔ ہم انسان کو سمجھنے سے پہلے اس کی جیب اور لباس دیکھتے ہیں۔
کسی غریب کی مدد کرکے اسے بار بار یاد دلانا، کسی ملازم کو سب کے سامنے ذلیل کرنا، کسی رشتہ دار کی مجبوری کو گفتگو کا موضوع بنانا یا کسی کے ماضی کو اس کے خلاف استعمال کرنا، یہ سب بظاہر معمولی رویے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک انسان کی عزتِ نفس دفن ہو رہی ہوتی ہے۔
تکلیف دہ وہ رشتے ہیں جہاں محبت کے نام پر انسان کو خاموشرہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جہاں ہر اختلاف بدتمیزی، ہر سوال گستاخی اور ہر احتجاج ناشکری قرار پاتا ہے۔ ایسے ماحول میں انسان آہستہ آہستہ بولنا اور محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
عزتِ نفس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بات پر ناراض ہوں یا خود کو دوسروں سے برتر سمجھیں۔ اصل خودداری یہ ہے کہ انسان اپنی حدود پہچانے اور دوسروں کا احترام کرے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں باوقار ہونا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ کسی کے آنسوؤں پر ہنسنا بہادری نہیں، اور کسی کو جھکا دینا طاقت نہیں۔
کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں بڑے گھر اور اونچی عمارتیں ہوں مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں کسی انسان کو اپنی عزت بچانے کے لیے خاموش نہ ہونا پڑے۔
مزید پڑھیں






